مشرق وسطی

نوجوان یورپی لڑکیوں کو داعش میں شمولیت کا شوق مہنگا پڑا، آسٹریا کی ایک لڑکی مبینہ طور پر ہلاک

مغربی ممالک کی نوعمر لڑکیوں کا فرار ہوکر شام میں عسکریت پسند گروپ داعش میں شامل ہونا ان ممالک کیلئے بیک وقت دکھ اور تشویش کا باعث بنا ہوا ہے اور اس کی وجہ سمجھنے کیلئے یہ دردناک خبر کافی ہے کہ آسٹریا سے فرار ہوکر آئی ایس میں شامل ہونے والی 14 اور 16 سالہ لڑکیوں میں سے ایک مبینہ طور پر ہلاک ہوچکی ہے۔ سولہ سالہ ثمرہ اور 14 سالہ سبینا تقریباً ایک سال پہلے اپنے ملک اور والدین کو چھوڑ کر شام فرار ہوگئی تھیں۔ یہ ان درجنوں لڑکیوں میں سے ایک ہیں جو جنگجوﺅں کی دلہنیں بننے کیلئے پرآسائش زندگی چھوڑ کر شام فرار ہوچکی ہیں۔ برطانوی اخبار ” ڈیلی میل “ کے مطابق یہ دونوں لڑکیاں آئی ایس کی پوسٹر گرلز کے طور پر کام کرکے دیگر نوجوانوں اور لڑکیوں کو اپنی طرف راغب رہے تھے۔

انٹرنیٹ پر جاری کی گئی ایک تصویر میں 14 سالہ سبینا کو کلاشنکوف پکڑے دکھایا گیا ہے جبکہ اس کے پیچھے آئی ایس کے جنگجو بندوقیں اٹھائے کھڑے ہیں۔ ابھی اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی کہ دونوں میں سے کونسی لڑکی ہلاک ہوتی ہے۔ آسٹریا کی وزارت داخلہ کے نمائندہ کا کہنا ہے کہ انہیں اس ہلاکت کی خبر مل چکی ہے اور والدین کو آگاہ کردیا گیا ہے تاہم ابھی اس کی تصدیق ہونا باقی ہے۔ انہوں نے جنگجوؤں کے پاس جانے کی خواہشمند دیگر لڑکیوں کو اس واقعہ سے سبق سیکھنے کی ہدایت بھی کی۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close