پاکستان

سانحہ یوم عاشور اور خون ناحق کو چھانے کی کوششیں


ashurabombblast

 

کراچی میں یوم عاشور پر ہونے والے حملے میں دسیوں بیگناہ افراد کو جس شقاوت کے ساتھ ٹکڑے ٹکڑے کیا گيا اس نے کربلا والوں کی مظلومیت اور بے کسی کو ایک بار پھر ان کے چاہنے والوں پر عیاں کردیا ۔ کراچی کے شہدا کے جنازے ان کے عزيز اقارب نے تو اٹھالئے اور انہیں نہایت عزت و احترام کے ساتھ دفنا دیا گیا لیکن کربلاوالوں کے جنازے مدتوں بے گور و کفن پڑے رہے ۔یقینا” یوم عاشور پر شہید ہونے والے، کراچی کے عزاداروں اور ان کی حفاظت و انتظامات پر مامور افراد کا اجر و پاداش یقینا” اللہ کے ہاں محفوظ ہے اور دھماکہ میں ملوث افراد یقینا” روز محشر یزيد کے ساتھ محشور ہونگے ۔یوم عاشور پر جلوس عزا میں دھماکے کے بعد جو صورتحال بنی اور دھماکے میں شہید ہوجانے والوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرنے کی بجائے ہمدردیوں کا سارا رخ تاجروں اور دکانداروں کی موڑدیا گيا وہ ایک ایسا عجیب واقعہ ہے کہ جس کی مثال نہیں ملتی اور اب اس معاملے کو سردخانے میں ڈالنے کی کوششوں کے ذریعے شہدا کے ورثا اور متاثرین کے زخموں پر نمک پاشی کی جارہی ہے ۔اطلاعات کے مطابق پاکستان کے قومی سلامتی کے اداروں نے یوم عاشور کے جلوس میں ہونے والے بم دھماکے میں نام نہاد جہادی تنظیموں کے ملوث ہونے کوخارج از امکان قرار دے دیا ہے جبکہ پولیس کی تفتیشی ٹیم دھماکے میں ایسی ہی ایک تنظیم کو ملوث ہونے کا عندیہ دے رہی ہے جس کے نتیجہ میں کیس کے جوائینٹ انویسٹی گیشن میں جانے کے بعد اختلافات کی وجہ سے سرد خانے کی نظر ہونے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں ۔ بعض ذرائع کے مطابق دھماکے کو رینجرز کے ذریعے خود کش قرار دے کر جہادی تنظیموں کو ملوث کرنے کی کوشش کی گئی جو کامیاب نہیں ہوسکی۔ اب پولیس کی تفتیش مکمل ہونے سے قبل ہی بعض ذمہ دار شخصیات کی جانب سے اس دھماکے میں کالعدم لشکر جھنگوی یا سپاہ صحابہ کے ملوث ہونے کے بیانات سے محسوس ہوتا ہے کہ پولیس واقعہ میں کسی جہادی تنظیم کے ملوث ہونے کا دعویٰ کرے گی۔ ذرائع کے مطابق قومی سلامتی کے اداروں نے یوم عاشور کے جلوس میں ایم اے جناح روڈ پر ہونے والے بم دھماکے کے بارے میں جو رپورٹ بھیجی ہے اس میں کہا گیا کہ بم دھماکے میں استعمال ہونے والی اشیاء اور طریقہ کار جہادی تنظیموں کا نہیں ہے بلکہ ایسے بم کراچی میں ماضی میں بھی استعمال کئے جا چکے ہیں۔ کراچی میں مختلف مقامات سے گرفتار ہونے والے طالبان اور نام نہاد جہادی تنظیموں کے کارکنوں سے جو گولہ بارود برآمد ہوا ہے وہ ایم اے جناح روڈ دھماکے سے بہت مختلف ہے اسی طرح بلدیہ ٹاوٴن میں طالبان کی کمین گاہ میں ہونے والے دھماکے اور وہاں سے ملنے والابارود بھی ایم اے جناح روڈ پر ہونے والے بم دھماکے سے بظاہر مختلف ہے ۔بہرحال دھماکہ چاہے جس کسی نے بھی کیا ہو، پچاس کے قریب انسانی جسم بکھرگئے اور کتنے ہی زخمی ہوئے ان بکھرے جسموں کو اگرچہ سمیٹ لیا گيا اورجس صبر و تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں ان سے وابستہ افراد، تنظیموں اور انجمنوں نے کراچی سمیت ملک کے دیگر علاقوں کو ایک بڑی خونریزي سے بچا لیا اس کا تقاضا تو یہ ہے کہ سیاسی وابستگیوں اور روایتی تساہلی سے دور رہتے ہوئے معاملے کی تہہ کو پہنچا جائے اور ذمہ دار عناصر کو بے نقاب کرکے قرار واقعی سزا دی جائے۔ اس لئے کہ بے گناہ انسانوں کو خاک و خوں میں غلطاں کرنے والوں نے دو جرم کئے ہیں ایک تو دیدہ و دانستہ 45 سے زائد افراد کا قتل اور پھر ان کے خون ناحق پر پردہ ڈالنے کے لئے مارکیٹوں اور دکانوں میں آتشزدگي کہ جس میں وہ میڈیا کے ذریعے کسی حدتک کامیاب بھی ہوگئے لیکن جسطرح کل یزید اپنی پروپیگنڈہ مشنری کے ذریعے اپنے جرم پر پردہ نہیں ڈال سکا، آج کی یزید قوتیں بھی اپنا جرم نہیں چھپا سکیں گي ۔

