پاکستان

دہشت گردوں کے سیاسی و مذہبی سرپرستوں کو بے نقاب کیا جائے، آل پارٹیز کانفرنس

جعفریہ الائنس پاکستان کے زیر اہتمام کراچی اور سندھ میں ہونے والی دہشت گردانہ کاروائیوں اور بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے خلاف آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد ہوا صدارت جعفریہ الائنس پاکستان کے سربراہ علامہ عباس کمیلی نے کی، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر تاج حیدر، متحدہ قومی موومنٹ کے مرکزی رہنما حیدر عباس رضوی، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکز ی رہنما علامہ امین شہیدی، جمعیت علماء پاکستان کے سربراہ شاہ اویس نورانی ، پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما فردوس شمیم،اسلم راجپوت،پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما نہال ہاشمی، اظہر ہمدانی،امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے رہنما غیور عابدی، جماعت اسلامی پاکستان کے رہنما محمد حسین محنتی، مظفر ہاشمی، پاکستان عوامی مسلم لیگ کے مرکزی رہنما محفوظ یار خان ایڈووکیٹ، عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے جنرل سیکرٹری یونس بونیری، سابق صوبائی وزیر ضیاء عباس،آل پاکستان مسلم لیگ کے رہنما طاہر حسین، سندھ ترقی پسند پارٹی کے رہنما گلزار سومرو، پاکستان عوامی تحریک کے رہنما عصمت اللہ، مسیحی رہنما شیپرڈ انور جاوید سمیت علامہ عقیل انجم قادری، علامہ نثار قلندری، علامہ فرقان حیدر عابدی، جمیل یوسف، سلمان مجتبی، قاسم نقوی ، ڈاکٹر خدیجہ محمود،علامہ باقر زیدی سمیت سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے کارکنان نے شرکت کی۔آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جعفریہ الائنس پاکستان کے سربراہ سینیٹر علامہ عباس کمیلی نے کہا کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں دہشتگردوں کو جہاں مذہبی سرپرستی حاصل ہے وہاں انہیں سیاسی و لسانی سرپرستی بھی حاصل ہے، لہٰذا اگر حکومت دہشتگرد عناصر کے خاتمہ کیلئے ملک دشمن اور اسلام دشمن دہشت گردانہ کاروائیوں میں ملوث دہشتگردوں کی سیاسی و مذہبی وابستگیاں ظاہر کی جائیں ، دہشتگردوں کے سیاسی و مذہبی سرپرستوں کو عوام کے سامنے بے نقاب کیا جائے اس کے ساتھ ساتھ مذہبی انتہاپسندی و دہشت گردی میں ملوث دہشت گردوں کو سزا دینے کیلئے فی الفور خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں اور ان دہشتگردوں کے خلاف تیز ترین ٹرائل کرتے ہوئے دہشت گرد عناصر کو فی الفور سزائیں دی جائیں۔آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما تاج حیدر نے کہا کہ حکومت عوام کے تحفظ کے لئے ہر قسم کا تعاو ن کرنے کے لئے تیار ہے اور آج کی اس آل پارٹیز کانفرنس سفارشات کے تحت حکومت دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے ہر ممکنہ اقدام اٹھانے سے گریز نہیں کرے گی۔علامہ عباس کمیلی نے کہا کہ پنجابی طالبان کے بعد ریاستی حساس اداروں کی جانب سے سندھ میں سندھی طالبان کے وجود کے انکشاف نے ثابت کر دیا ہے کہ شاہ عبد الطیف بھٹائی کی سر زمین کو دہشت گردوں سے سنگین خطرات لاحق ہیں لہٰذا سندھ حکومت تمام تر مصلحتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سندھی طالبان سمیت تمام ملک دشمن اور سندھ دھرتی کے دشمنوں کے خلاف فی الفور کارروائی عمل میں لائے۔ شہر کراچی میں موجود داعش کی موجودگی حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے تاہم حکومت اس معاملے میں سرد مہری سے کام نہ لے۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ امین شہیدی نے کہا کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں پانچ لاکھ سے زائد طالبان دہشتگردوں کی موجودگی شہر کراچی اور سندھ کے عوام کے لئے سنگین خطرہ بن چکی ہے لہذٰاشہر کراچی اور سندھ کے عوام کو امن و امان فراہم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ حکومتن آرٹیکل 245نافذ کرکے کراچی سمیت سندھ بھر میں کالعدم دہشت گرد گروہوں اور ملک دشمن عناصر کے خلاف آپریشن ضرب عضب طرز پر بے رحمانہ فوجی آپریشن کیا جائے جو کہ آخری دہشتگرد کے خاتمہ تک جاری رہے۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما حیدر عباس رضوی کا کہنا تھا کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں اور اسی طرح ملک بھر میں کہیں بھی فرقہ وارانہ کشیدگی نہیں پائی جاتی بلکہ چند عناصر کی ایماء پر ملک کو غیر مستحکم کرنے کے لئے پاکستان کی معاشی شہ رگ کراچی میں دہشت گردانہ کاروائیاں انجام دی جا رہی ہیں، انہوں نے کراچی سمیت ملک بھر سے اسلحہ کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کو اسلحہ سے پاک کیا جانا چاہئیے جبکہ ان مقامات کیخلاف بھی کاروائی کی جائے جہاں سے اسلحہ کراچی تک پہنچایا جاتا ہے، انہوںنے سیاسی ومذہبی جماعتوں سے مطالبہ کیاکہ ملک بھر کو اسلحہ سے پاک کرنے کا مطالبہ کیا جائے۔آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کے دوران پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما نہال ہاشمی کاکہنا تھا کہ حکومت دہشت گردی کے معاملے پر سنجیدہ ہے اور دہشت گردوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close