پاکستان

آئی ایس او کے سینکڑوں کارکنوں کا جنگ اخبار کے دفتر پر دھرنا

shiite71

کراچی۔آئی ایس او کے خلاف سازش کرنے والے امریکی ایجنٹ ہیں،غلام مرتضی نامی کسی بھی شخص کا تعلق نہ پہلے کبھی آئ ایس او سے تھا اور نہ ہی اب ہے۔ان خیالات کا اظہار مولانا منور نقوی اور آئ ایس کو کراچی کے صدر زین انصاری نے آئی ایس او کی جانب سے جنگ اخبار کے دفتر کے باہر کئے جانے والے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،واضح رہے کہ گذشتہ روز روزنامہ جنگ اخبار نے ایک غلام مرتضیٰ نامی شخص کی گرفتاری کی خبر شائع کرتے ہوئے اس کا تعلق امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان سے بتایا تھا جس پر آئی ایس او کراچی کے رہنماءوں نے ادارے کو  متنبہ کیا تھا کہ یہ خبر بے بنیاد ہے اور اس بات میں کوئی صداقت نہیں کہ غلام مرتضیٰ کا تعلق آئی ایس او سے ہے،اور اجنگ اخبار کی انتظامیہ سے مذاکرات میں واضح کہا گیا تھا کہ اس خبر کی تردید کی جاے رہنماؤں نے گذشتہ روز ہی اس بے بنیاد خبر کی مذمت کرتے ہوئے اسے ملت جعفریہ اور امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے خلاف ایک گھناؤنی سازش قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ در اصل امریکی ایجنٹوںکا کام ہے جو اپنے غیر ملکی آقاؤں کی خوشی کے لئے اس طرح کے اقدامات کر رہے ہیں اور من گھڑت خبروں کے ذریعے ملت جعفریہ کے صالح نوجوانوں کے خلاف سازشوں میں مصروف عمل ہیں۔آئی ایس او کے رہنماؤں نے واضح کیا تھا کہ غلام مرتضیٰ نامی کسی شخص کا نہ تو پہلے کبھی آئی ایس او سے کوئی تعلق تھا اور نہ اب ہے ۔واضح رہے کہ جنگ انتظامیہ کی طرف سے تردید نہ آنے پر طلباء نے جنگ اخبار کے دفتر کا گھراو کیا اور نعرے بازی کی۔قبل ازیں سی آئ ڈی آفیسر عمر  خطاب نے بھی اس خبر کو بے بنیاد قرار دیا اور واضح کیا کہ غلام مرتضی ٰ نامی کسی شخص کو نہ توگرفتار کیا گیا ہے اور نہ ہی اس کا تعلق آئ ایس او سے بتایا گیا ہے ۔انہوں نے جنگ اخبار کی اس خبر سے اپنی لاعلمی کا اظہار کرتے ہوے کہا کہ پولیس انتظامیہ نے ایسی کوئ خبر روزنامہ جنگ کو نہیں دی

شیعت نیوز کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق بدھ کے روز امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان نے کراچی میں روز نامہ جنگ کے دفتر کے باہر ایک احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں کراچی کے تعلیمی اداروں بشمول جامعہ کراچی،جامعہ این ای ڈی،داؤد کالج اور جامعہ اردو کے علاوہ دیگر اداروں سے سینکڑوں طلباء نے شرکت کی اور جنگ اخبار کی شیعہ متعصب پالیسیوں کے خلاف مردہ باد کے نعرے بھی لگائے۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مولونا منور نقوی نے کہا کہ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان ملت جعفریہ کی واحد نمائندہ طلباء جماعت ہے جو کہ گذشتہ چار دہائیوں سے مملکت خداد پاکستان میں تعلیمات قرآن و سیرت محمد و آل محمد علیھم السلام کی ترویج میں کوشاں ہے اور اس تنظیم کے نصب العین میں تعلیمات قرآن و سیرت محمد و آل محمد علیھم السلام کے ساتھ ساتھ ملک پاکستان کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ کی بھی ضمانت ہے ،جس پر جوانا ن آئی ایس او عمل پیرا ہیں ،انہوں نے کہا کہ سانحہ عاشورا کے بعد سے ہی کچھ سازشی عناصر اس کوشش میں مصروف عمل ہیںکہ کسی طرح ملت جعفریہ کی اس نمائندہ جماعت کو بدنام کیا جائے ،انہوں نے کہا کہ ملت جعفریہ اور آئی ایس او کے خلاف سازشیں کرنے والے عناصر دراصل امریکی ایجنٹ ہیں جو اپنے غیر ملکی آقاؤں کی ایماء اور ان کی خوشی کے لئے اس طرح کی سازشوں میں مروف عمل ہیں اور ملت جعفریہ کے خلاف گھناؤنی سازشیں کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ انتہائی افسوس ناک بات یہ ہے کہ ایک اہم ترین اور بڑے ادارے نے بغیر تحقیق کے ایسی خبر شائع کی کہ جس کے سنگین نتائج بھی نکل سکتے تھے ،بعد ازاں جنگ انتظامیہ سے ہونے والے مذاکرات میں انہوں نے روزنامہ جنگ اخبار کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ایسے غیر ذمہ دار رپورٹر اور صحافیوں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی عمل میں لائی جائے کہ جنہوں نے امریکی ایماء پر ملت جعفریہ کے خلاف گھناؤنی سازش کی ہے اور بد دیانتی کا مظاہرہ کیا ہے ان کا کہنا تھا کہ اگر ادارے نے قوم سے معافی نہ مانگی تو پھر کسی بھی قسم کے سنگین نتائج کی ذمہ داری روز نامہ جنگ کی انتظامیہ پر عائد ہوگی،جنگ انتظامیہ نے غلط خبرچلانے والے  ذمہ داروں کے خلاف سخت سے سخت کاروائ  اور ادارے کی طرف سے معافی کی یقین دہانی کروائ  جس کے بعد مظاہرین نے آئی آئی چندر ریگر روڈ پر علامتی دھرنا  ختم کرتے ہوے جنگ انتظامیہ اور امریکہ اسرائیل کے خلاف جبکہ امریکی آلہ کار جنگ اخبار جنگ اخبار کے نعرے بھی لگائے ،بعد ازاں امریکی و اسرائیلی پرچم بھی نذر آتش کئے گئے اور مظاہرین پر امن طور پر منتشر ہو گئے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close