کراچی میں یوم عاشور پر ہونے والے حملے میں دسیوں بیگناہ افراد کو جس شقاوت کے ساتھ ٹکڑے ٹکڑے کیا گيا اس نے کربلا والوں کی مظلومیت اور بے کسی کو ایک بار پھر ان کے چاہنے والوں پر عیاں کردیا ۔ کراچی کے شہدا کے جنازے ان کے عزيز اقارب نے تو اٹھالئے اور انہیں نہایت عزت و احترام کے ساتھ دفنا دیا گیا لیکن کربلاوالوں کے جنازے مدتوں بے گور و کفن پڑے رہے ۔یقینا” یوم عاشور پر شہید ہونے والے، کراچی کے عزاداروں اور ان کی حفاظت و انتظامات پر مامور افراد کا اجر و پاداش یقینا” اللہ  کے ہاں محفوظ ہے اور دھماکہ میں ملوث افراد یقینا” روز محشر یزيد کے ساتھ محشور ہونگے ۔یوم عاشور پر جلوس عزا میں دھماکے کے بعد جو صورتحال بنی اور دھماکے میں شہید ہوجانے والوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرنے کی بجائے ہمدردیوں کا سارا رخ تاجروں اور دکانداروں کی موڑدیا گيا وہ ایک ایسا عجیب واقعہ ہے کہ جس کی مثال نہیں ملتی اور اب اس معاملے کو سردخانے میں ڈالنے کی کوششوں کے ذریعے شہدا کے ورثا اور متاثرین کے زخموں پر نمک پاشی کی جارہی ہے ۔اطلاعات کے مطابق پاکستان کے قومی سلامتی کے اداروں نے یوم عاشور کے جلوس میں ہونے والے بم دھماکے میں نام نہاد جہادی تنظیموں کے ملوث ہونے کوخارج از امکان قرار دے دیا ہے جبکہ پولیس کی تفتیشی ٹیم دھماکے میں ایسی ہی ایک تنظیم کو ملوث ہونے کا عندیہ دے رہی ہے جس کے نتیجہ میں کیس کے جوائینٹ انویسٹی گیشن میں جانے کے بعد اختلافات کی وجہ سے سرد خانے کی نظر ہونے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں ۔ بعض ذرائع کے مطابق دھماکے کو رینجرز کے ذریعے خود کش قرار دے کر جہادی تنظیموں کو ملوث کرنے کی کوشش کی گئی جو کامیاب نہیں ہوسکی۔ اب پولیس کی تفتیش مکمل ہونے سے قبل ہی بعض ذمہ دار شخصیات کی جانب سے اس دھماکے میں کالعدم لشکر جھنگوی یا سپاہ صحابہ کے ملوث ہونے کے بیانات سے محسوس ہوتا ہے کہ پولیس واقعہ میں کسی جہادی تنظیم کے ملوث ہونے کا دعویٰ کرے گی۔ ذرائع کے مطابق قومی سلامتی کے اداروں نے یوم عاشور کے جلوس میں ایم اے جناح روڈ پر ہونے والے بم دھماکے کے بارے میں جو رپورٹ بھیجی ہے اس میں کہا گیا کہ بم دھماکے میں استعمال ہونے والی اشیاء اور طریقہ کار جہادی تنظیموں کا نہیں ہے بلکہ ایسے بم کراچی میں ماضی میں بھی استعمال کئے جا چکے ہیں۔ کراچی میں مختلف مقامات سے گرفتار ہونے والے طالبان اور نام نہاد جہادی تنظیموں کے کارکنوں سے جو گولہ بارود برآمد ہوا ہے وہ ایم اے جناح روڈ دھماکے سے بہت مختلف ہے اسی طرح بلدیہ ٹاوٴن میں طالبان کی کمین گاہ میں ہونے والے دھماکے اور وہاں سے ملنے والابارود بھی ایم اے جناح روڈ پر ہونے والے بم دھماکے سے بظاہر مختلف ہے ۔بہرحال دھماکہ چاہے جس کسی نے بھی کیا ہو، پچاس کے قریب انسانی جسم بکھرگئے اور کتنے ہی زخمی ہوئے ان بکھرے جسموں کو اگرچہ سمیٹ لیا گيا اورجس صبر و تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں ان سے وابستہ افراد، تنظیموں اور انجمنوں نے کراچی سمیت ملک کے دیگر علاقوں کو ایک بڑی خونریزي سے بچا لیا اس کا تقاضا تو یہ ہے کہ سیاسی وابستگیوں اور روایتی تساہلی سے دور رہتے ہوئے معاملے کی تہہ کو پہنچا جائے اور ذمہ دار عناصر کو بے نقاب کرکے قرار واقعی سزا دی جائے۔ اس لئے کہ بے گناہ انسانوں کو خاک و خوں میں غلطاں کرنے والوں نے دو جرم کئے ہیں ایک تو دیدہ و دانستہ 45 سے زائد افراد کا قتل اور پھر ان کے خون ناحق پر پردہ ڈالنے کے لئے مارکیٹوں اور دکانوں میں آتشزدگي کہ جس میں وہ میڈیا کے ذریعے کسی حدتک کامیاب بھی ہوگئے لیکن جسطرح کل یزید اپنی پروپیگنڈہ مشنری کے ذریعے اپنے جرم پر پردہ نہیں ڈال سکا، آج کی یزید قوتیں بھی اپنا جرم نہیں چھپا سکیں گي ۔

 

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close