پاکستان

شیعہ علماء اور تنظیموں کے وفد کی گورنر سندھ سے ملاقات

6

کراچی کی تمام شیعہ تنظیموں اور علمائے کرام نے سانحہ عاشورا کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر گورنر سندھ سے ملاقات کی ۔ملاقات میں تمام شیعہ تنظیموں سمیت علمائے کرام اور شخصیات نے شرکت کی ،ملت جعفریہ کے وفد نے جعفریہ الائنس پاکستان کے سربراہ سینیٹر علامہ عباس کمیلی کی سربراہی میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان سے ملاقات کی ،ملت جعفریہ کے وفد میں مجلس وحدت مسلمین کے مولانا حسن ظفر،آل پاکستان شیعہ ایکشن کمیٹی کے مولانا مرزا یوسف حسین،مجلس ذاکرین امامیہ کے علامہ فرقان حیدر عابدی،مرکزی تنظیم عزا کے سلمان مجتبی ،شبر رضا اور امامیہ اسٹوڈنٹس

 آرگنائزیشن کرچی کے ڈویژنل صدر ذین انصاری سمیت دیگر نے شرکت کی ،واضح رہے کہ سانحہ عاشورا کے بعد شہر میں پیدا ہونے والی سیاسی و مذہبی صورتحال کے حوالے سے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے اجلاس بلایا تھا ،اجلاس ڈھائی سے تین گھنٹے تک جاری رہا،اجلاس میںشہر کی صورتحال پر غور کیا گیا اور ملت جعفریہ کے وفد نے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان سے مطالبہ کیا کہ سانحہ عاشورا کے پیچھے ملوث عناصر کو فی الفور بے نقاب کیا جائے اور قرار واقعی سزا دی جائے جبکہ ملت جعفریہ کے وفد نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ سانحہ عاشورا کے بعد شہر بھر میں بے گناہ شیعہ نوجوانوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے اسے فی الفور روکا جائے اور جو اصل عناصر ہیں ان کے خلاف کوئی مؤثر کاروائی عمل میں لائی جائے ،وفد نے گورنر سندھ کو واضح کیا کہ اگر ملت جعفریہ کے بے گناہ اسیروں کو فی الفور رہا نہ کیا گیا تو ملت جعفریہ ملک بھر میں جیل بھرو تحریک کا اعلان کرے گی اور تمام تر حالات کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی،اس موقع پر گورنر سندھ نے شیعہ علمائے کرام کا آمد پر شکریہ ادا کیا اور اپنے ہر ممکنہ تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے اس بات کا بھی یقین دلایا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ جلد از جلد سانحہ عاشورا کے اصل مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچائے ،گورنر سندھ نے شیعہ علمائے کرام کے کردار کو سراہا کہ انہوں نے اس نازک موقع پر ملت کو صبر کی تلقین کی اور پاکستان کو بڑے نقصان سے بچا لیا۔

 

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close