پاکستان

تحریک طالبان پاکستان ہم خیال دیوبندی مدارس کی مدد سے دھشت گردی کررہی ہے ،آپریشن کب ہوگا

پاکستانی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے 26 اور 27 ستمبر ،2014ء کو اسلام آباد میں تحریک طالبان پاکستان کے کنٹر سیکشن سے تعلق رکھنے والے 9 افراد کی گرفتاری کی خبر دی جوکہ آپریشن ضرب عضب اور انٹیلی جنس آپریشن سے منسلک ایک انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ سمیت پاک فوج کے کئی اہم فوجی افسران کی آمد و رفت کے اوقات اور ان کے آنے جانے کے ممکنہ راستوں کی تفصیلات ریڑھی بانوں کے روپ میں اکٹھی کررہے تھے اور یہ کل 14 افراد کا گروپ تھا جو سوات اور باجوڑ سے اسلام آباد میں ایک دیوبندی مدرسے میں ایک ہفتے سے ٹھہرا ہوا تھا ، اس گروپ کے چھے افراد ابھی تک حراست میں نہیں لئے جاسکے

راولپنڈی ریجن کی سپیشل برانچ پولیس نے ایک خصوصی انٹیلی جنس رپورٹ تیار کی ہے جس میں انھوں نے یہ تسلیم کیا ہے کہ راولپنڈی و اسلآم آباد کے اندر دیوبندی دھشت گرد تںطیمیں دھشت گردی کرنے میں تنہا ملوث نہیں ہیں بلکہ ان کی پوری مدد ان تنظیموں کے ہم خیال دیوبندی مدرسے کررہے ہیں
اس رپورٹ میں راولپنڈی ریجن کے بیس کے قریب مدارس کی نشاندھی کی گئی ہے اور ان میں سے اکثر مدارس یا تو اہل سنت والجماعت کے عہدے داروں کی زیر نگرانی چل رہے ہیں یا پھر جمعیت العلمائے اسلام سمیع الحق گروپ سے وابستہ ان مدارس کا تعلق ہے
کراچی میں ایس پی فاروق اعوان پر ہونے والے ویگن بم حملے میں انٹیلی جنس رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس میں چند روز پہلے رہا ہونے والی دیوبندی دھشت گرد مفتی شاکر کا ہاتھ ہے اور اس کے وفاق المدارس کے سربراہ مولوی سلیم اللہ خان کے مدرسے جامعہ فاروقیہ سے گہرے تعلقات بتائے جاتے ہیں
نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں ایک خصوصی لیکچر دیتے ہوئے آپریشن ضرب عضب کے کے انچارج ، کور کمانڈر جنرل خالد ربانی نے شرکاء کو بتایا کہ پاکستان سے دھشت گردی کا خاتمہ کرنے کے لیے اندرون سندھ اور جنوبی پنجاب میں بھی انٹیلی جنس آپریشن کرنے کی ضرورت ہے اور انھوں نے دوران خطاب پاکستان کی سیاسی قیادت کی جانب سے دھشت گردوں کے خلاف آپریشن میں لیت و لعل کو دھشت گردی کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ قرار دیا
جنرل خالد ربانی کا سیاسی قیادت سے اشارہ یقینی بات ہے وزیر اعظم نواز شریف ،چیف منسٹر پنجاب شہباز شریف اور چیف منسٹر سید قائم علی شاہ کی جانب تھا
تعمیر پاکستان ویب سائٹ ایک عرصہ یہ بات کہتی آرہی ہے کہ پاکستان میں دھشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے اور اس ملک کے بے گناہ شہریوں جن میں سب سے زیادہ تعداد شیعہ ، صوفی سنّی ، اس ملک کی مذھبی اقلیتیوں اور پھر مسلح افواج ،، پولیس اور دیگر اداروں کے لوگوں کی ہے کی مزید جانیں ضایع ہونے سے بچانے کے لیے جہاں دھشت گردوں کے بیس کیمپوں پر فوجی آپریشن کی ضرورت ہے وہیں پر چاروں صوبوں ، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشنز کی سخت ضرورت ہے
اب پاکستان کی مسلح افواج کے زمہ داران ، انٹیلی جنس عہدے داران اور پولیس کی اپنی انٹیلی جنس بھی اس بات کا اعتراف کررہی ہے کہ دیوبندی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے پنجاب ، سندھ ، بلوچستان ، خیبرپختون خوا کے کئی ایک دیوبندی مدرسے دیوبندی دھشت گرد تںظیموں کے لیے ” ہدف بارے معلومات اکٹھی کرنے ” ” دیوبندی دھشت گرد تنظیموں کے خلاف کاروائي کرنے والے افسران کی نگرانی کرنے اور ان پر حملہ کرنے کے لیے درکار لاجسٹک اور انٹیلی جنس سپورٹ فراہم کرنے ” سے لیکر دھشت گردوں کی بھرتی اور “ہدف ” کو نشانہ بنانے کے لئے آنے والے دھشت گردوں کو ٹھہرانے میں مدد دیتے ہیں
