پاکستان

ہم عزاداری سید الشہداء کی بقاء کی خاطر ہر قسم کی قربانی دینے کیلئے تیار ہیں۔ملت جعفریہ کا عزم

4m1431

ہم عزاداری ئ سید الشہداء کی بقاء کی خاطر ہر قسم کی قربانی دینے کیلئے تیار ہیں۔چودہ سو برس سے ہمیں موت سے ڈرانے والے آج تک نہ سمجھ پائے کہ شہادتوں سے ہمارے حوصلوں کو ہمیشہ تقویت ملتی ہے ۔شہداء کا پاک لہو ان کے جسموں سے نکل کر اب جسمِ ملت کی رگوں میں دوڑ رہا ہے ۔شہدائے سانحہئ عاشورا نے کار حسینی انجام دیدیا اب ہم کارزینبی کی انجام دہی کیلئے تیار ہیں ۔اس سانحے کے اصل ذمہ دار امریکہ و اسرائیل ہیں کہ جو شیعہ و سنی مسلمانوں کے درمیان فسادات کروانے کے ایجنڈے پر کاربند ہیں ۔انتظامیہ صرف جلاؤ گھیراو کا رونا نہ رو ئے بلکہ بم

 دھماکے کی تحقیقات بھی کروائے اور اصل مجرموں کو سزا دی جائے۔جلاؤ گھیراو کے نام پر بے گناہ شیعہ نوجوانوں کی گرفتاری فی الفور بند کرے ورنہ پوری ملت جعفریہ سڑکوں پر آنے پر مجبور ہوگی۔ انتظامیہ اچھی طرح جان لے کہ نہ تو جلوس محدود ہوں گے اور نہ ہی کوئی روٹ تبدیل کیا جائے گا۔ شیعت نیوز کے نامہ نگار کے مطابق ان خیالات کا اظہار ملت جعفریہ کے علمائے کرام نے امروہہ گراؤنڈ میں منعقدہ ایک تعزیتی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مقررین میں ھئیت آئمہ مساجد و علمائے امامیہ پاکستان کے سربراہ مولانا شیخ محمد صلاح الدین ، جعفریہ الائنس کے سربراہ علامہ عباس کمیلی، شیعہ ایکشن کمیٹی کے سربراہ مولانا مرزا یوسف حسین، شیعہ علماء کونسل کے مولانا شہنشاہ نقوی اور ناظر عباس ،مجلس وحدت مسلمین کے مولانا علی مرتضیٰ زیدی ، مجلس ذاکرین امامیہ کے علامہ نثار قلندری اور علامہ آفتاب حیدر جعفری ، ممتاز علمائے کرام مولانا نذر الحسنین، مولانا باقر زیدی اور مولانا رجب علی بنگش شامل تھے ۔اسکے علاوہ خصوصی خطاب شہدائے سانحہئ عاشورا کے لوحقین اور مجروح ہونے والے مومنین نے کیا۔اسکے علاوہ ملی تنظیموں اور متمی انجمنوں کے علاوہ مرد و خواتین کی ایک بڑی تعداد جلسے میں موجود تھی۔جبکہ خصوصی شرکت خانودہ ئ شہدائے سانحہئ عاشورہ اور زخمی ہونے والے مومنین نے کی۔ شرکاء دوران ِ جلسہ مستقل لبیک یا حسین ؑ ،شہادت شہادت سعادت سعادت ، مردہ باد امریکہ ،مردہ باد اسرائیل ،شیعہ شنی اتحاد زندہ باد ، دودشمن دونوں شیطان امریکہ و طالبان کے فلک شگاف نعرے بلند کرتے رہے۔ مقررین نے مزید کہا کہ امام حسین علیہ السلام کسی ایک فرقے کے امام نہیں بلکہ غیر مسلموں کے ہاں بھی اعلیٰ مقام رکھتے ہیں اور عزاداران امام حسین علیہ السلام  کے جلوس میں بم دھماکہ کرنے والے مسلمان تو دور کی بات ہے انسان بھی کہلانے کے لائق نہیں ہیں۔ عزاداری اور حسین علیہ السلام کے دشمن جان لیں کہ ہم عزاداری سید الشہداء کی بقاء کی خاطر کوئی بھی قربانی دینے سے دریغ نہیں کریں گے۔ ہمارا نادان دشمن چودہ سو برس سے اس عزاداری کو ختم کرنے کیلئے ہمیں قتل کررہا ہے لیکن ہمیشہ ان شہادتوں سے ہمارے حوصلوں کو تقویت ملتی ہے ۔مقررین نے کہا کہ شہداء کا پاک لہو اسلامی ملتوں میں نئی جوش و حرارت پیدا کرتا ہے اور یہ لہو شہداء کے جسموں سے نکل کر جسم ملت کی رگوں میں دوڑ رہا ہے شہدائے نے عصر عاشورکو اپنی جانوں کا نذرانہ حسین علییہ السلام کی صدا پر لبیک کہتے ہوئے پیش کیا اب باقی رہنے والے ہم لوگ کا ر زینبی و سجادیہ کی انجام دہی کیلئے تیار ہیں۔ شہید اقبال کی والدہ نے تقریر کی اور نہوں نے کہا کہ میرے چار بیٹے اور ہیں جو سید الشہدا امام حسین علیہ السلام کی راہ میں قربان کرنے کے لئے تیار ہوں۔سید الشہداء اور ان کی اولاد پر جو کچھ بھی قربان کر دوں وہ کم ہے میرے بیٹے کی روز عاشور بم دھماکے میں شہادت میرے اور میرے خاندان کے لئے سعادت ہے۔

 

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close