پاکستان

بریگیڈئر ریٹائرڈ امتیاز احمد: طالبان امریکہ کی پیداوار ہیں


taliban

02.12.2009 پاکستانی خفیہ ایجنسی انٹیلیجنس بیورو کے سابق سربراہ بریگیڈئر ریٹائرڈ امتیاز احمد کے مطابق طالبان امریکہ کی پیداوار ہیں اور ’طالبان کا جن بوتل سے امریکہ نے نکالا تھا تاکہ اس خطے پر اپنی گرفت مضبوط کر سکے۔ پاکستانی خفیہ ایجنسی انٹیلیجنس بیورو کے سابق سربراہ بریگیڈئر ریٹائرڈ امتیاز احمد کے مطابق طالبان امریکہ کی پیداوار ہیں اور ’طالبان کا جن بوتل سے امریکہ نے نکالا تھا تاکہ اس خطے پر اپنی گرفت مضبوط کر سکے‘۔بریگیڈئر ریٹائرڈ امتیاز احمد کا کہنا ہے کہ موجودہ وزیرِداخلہ رحمان ملک اور سابق وزیرِداخلہ جنرل نصیر اللہ بابر امریکی ایماء پر افغانستان میں اس اسلامی تحریک کی داغ بیل ڈالنے گئے تھے۔ اس سوال کے جواب میں کہ طالبان کے خالق تو پاکستان کے اس وقت کے وزیر داخلہ نصیراللہ بابر کو سمجھا جاتا ہے ستر سالہ بریگیڈئر امتیاز نے واضح کیا کہ وہ اور رحمان ملک اس وقت کی سیاسی حکومت کے دور میں اکثر افغانستان جاتے رہے تھے۔’ لیکن وہ( رحمان ملک اور نصیر اللہ بابر) امریکی ایماء پر، اس کے علم میں ہوتے ہوئے اور ان کی رضامندی سے جاتے رہے۔ میں اتنا کہہ سکتا ہوں کہ وہ شاید ہدایات لے کر وہاں جاتے ہوں تاکہ وہاں کیا کیا اہداف یا ہدایات دینی ہیں۔ وہ امریکی ایماء پر ہی ایسا کر رہے تھے‘۔وہ( رحمان ملک اور نصیر اللہ بابر) امریکی ایماء پر، اس کے علم میں ہوتے ہوئے اور ان کی رضامندی سے جاتے رہے۔ میں اتنا کہہ سکتا ہوں کہ وہ شاید ہدایات لے کر وہاں جاتے ہوں تاکہ وہاں کیا کیا اہداف یا ہدایات دینی ہیں۔ وہ امریکی ایماء پر ہی ایسا کر رہے تھے۔جب بریگیڈئر امتیاز سے دریافت کیا گیا کہ آیا یہ سب کچھ ان کی ذاتی رائے تھی یا خفیہ اداروں کی تو ان کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت خفیہ ادارے میں تھے ان کے پاس معلومات بھی تھیں اور ’کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو خود بولتی ہیں۔ لیکن جو کچھ میں کہہ رہا ہوں میں مطمئن ہوں کہ وثوق سے بول رہا ہوں‘۔بریگیڈئر امتیاز کے مطابق امریکہ طالبان کو حکومت کا موقع دے کر انہیں نااہل ثابت کروانا چاہتا تھا۔ ’ان کو معلوم تھا کہ طالبان کا سخت گیر رویہ کسی کو قابل قبول نہیں ہوگا۔ وہ بہت زیادہ انتہا پسند اور غیرفطری سوچ کے حامل تھے۔ وہ حکومت زیادہ دن نہیں چلاسکیں گے‘۔لیکن ایک سوال کے جواب میں کہ وہ اس وقت بھی تو حامد کرزئی جیسی کسی شخصیت کو افغانستان لا سکتے تھے، بریگیڈئر امتیاز کا کہنا تھا کہ امریکہ نے جنیوا معاہدے کے بعد اس خطے پر مسلط ہونے کا منصوبہ تیار کر لیا تھا جس میں حامد کرزئی ان کے ’ٹروجن ہارس‘ تھے۔ ’ اگر انہیں ابتداء میں لایا جاتا تو شاید وہ زیادہ دیر نہ چل پاتے‘۔اس مبینہ امریکی منصوبے پر روشنی ڈالتے ہوئے، ان کا کہنا تھا کہ سات مجاہدین جماعتوں کے اتحاد کو ناکام بھی پہلے امریکہ نے کروایا اور پھر طالبان کی شکل میں پیادہ جگجوؤں کو بھی انہوں نے فیل کروایا تاکہ اپنے منصوبوں کو کامیاب کرسکیں۔ ’ان دونوں کی موجودگی میں حامد کرزئی تو کچھ نہیں کرسکتے تھےحامد کرزئی کے سی آئی اے کے ڈائریکٹر ویلیم کیسی کے ساتھ تعلقات تھے اور اب بھی ہیں۔ حامد کرزئی کے بھائی کے بھی جارج بش سے قریبی تعلقات ہیں۔ یہ ٹروجن ہارس موجود تھا صرف اسے لانے کا مناسب وقت چاہیے تھا۔ حامد کرزئی نے شملہ میں چار سال تعلیم حاصل کی۔ آج افغانستان میں جتنے بڑے تعمیر نو کے منصوبے ہیں وہ بھارت کے پاس ہیں۔ ان منصوبوں پر تقریبا چار سو انجینئر کام کر رہے ہیں جن کی حفاظت کے لیے ساڑھے چار ہزار بھارتی تعینات ہیں۔ میرا یقین ہے کہ ان میں سے آدھی فورس را آپریٹ کر رہی ہے‘۔بریگیڈئر امتیاز نے انکشاف کیا کہ جب وہ آئی ایس آئی میں تعینات تھے اور جنرل مشرف جی ایچ کیو کی ایم ایس برانچ میں تھے تو انہوں (امتیاز) نے ہرے پال پوائنٹ پین کے ساتھ صدر مشرف کے بارے میں ایک مشاہدہ ریکارڈ کیا تھا کہ وہ ’ہائیلی انٹرو ورٹ اینڈ ڈینجرسلی ایمبیشئس شخص ہیں جو اعلی عہدوں پر فائز ہونے کے لیے شاید مناسب نہیں ہیں‘۔آخر امریکہ کا مقصد کیا ہے اس خطے میں؟ اس بارے میں بریگیڈئر امتیاز کا کہنا تھا کہ وہ افغانستان پر مکمل قبضہ اور بھارت کو علاقائی طاقت بنا کر پاکستان کی اہمیت ختم کرنا چاہتا ہے اور اس سے بچاؤ کے لیے اس ملک کو ایک اعلی صلاحیت کی حامل قیادت کی ضرورت ہے۔کیا موجودہ خفیہ اداروں کے پاس اس مبینہ امریکی منصوبے کو ناکام بنانے کی صلاحیت موجود ہے؟ جواب میں ان کا الزام تھا کہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے تمام اداروں کو نقصان پہنچایا جن میں وہ بھی شامل تھے جو ملکی سلامتی کے ذمہ دار تھے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close