پاکستان میں دھشت گردی کا نشانہ فوج ، پولیس ، انٹیلی جنس ایجنسیوں ، پروفیشنلز اور بزنس سے جڑے لوگوں میں اکثر صوفی سنّی ، شیعہ ، احمدی وغیرہ ہیں اور اس عمل میں تیزی دیوبندی تنظیم اہل سنت والجماعت / سپاہ صحابہ پاکستان کے سندھ ، پنجاب ، کراچی اور بلوچستان میں تیزی سے اپنے نیٹ ورک کو مضبوط بنانے ، پنجاب ، سندھ حکومت کی جانب سے فری ہینڈ ملنے کے سبب ہوا ہے
جن دیوبندی مدارس کی جانب سے دیوبندی دھشت گرد تںطیموں کو بھرپور مدد اور سپورٹ ملی رہی ہے ان میں اکثر پر اہل سنت والجماعت / سپاہ صحابہ پاکستان کا اثر ہے یا پھر جے یو آئی ایف و س کے ان لوگوں کا جن کے سپاہ صحابہ سے بہت قریبی تعلقات رہے ہیں
دیوبندی دھشت گردی کو پاکستان کے شہری ، نیم شہری و مضافاتی و دیہی علاقوں میں دیوبندی حلقوں میں قبولیت اور اس کے جواز کا خیال پیدا کرنے میں صحافیوں ، تجزیہ نگاروں ، کالم نگاروں ، اینکر پرسنز ، دانشوروں کے دیوبندی نواز پروپیگںڈا بریگیڈ کا بہت بڑا ہاتھ ہے
یہ بریگیڈ جس میں ریٹائرڈ جرنیل ، ریٹائرڈ بیوروکریٹس ، سیاسی دانشوری کا لبادہ اوڑھنے والے ، سابق جج بھی اپنے اندر رکھتا ہے جو تجزیہ نگار بن گئے ہیں
اس پروپیگنڈا بریگیڈ کو میاں نواز شریف کی سرپرستی حاصل ہے اور اس بریگیڈ کا کام دھشت گرد دیوبندی تںطیموں اور ان کی لیڈرشپ کو ھیرو بناکر اور اسلام و پاکستان کے مجاہد کے طور پر پیش کرنا ہے جبکہ ان کی دھشت گردی سے متاثر ہونے والی مذھبی و نسلی برادریوں کے اٹھ کھڑے ہونے پر ان کی قیادت کرنے والوں کی کردار کشی ہے
اس بریگیڈ کی کمانڈ مولوی فضل الرحمان ، جنرل اسلم بیگ ، حمید گل ، سلیم صافی ، حامد میر ، نجم سیٹھی ، ماروی سرمد ، عاصمہ جہانگير ، انصار عباسی وغیرہ کررہے ہیں
حال ہی میں نام نہاد ” لندن سازشی پلان ” کے نام پر جو شور سلیم صافی ، نجم سیٹھی وغیرہ کے زریعے سے مچایا گیا اس کا مقصد بھی دیوبندی دھشت گرد نیٹ ورک کے خلاف کسی بھی ممکنہ مشترکہ اتحاد اور فرنٹ کے قیام کو روکنے کی پیش بندی تھی
پاکستان میں دیوبندی دھشت گرد تںظیموں اور ان کے حامی دیوبندی سیاسی رہنماؤں کی کوشش ہے کہ آپریشن ضرب عضب کی مکمل کامیابی کے لیے درکار سندھ اور جنوبی پنجاب میں انٹیلی جنس بنیادوں پر ہونے والے آپریشنوں کو روک لیں اور دیوبندی دھشت گردی کے خلاف میں سٹریم میڈیا پر ممکنہ اتفاق رائے کو پیدا ہونے روکا جائے اور کنفیوژن پھیلایا جائے
نواز شریف اینڈ کمپنی نے اپنے بڑے اتحادی تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے ایک پریس کانفرنس کراکر آئی ایس آئی اور پاکستان کی فوج کے بارے میں امریکہ اور عالمی برادری کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی جیسے پنجابی طالبان کو افغانستان آئی ایس آئی نے بھیجا اور یہ آئی ایس آئی تھی جس نے اس گروپ کو تشکیل دے رکھا تھا جبکہ انٹیلی جنس رپورٹس موجود ہیں کہ فیصل آباد میں جو رانا ثناء اللہ ، سرور سکیھراموجود آئی جی پنجاب اور چيف منسٹر شہباز شریف کی موجودگی میں جو مذاکرات اے ایس ڈبلیو جے کی نمائندگی محمد احمد لدھانوی ، ملک اسحاق نے کی تھی اور ان دو ملاقاتوں میں عصمت اللہ معاویہ سربراہ پنجابی طالبان بھی موجود تھا
پاکستان میں اس وقت سب سے بڑا تضاد ہی یہ بنا ہوا ہے کہ دیوبندی دھشت گرد نیٹ ورک کی حامی سیاسی ، عسکری ، عدالتی ، صحافتی ، سرمایہ داری لابی پاک فوج ، انٹیلی جنس ایجنسیوں ، پولیس ، رینجرز ، ایف سی کی جانب سے دیوبندی دھشت گرد نیٹ ورک کے خلاف فیصلہ کن کاروائی میں روکاوٹ بنی ہوئی ہے اور یہ لابی پاکستان کی عسکری ، سیاسی ، عدالتی ، صحافتی ان شخصیات اور اداروں کے خلاف سرگرم عمل ہے جو اس ملک میں شیعہ ، صوفی سنّی نسل کشی کے زمہ داروں کا صفایا چاہتے ہیں

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close