پاکستان

گو نواز گو کا نعرہ ملت پاکستان کے دل کی آواز بن چکا ہے، علامہ ناصرعباس جعفری

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ ناصرعباس جعفری کہا کہ حکمران ہمارے اعصاب کا امتحان لے رہے ہیں ، یہ حوصلوں کی جنگ تھی جسے ہم جیت چکے ہیں ، دھرنےشریف برادران کے استعفوں تک جاری رہیں گے، پی ٹی وی بلڈنگ میں گھس کر ایک شیشہ توڑنے والے تو قومی مجرم لیکن 14بے گناہوں کے قاتل آئینی حکمران یہ کھلا تضاد کیوں ہے، نواز حکومت سے دھرنوں کو سبوتاژ کرنے کے لئے بھارت سے پانی چھڑواکر ملک کو ڈبو دیا، نواز حکومت گرفتار کارکنان کو فوری رہا کرے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارلیمنٹ ہاوس اسلام آباد پر جاری انقلاب دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

ان کا مذید کہنا تھا کہ ایک ماہ سے زائد عرصہ گزرجانے کےباوجوددھرنا اسی عزم و حوصلے سے جاری جو عوام میں چودہ اگست کو تھا، حکومتی ہتھکنڈے مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئے، نواز حکومت اور اس کے آلہ کاروں نے اپنا پورا زور لگا لیا لیکن عوام کو دھرنوں سے بد زن نہ کر سکے، اسلام آباد کی شاہراہوں سے اٹھنے والی گو نواز گو کی آواز آج پوری ملت پاکستان کی دل کی آواز بن چکی ہے، میاں صاحب میں زرہ برابربھی غیرت ہوتی تو سیلاب زدگان کی جانب سے لگنے والے گو نواز گو کے نعرے سن کر شرم سے ہی مستعفیٰ ہو جاتے، چوہدری نثار جیسا کم عقل وزیر داخلہ پاکستان کی عوام نے نہیں دیکھا، چوہدری نثار کے نزدیک پی ٹی وی بلڈنگ میں گھسنا اور ایک شیشہ توڑ دینا ، ماڈل ٹاون میں چودہ لاشیں گرادینے، نہتے خواتین اور بزرگوں پر آنسو گیس ، فاسفورس گیس اور شاٹ گن کی گولیاں برسانے اور سچ دکھانے اور سنانے والے صحافیوں کو گھسیٹ گھسیٹ کر لاتوں ، گھونسوں اور ڈنڈوں سے مارنے سے بھی زیادہ بڑا اور سنگین جرم ہے، نواز حکومت اپنےجعلی اقتدار کی بقاء کی خاطر قومی سلامتی کے ساتھ کھلواڑ کرنے سے بھی بعض نہیں آئی، پاکستان کو درپیش سنگین سیلاب کا سامنا بھی نواز حکومت کی درخواست پر بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کی بدولت ہے، جس کا بنیادی مقصد حکومت مخالف احتجاجی تحریک سے پاکستانی عوام کی توجہ ہٹانا مقصود تھا، انہوں نےنواز حکومت کی جانب سے ایم ڈبلیوایم ، پی اے ٹی اور پی ٹی آئی کے کارکنا کی بلاجواز گرفتاریوں کی پر زور مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرفتار کارکنان کو فوری رہا کیا جائے، جب تک تمام اسیرکارکنان کی رہا نہیں ہوتے حکومت کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کا آغاز نہیں کیاجائے گا۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close