پاکستان

پستی سے نکلنے کیلئے پیغامِ حسین علیہ السلام کو سمجھنا ہوگا، پیرزادہ قاسم

shiite_youm-e-hussain1-300x225

حضرت امام حسین علیہ السلام فصیل جبر پر انکار کے وہ چراغ ہیں جس سے ظلم پرستوں کے برملا جواب دیا ہے۔ غم حسین علیہ السلام ہمارے لئے بڑا اثاثہ ہو سکتا ہے اگر ہم اسے اپنے لئے درس گاہ بنالیں۔ کربلا کے واقعہ میں بہت بڑا درس پنہاں ہے۔ پاکستان میں سیاسی، معاشی اور معاشرتی اعتبار سے جو منفی تبدیلیاں آ رہی ہیں ان پر توجہ نہ دی گئی تو بات ہاتھ سے نکل جائے گی۔ ہمیں پستی سے نکلنے کیلئے پیغام

حسین علیہ السلام کو سمجھنا ہوگا۔ یہ بات شیخ الجامعہ ڈاکٹر پیرزادہ قاسم نے یوم حسین علیہ السلام سے اپنے صدارتی خطاب میں کی۔ پروگرام کا انعقاد مشیر امور طلبہ پروفیسر ڈاکٹر تنویر خالد نے امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے تعاون سے کیا۔ جس میں پروفیسر ڈاکٹر احسان الحق ، پروفیسر ڈاکٹر زاہد علی زاہدی، مولانا عطاء الرحمٰن ، مولانا ارشاد حسین سعیدی، آغا جواد علی نقوی، برادر وسیم الحسن، شوکت اویسی اور دیگر نعت خواں اور نوحہ خوانوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر آغا جواد علی نقوی نے جامعہ کراچی جیسے باوقار علمی مرکز میں اتنی عظیم الشاں مجلس کے منعقد ہونے کو اعزاز قرار دیا اور ساتھ ہی اس بات پر زور دیا کہ واقعہ کربلا میں موجود عبرت کے پہلو کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ امام حسین علیہ السلام اور ان کے اہل خانہ نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ باطل کے آگے ڈٹ جانا ہی اسلام کی روح ہے اور قربانی دیئے بغیر حق سر بلند نہیں ہوسکتا۔ مفتی ارشاد حسین سعیدی نے کہا کہ فکر حسین علیہ السلام میں ہمارے لئے پیغام حریت پنہاں ہے۔ کربلا میں جب دو قوتیں مد مقابل تھیں اس وقت ایمان اسی سمت تھا جس سمت حسین علیہ السلام تھے۔ اس موقع پرمولانا وزیری نے کہا کہ جن قوموں نے امام حسین علیہ السلام کے پیغام کو مشن بنایا وہی قومیں سربلند ہوئیں۔ یوم حسین علیہ السلام کے موقع پر مختلف سیاسی تنظیموں بشمول پی ایس ایف، پی ایس اے، اے پی ایم ایس او اور آئی ایس او نے اپنے اسٹال قائم کئے تھے۔

 

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close