پاکستان

مفتی امان اللہ سپاہ صحابہ کے دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاک

سانحہ راولپنڈی کے اصل محرک اور مرکزی کردار مفتی امان اللہ آج راولپنڈی میں کالعدم سپاہ صحابہ کے دہشت گردوں کی فائرنگ سے ہلاک۔ تفصیلات کے مطابق مفتی امان اللہ جو سانحہ راولپنڈی عاشورہ کے اصل منصوبہ ساز تھے آج اپنی ہی جماعت کالعدم سپاہ صحابہ کے دہشت گردوں کی فائرنگ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

تفصیلات کے مطابق مفتی امان اللہ کی ہلاکت سے سپاہ صحابہ ایک بار پھر سعودی ایما پر مملکت پاکستان میں فرقہ ورانہ فسادات کی مذموم کوشش کر رہی ہے۔

مصدقہ اطلاعات کے مطابق دو ہفتہ قبل اسلام آباد کی مشہور و معروف لال مسجد میں کالعدم سپاہ صحابہ ، جمیعت علمائے اسلام فضل الرحمن اور رانا ثناء اللہ کے درمیان خفیہ میٹنگ میں نواز حکومت کیخلاف جاری عوامی تحریک اور پاکستان تحریک انصاف کے دھرنوں کو ثبوتاژ کرنے کیلئے فرقہ ورانہ فسادات کی منصوہ بندی کی گئی جسکا اسکرپٹ سعودی عرب اور ہندوستان میں لکھا گیا ہے۔ میٹنگ میں مولانا ڈیزل فضل الرحمن نے اپنے مدارس میں زیر تعلیم دہشت گردوں کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی تھی ۔

سانحہ راولپنڈی کے مرکزی کردار مفتی امان اللہ سے کالعدم سپاہ صحابہ کے دہشت گرد اعلی مولانا لدھیانوی کے مدرسے تعلیم القران اور دوکانوں پر قبضے کا تنازع کافی شدت اختیار کرچکا تھا یہی وجہ تھی کہ سپاہ صحابہ نے سعودی ایماء پر نواز حکومت کو سہارہ دینے کیلئے فرقہ ورانہ فسادات کی نئی سازش کیلئے مفتی امان اللہ کو قتل کیا گیا۔

سعودی اسکرپٹ پر عمل کرتے ہوئے کالعدم سپاہ صحابہ اور جمیعت علمائے اسلام فضل الرحمن کے مدارس میں زیر تعلیم دہشت گردوں نے مفتی امان اللہ کے قتل کے بعد راولپنڈی میں ٹائر والی امام بارگاہ کو بھی نذر آتش کردیا جس کے نتیجے میں امام بارگاہ کے متولی صادق شاہ جھلس کر شہید ہوگئے۔

ذرائع کے مطابق اگر سپاہ صحابہ کے دہشت گرد اعلی مولانا لدھیانوی، خادم ڈھلوں، مولانا ڈیزل فضل الرحمن اور رانا ثنا ء اللہ کو اگر شامل تفتیش کیا جائے تو اصل سازش بے نقاب ہو سکتی ہے۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close