پاکستان

پاکستان میں دہشت گردی کولگام دی جاسکتی ہے اورملک وبچایا جاسکتاہے

ashura-carnage

 

کراچی میں یوم عاشورہ کے جلوس پردہشت گردوں کے حملے اوراس کے بعد کی صورت حال بدستورعلاقائی ذرائع ابلاغ کی شہ سرخیوں ميں ہے کراچی کے بارے میں عام خیال یہی تھا کہ سن دوہزارسات میں بے نظیربھٹوکے استقبالیہ جلوس پرہونےوالے دہشت گردانہ حملے کوچھوڑکریہ شہرپرامن ہے مگردہشت گردوں نے عوام کے تصورات اورامیدوں پرپانی پھیرتے ہوئے ایک بارپھر اپنی یزیدیت اوربربریت کا ثبوت پیش کیا ان دہشت گردوں نے ایسے لوگوں پرحملہ کیا جوکائنات عالم کی

 سب سے زیادہ مظلوم وصابرشخصیت حضرت سرکارسیدالشہداء اوران کے جانثاروں کی یاد میں نوحہ وماتم کررہے تھے ان دہشت گردوں نے اپنےپیشرويزیدوں کی ہی پیروی کرتے ہوئے عاشورہ کے تقدس کوپائمال کیا اوراپنے نجس ہاتھوں کوایک بارپھر بے گناہ ومعصوم عزاداروں کے خون سے رنگین کیا اب تک کی اطلاعات کے مطابق اس سانحہ میں43 عزاداران حسینی شہید اور 85 سے زائد زخمی ہوئے ۔ پاکستان کے اعلی حکام اورتمام سیاسی ومذہبی شخصیات کی طرف سے اس دہشت گردی کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے ۔ مظلوم کربلاکی بے مثال قربانی یاد میں نکالے گئے مرکزی جلوس عاشورہ پراس حملے نے پورے پاکستان کوسوگواربنادیا ۔ دھماکہ اتناشدید تھا کہ آس پاس کی کئی گاڑیوں کوجوبیشترپولیس اوررینجرزکی تھیں بری طرح کانقصان پہنچا دھماکے بعدہرطرف افراتفری لوگ سراسیمگی کے عالم میں اپنے عزیزوں کوتلاش کررہے تھے جبکہ رضاکاراورجلوس عزامیں موجود غزاداران حسینی شہداء کے لاشے اٹھارہے تھے اورزخمیوں کواسپتالوميں منتقل کررہے تھے ۔جلوس عزاکے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ عاشورہ سے ایک دن پہلے ہی جب کراچی کے پاپوش علاقے میں بم دھماکے ہوئے تھے تواس کے پیش نظرانتظامیہ اورپولیس کوپہلے سے بھی زیادہ چوکنا ہوجانا چاہئے تھا جہاں تک دہشت گردی کا تعلق ہے توبلاشبہہ اس وقت پورا پاکستان اس کی لپیٹ میں ہے آج پاکستان کا کوئی علاقہ دہشت گردوں کی پہنچ سے محفوظ نہيں ہے اس کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتاہے کہ ملک کی سرحدوں اورسالمیت کے تحفظ کی ذمہ دار فوج کے سب سے بڑے ادارے پربھی دہشت گردوں نے حملہ کردیا اوراس پرکئی گھنٹوں تک اپنا قبضہ بعض علاقوں پرہی سہی جمائے رکھا مگراس پوری صورت حال کے پیش نظرجوسوال سب سے زیادہ آج لوگوں کی زبانوں پرہے وہ یہ کہ آج سے پچیس یاتیس سال پہلے سے جب سے پاکستان میں ایک خاص مسلک یعنی فقہ جعفری سے تعلق رکھنےوالے مسلمانوں کے مقدس مقامات امامبارگاہوں مجالس اورجلوس ہائے عزا پردہشت گردانہ حملے ہوتے تھے تواس وقت اگرحکومت اس کا سنجیدگی سے نوٹس لیتی توکیا آج دہشت گردوں میں اس بات کی جرائت ہوتی کہ وہ جی ایچ کیوپربھی حملہ کردیتے؟ یقینی طورپرپاکستان میں ایسے لوگوں کی تعداد کم نہيں ہے جن کا یہی کہنا ہے کہ اگرتین عشرے قبل سے ہی جب شیعہ مسلمانوں کےمذہبی پروگراموں پردہشت گردانہ حملے ہوتے تھے اسی وقت حکومت حرکت میں آجاتی توآج دہشت گردی پورے پاکستان کواپنے لپیٹ میں نہ لیتی ۔عزاداران حسینی اورشیعہ مسلمانوں کے مقدس مقامات پرحملہ اوراسی طرح ماضی اورحال میں بھی شیعہ ڈاکٹروں اورشخصیتوں کی ٹارگیٹ کلنگ کے پیچھے ان عناصرکا ہاتھ ہے جوپورے عالم اسلام میں شیعہ مسلمانوں کے خلاف ایک منظم گھناؤنی مہم چلارہے ہيں ۔ اس کے پیچھے امریکہ صہیونی حکومت اورسعودی عرب جیسی حکومتوں کا ہاتھ صاف دیکھا جاسکتا ہے ۔ جب ہم عرا ق کے مختلف شہروں میں شیعہ مسلمانوں کے انتہائي مقدس مقامات پر جن کا مسلمانوں کا ہرفرقہ احترام کرتا ہے جن میں کربلائے معلی نجف اشرف اورسامراء وکاظمین میں آئمہ اطہارکے روضہ ہائے اقدس واقع ہيں ان دہشت گردوں کے حملوں کودیکھتے ہیں جنھیں امریکہ کی سیاسی وفوجی اورسعودی عرب کی بھرپورمالی حمایت حاصل ہے اوراس کے بعدپاکستان میں بھی گذشتہ تین عشروں سے جلوس ہائے عزاوامامبارگاہوں پردہشت گردوں کے بہمیانہ اقدامات کا ارتکاب کرنےوالوں کے سعودی عرب سے وابستگی کا مشاہدہ کرتے ہيں تواس میں کسی کوبھی شک وشبہہ میں مبتلانہيں رہنا چاہئے کہ مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیداکرنے کا جومنصوبہ برطانیہ امریکہ اورصہیونی حکومت نے بہت پہلے سے تیارکررکھا ہے اس پرسعودی عرب پوری طرح سے کام کررہاہے ۔ کیا پاکستان کے عوام ٹیلی ویژن کے پردے پران سعودی باشندوں کے اعتراف کوبھول سکتے ہیں جنھوں نے سترہ کروڑعوام کے سامنے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ وہ صوبہ سرحد اورقبائلی علاقوں میں وہابیت اورشدت پسندی کے رجحانات کوبڑھاوادینے کے لئے یہاں بھیجے گئے تھے ؟گذشتہ روزشہداء کراچی کے نمازجنازہ کے موقع پرسوگواروں نے سامراجی طاقتوں کی انہی سازشوں کوبھانپتے ہوئے امریکہ مردہ باد اسرائیل مردہ باد اوریزیدیت مردہ باد کے نعرے لگاکراسلام دشمن طاقتوں سے اپنی نفرت وبیزاری کا اظہارکیاتھا ۔عزاداران سید الشہداء پرگذشتہ کئی عشروں سے ہونےوالے حملوں کامقصد جہاں شیعہ وسنی مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیداکرنارہا ہے وہيں یزیدی صفت جلادوں کی یہ بھی کوشش رہی ہے کہ ظلم کے خلاف آوازبلندکرنےوالی ان عزاداریوں کوجیسے بھی ہوختم کیا جائے مگرچودہ صدیوں سے امام عالیمقام کی عزاداری کا جوسلسلہ دربارظلم وستم یزید ملعون کے محل سے اہل حرم اوراسیران کربلانے شروع کی تھی وہ آج بھی پوری قوت کےساتھ جاری ہے ۔ امام حسین کی عزاداری صرف مظلوموں پرآنسوبہانے کانام نہیں ہے بلکہ یہ محرم وصفراورعزاداری ہردورکے ظالموں کے خلاف مظلوموں کی فریاد ہے اوراس بات کا اعلان ہے کہ ظالم اپنی تمام ترقوتوں کے باوجود کبھی بھی مظلوموں پرفاتح نہيں ہوسکے گا ۔ عزاداری سید الشہداء ہردورکے سامراج کے خلاف اعلان جنگ ہے جس طرح سے اسیران کربلانے سن اکسٹھ ہجری میں اموی سامراج کےظلم وستم کی کلائی موڑکے رکھ دی تھی اسی طرح آج مکتب حسینیت کے پیروبھی امریکہ برطانیہ اورصہیونی حکومت جیسی سامراجی طاقتوں کے جھوٹے بھرم کوخاک میں ملارہے ہيں ۔ امام حسین علیہ السلام کے پیروؤں نے ہی ایران میں ڈھائی ہزارسالہ شہنشاہیت کی بساط ہمیشہ ہمیشہ کے لئے لپیٹ دی تھی جسے ہردورکی سامراجی طاقتوں کی حمایت حاصل تھی ۔لبنان ميں حسینی مشن کے راہیوں نے دنیا کی پانچویں سب سے بڑی فوج کہلانے والی صہیونی فوج کوایسی شرمناک شکست دی کہ اس شکست کے جھٹکےسے اس غاصب حکومت کی بنیادیں آج بھی لرزرہی ہيں ۔اسی طرح آج سے ٹھیک ایک سال پہلے غزہ میں فلسطینی جیالوں نے راہ حق وحقیقت پربھروسہ کرتے ہوئے بائیس دنوں تک سامراجی طاقتوں کا ڈٹ کرمقابلہ کیا نتیجے میں صہیونی حکومت انتہائي ذلت آمیزطریقے سے پسپائی اختیارکرنی پڑی القصہ یہ کہ آج جہاں بھی حریت پسندانہ تحریکیں جاری ہيں وہاں کربلاکے بہترشہیدوں کا پیغام پوری قوت کے ساتھ کارفرماہے یہی وجہ ہے کہ سامراجی طاقتوں کی نظرمیں جوچیزسب سے زیادہ کھٹک رہی ہے وہ عاشورہ اورعزاداری ہے اسی لئے عراق ہویا پاکستان یا یمن ہرجگہ عزاداری اورعزاداروں کوہی نشانہ بنایا جارہا ہے اب اگرایسے میں پاکستان کے وزیرداخلہ رحمن ملک کی طرف سے یہ بیان سامنےآجائے کہ عزاداری کومحدودیا ختم کردینا چاہئے تواس پرمسلمانوں اورحسینی مکتب کے جیالوں کا برہم ہونا ایک فطری امرہے کیونکہ ان کا یہ بیان نہ عمدایاسہواہی سہی اسلام دشمن طاقتوں اوردہشت گردوں کی مرضي کے عین مطابق ہے اس لئے پاکستان کے ذمہ دارحکام کوایسے حساس مواقع پرجب پوراملک دہشت گردی کی لپیٹ میں اپنے بیانات دینے سے پہلے اس کی نزاکت کا اندازہ لگالینا چاہئے ۔کراچی میں عاشورہ کے مرکزی جلوس پردہشت گردی سے جہاں ابھی بھی پورا ملک سوگ میں ہے وہيں ایک بات جوکھل کرسامنےآئی ہے وہ یہ کہ دہشت گردوں نے مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیداکرنے کے لئے جوبربریت انجام دی تھی وہ اپنے مقصد میں ناکام رہے ہيں کیونکہ اس حملے کی تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں نے نہ صرف کھل کرمذمت کی ہے بلکہ شہداء کے جلوس جنازہ میں جس طرح سے ہرمسلک کے عمائدین نے شرکت کی اس یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ پاکستان میں اتحاد وبھائي چارہ کی جڑیں بہت گہری ہیں مگراس اتحاد کوبچانے کے لئے سب کوآگے آناہوگا ۔ تاکہ اب عاشورہ کے دن عاشورہ کے تقدس کواس طرح پائمال نہ کیا جاسکے اوراتحاد ہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعہ آج پاکستان میں دہشت گردی کولگام دی جاسکتی ہے اورملک وبچایکا جاسکتاہے

 

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close