پاکستان

شیعہ علماء اور عمائدین کی ہوم سیکریٹری سندھ اورناظم کراچی سے الگ الگ ملاقاتیں۔اہم امور پر تبادلہ خیال

sindh

کراچی۔آج صبح شیعہ علماء اور رہنماؤں نے جعفریہ الائنس پاکستان کے سربراہ سینیٹر علامہ عباس کمیلی کی قیادت میں ہوم سیکریٹری سندھ عارف خان سے ملاقات کی ،ملاقات میں جعفریہ الائنس پاکستان کے سربراہ سینیٹر علامہ عباس کمیلی ،آل پاکستان شیعہ ایکشن کمیٹی کے رہنما مولانا مرزایوسف حسین،ہئیت آئمہ مساجد کے رہنما مولانا حسین مسعودی،مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے رہنما مولانا مختار امامی،مرکزی تنظیم عزاء کے سلمان مجتبیٰ،شبر رضا اور دیگر نے شرکت کی،جمعہ کی صبح ہوم سیکریٹری سندھ سے ہونے والی ملاقات میںہوم سیکریٹری سندھ عارف

 خان،سی سی پی او کراچی وسیم احمد ،ڈپٹی ڈی جی رینجرز جاویدکے علاوہ ایس پی امین یوسف زئی بھی شریک تھے۔ملاقات میں جعفریہ الائنس پاکستان کے سر براہ علامہ عباس کمیلی نے حکومت کو سانحہ عاشورا کے بعد شہر بھر میں شیعہ بے گناہوں کی گرفتاریوں پر ملت جعفریہ کے خدشات سے آگاہ کیا اور کہا کہ حکومت کو چاہئیے کہ سانحہ عاشورا کے اصل مجرموں کو جلد از جلد گرفتار کرے اور قرار واقعی سزا دی جائے ان کا کہنا تھا کہ انتہائی افسوس ناک صورتحال یہ ہے کہ پولیس سانحہ کے اصل مجرموں کو گرفتار کرنے کی بجائے ملت جعفریہ کے بے گناہ نوجوانوں کو بلا جواز گرفتار کر رہی ہے جو کہ قابل شرم اور قابل مذمت فعل ہے انہوں نے کہا کہ سانحہ عاشورا کے بعد اب واضح ہو چکا ہے کہ بم دھماکے کے بعد ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت لوٹ مار اور جلاؤگھراؤ کا مقصد صرف اور صرف مملکت خداد پاکستان کو کمزور اور عدم استحکام کی جانب دھکیلنا تھا اور انہوں نے واضح کیا کہ اب تو یہ بھی اطلاعات مل رہی ہیں کہ لوٹا ہوا مال بھی انہی علاقوں میں موجود ہیں جہاں منظم طور پر جلاؤ گھراؤ اور لوٹ مار کی گئی مگر اس کے باوجود بھی پولیس شیعہ بے گناہ جوانوں کو گرفتار کر رہی ہے جو کہ سمجھ سے بالا تر ہے،انہوں نے ہوم سیکریٹری سندھ کو متنبہ کیا کہ اگر ملت جعفریہ کے بے گناہ نو جوانوں کو فوری طور پر رہا نہ کیا گیا اور سانحہ کے اصل مجرموں کی گرفتاری عمل میں نہ لائی گئی تو ملت جعفریہ احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہے اور اب ملت جعفریہ خاموش نہیں بیٹھے گی بلکہ ملک گیر احتجاج ہو گا اور تمام تر سنگین حالات کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی۔سربراہ جعفریہ الائنس پاکستان نے مطالبہ کیا کہ سانحہ عاشورا جن ذمہ داروں کی لاپرواہی کی وجہ سے ہوا ان کو بھی باقاعدہ انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور ان کا بھی احتساب کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ جو عناصریہ باتیں کر رہے ہیں کہ جلوس عزاء کے راستوں کو تبدیل کر دیا جائے تو یہ بات جان لیں کہ عزاداری کسی صورت نہ رکی ہے اور نہ ہی رکے گی اور جن راستوں سے جلوس گزرتا تھا انہی راستوں سے ہی گزرے گا،انہوں نے کہا کہ آج تو پورے ملک میں دہشت گردی ہو رہی ہے کیا پورے ملک کو بند کر دیا جائے؟اس موقع پر ہوم سیکریٹری سندھ نے علامہ عباس کمیلی اور وفد کو یقین دہانی کروائی کے ملت جعفریہ کی شکایات کا ازالہ کیا جائے گا اور عزاداری کے تحفظ کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں گے،جبکہ سی سی پی او کراچی وسیم احمد کا کہنا تھا کہ پولیس نے بہت بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے اور قوم کے سامنے انشا اللہ دو سے تین روز میں سانحہ کے اصل مجرموں کا چہرہ بے نقاب کر دیا جائے گا اور سانحہ کراچی کے اصل مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچا کر ہی دم لیں گے ،انہوں نے مزید کہا کہ شیعہ بے گناہ نوجوانوں کی گرفتاریوں کے حوالے سے میں خود نوٹس لوں گا اور اگر کوئی بھی بے گناہ پولیس کی حراست میں ہے اس کو فوری طور پر رہا کر دیا جائے گا۔اور انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ آئندہ اس طرح کی شکایات موصول نہیں ہوں گی۔ دریں اثنا شیعہ علمائے کرام اور عماءدین کے فد نے ایک روز قبل ناظم کراچی مصطفی کمال سے بھی ملاقات کی اور شہر کی صورتحال پر خصوصی تبادلہ خیال کیا اس موقع پر سربراہ جعفریہ الائنس نے سٹی ناظم سے مطالبہ کیا کہ سانحہ عاشورا کی جگہ پر شہداء عاشورا  کی یاد گار تعمیر کی جائے اور نشتر پارک میں ایک مین دروازے کو شہدائے عاشور کے نام سے جبکہ دوسرے مین دروازے کو شہدائے نشتر پارک کے نام سے موسوم کیا جائے ،اس موقع پر ناظم کراچی نے ملت جعفریہ کے وفد کو اپنے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی ،واضح رہے کہ وفد نے سربراہ جعفریہ الائنس پاکستان سینیٹر علامہ عباس کمیلی کی سربراہی میں ناظم کراچی کی دعوت پر ملاقات کی وفد میں علامہ عباس کمیلی کے علاوہ علامہ باقر زیدی،عمولانا حسین مسعودی،سلمان مجتبیٰ اور دیگر نے شرکت کی۔

 

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close