پاکستان

کراچی ضلع وسطی میں ملت جعفریہ سے تعلق رکھنے والے افراد کوکالعدم تکفیری دہشتگردوں کی جانب سے دھمکی آمیز خط ملنا شروع

کراچی ضلع و سطی کے علاقے ناظم آباد میں با ثر شیعہ افراد کو قتل کی دھمکیوں کے خط ملنا شروع ہوگئے ہیں جن میں اُنہِں اپنے گھروں کو چھوڑنے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئی ہیں ۔شیعت نیوز کے نما ئندے کے مطابق گزشتہ کئی عرصے سے کراچی کے ضلع وسطی کے علاقوں بشمول نیو کراچی ،سرجانی،ناظم آباد،نارتھ ناظم آباد،رضویہ سوسائٹی ،جعفریہ گولیمار،حسن کالونی ،ایف سی ایریا ،ایف بی ایریا ،عزیر آباد سمیت دیگر علاقوں میں اب تک سینکڑوں کی تعداد میں شیعہ ڈاکٹرز ،پروفیسرز،انجیئر ،وکلاء،علماء و زاکرین،ماتمی انجمنوں اور مساجد و امام باگاہوں کے ٹرسٹیز،سرکاری اور نیم سرکاری محکموں میں اعلی عہدوں پر فائز افراد سمیت شیعہ تنظیموں کے فعال افراد کو مسلسل دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا ہے مگر حکومت کی جانب سے کسی دہشتگرد کو تا حال گرفتار نہیں کیا گیا اور دوسری جانب ان علاقوں میں شیعہ تاجرو ں کو بھی دہشتگردی کا نشانہ بنانے کے واقعات میں کافی حد تک اضافہ ہو گیا ہے اور اب ان علاقوں میں رہائش رکھنے والے شیعہ افراد کو نقل مکانی اور جان سے مارنے کی دھمکی آمیز خطوط ملنا شروع ہوگئے ہیں جبکہ واضح رہے کہ ضلع وسطی کے یہ تمام علاقے شہر کراچی میں موجود دو بڑی سیاسی جماعتوں متحدہ قومی مومنٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی کےاثررسوخ ہونے کے باو جود دکالعدم تکفیری دہشتگردوں کی کاروائیاں جاری ہیں اور ملت جعفریہ ان سیاسی جماعتوں سے مطلبہ کرتی ہے کہ وہ شہر کراچی کو اس کا امن واپس لوٹانے اور شہر قائد کراچی میں موجود تکفیری دہشت گردوں کے خلاف عملی اقدامات کریں، وہ ان علاقوں میں موجود کالعدم ناصبی وہابی تکفیری دہشتگردوں کے قائم دینی مدارس اور ان دہشتگردوں کے خلاف اپنے دو ٹوک موقف کو پیش کریں ضلع وسطی میں موجود دہشتگردوں کے دینی مدارس کے خلاف کاروائی کی جائے جو شیعہ و سنی عوام کو مسلسل دہشتگردی کا نشانہ بنا رہے ہیں اور ملکی جڑوں کو مسلسل کھوکھلا کر رہے ہیں۔

ملت جعفریہ ۱۴ سو سالوں سے یزیدیت کے خلاف جنگ کرتی آرہی ہیے اور ہم شہادت کو سعادت سمجھتے ہیں اور ایسی کسی دھمکیوں سے ڈرنے والے نہِں۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close