دنیا

امریکہ داعش کے بہانے شام کا انفراسٹرکچر تباہ کر رہا ہے، گلوبل ریسرچ

معروف مجلے گلوبل ریسرچ نے اپنی ایک رپورٹ میں امریکہ کی سربراہی میں داعش مخالف اتحاد کی جانب سے شام پر انجام پانے والے ہوائی حملوں کا جائزہ لیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شام میں انجام پانے والی فوجی کارروائی لیبیا میں نیٹو کی کارروائی سے بہت ملتی جلتی ہے اور اسے "لیبیا 2” آپریشن قرار دیا جاسکتا ہے۔ دوسری طرف امریکی صدر براک اوباما نے بھی کہا ہے کہ شام میں "نو فلائی زون” قائم کرنے کا بھی قوی امکان موجود ہے۔ اسی طرح امریکی وزیر دفاع چک ہیگل اور امریکہ کے چیف آف جوائنٹ آرمی سٹاف جنرل مارٹن ڈمپیسی نے بھی ملتے جلتے بیانات دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ شام میں "نو فلائی زون” قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو نیٹو کی وہ دیرینہ آرزو پوری ہو جائے گی جو اس نے شام میں جاری بحران کے آغاز سے ہی لگا رکھی ہے۔ اخبار نیویارک ٹائمز نے کچھ ہی دن پہلے امریکی وزیر دفاع کے بقول لکھا تھا: "ہم نے تمام ممکنہ اقدامات کا جائزہ لیا ہے اور ترک حکام کی جانب سے ضروری قرار دیئے گئے اقدامات کے بارے میں گفتگو جاری رکھے ہوئے ہیں۔” اسی طرح جنرل ڈمپیسی نے کہا تھا: "نو فلائی زون کا قیام اور ایک حفاظتی دیوار کی تعمیر جیسے اقدامات بھی ہماری نظر میں ہیں۔”

مجلہ گلوبل ریسرچ اپنی رپورٹ میں لکھتا ہے کہ شام میں نو فلائی زون کا قیام یا ایک حفاظتی دیوار کی تعمیر درحقیقت شام کے خلاف اعلان جنگ کے مترادف ہے، کیونکہ ایسے منصوبوں کی تکمیل کیلئے شام کی فضائی دفاعی قوت کو ختم کرنا ضروری ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ داعش مخالف بین الاقوامی اتحاد کی جانب سے شام کے ایسے علاقوں کو ہوائی حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جو ایک زمانے میں داعش سے وابستہ عناصر کی جانب سے ترکی سے شام میں داخل ہونے کیلئے راستے کے طور پر استعمال کئے جاتے تھے اور اب یہاں پر بڑی تعداد میں شام کے مہاجرین نے پناہ لے رکھی ہے۔ لہذا ایسے علاقوں میں ہوائی حملوں کا مقصد وہاں سے شامی مہاجرین کو بھگانا اور دوبارہ داعش سے وابستہ دہشت گرد عناصر اور ان کیلئے اسلحہ کی ترکی سے شام منتقلی کو ممکن بنانا ہوسکتا ہے۔

گلوبل ریسرچ میں شائع ہونے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مغربی ممالک اور نیٹو صدر بشار الاسد کی حکومت کو خطے میں اپنے لئے ایک بڑی رکاوٹ تصور کرتے ہیں، لہذا وہ ان کی حکومت کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ اسی طرح نیٹو شام کی فضائی دفاعی قوتوں کو بھی ختم کر دینا چاہتی ہے، جس کا مقصد خطے میں روس کے اثر و رسوخ اور اسٹریٹجک پوزیشن کو کمزور کرنا ہے۔ اگرچہ خود امریکہ بھی اس حقیقت کا اعتراف کرچکا ہے کہ یہ اقدامات ان کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ لہذا مغربی طاقتوں نے اپنے مطلوبہ اہداف حاصل کرنے کیلئے تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کو آلہ کار کے طور پر استعمال کیا۔ شام میں داعش کو لانے کا بڑا مقصد شام کے مشرق میں واقع فوجی ہوائی اڈوں کو نابود کرنا تھا، تاکہ اس طرح شام پر ہوائی حملوں کا زمینہ فراہم کیا جاسکے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ داعش کی جانب سے شام کے مشرق میں واقع فوجی ہوائی اڈوں پر حملے اس وقت شروع ہوئے جب شام حکومت نے امریکہ اور مغربی ممالک کی جانب سے اس کی اجازت کے بغیر داعش کے ٹھکانوں پر ہوائی حملوں کی شدید مخالفت کا اظہار کیا۔ شام حکومت نے یہ دھمکی بھی دی تھی کہ اگر کسی ملک کا جنگی طیارہ اس کی اجازت کے بغیر شام کی حدود میں داخل ہوا تو اسے تباہ کر دیا جائے گا۔ عین اسی وقت داعش سے وابستہ دہشت گرد عناصر نے شام کی فضائی دفاعی تنصیبات پر حملے کرنا شروع کر دیئے اور ملک کے مشرقی حصے میں واقع فوجی ہوائی اڈوں پر قبضہ کر لیا۔ دوسری طرف حتی نیٹو بھی یہ اعلان کرچکی تھی کہ شام میں ہر قسم کے ہوائی حملوں میں سب سے بڑی رکاوٹ شام کی فضائی دفاعی صلاحیتیں ہیں۔ لیکن اب داعش کی جانب سے شام کے مشرقی علاقوں میں فضائی دفاعی تنصیبات کی نابودی کے بعد یہ رکاوٹ ختم ہوچکی ہے۔

گلوبل ریسرچ اپنی اس رپورٹ میں لکھتا ہے کہ امریکہ اور مغربی ممالک کی جانب سے داعش کی نابودی کے بہانے شام میں ہونے والے ہوائی حملوں کے کچھ اور اہداف ہیں۔ اگرچہ یہ بات درست ہے کہ داعش نے شام کے مشرق میں واقع کئی آئل ریفائنریز پر قبضہ کر رکھا ہے اور وہاں سے حاصل ہونے والی تیل کی مصنوعات کو بیچ کر اپنے اسٹریٹجک اہداف حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ شام آرمی تیزی سے داعش کے خلاف حاصل ہونے والی کامیابیوں کے نتیجے میں پیش قدمی کر رہی ہے اور ملک کے اکثر علاقوں کو داعش کے قبضے سے آزاد کروا چکی ہے۔ مثال کے طور پر شام کے شہر دیرالزور میں شام آرمی نے داعش سے وابستہ دہشت گرد عناصر کے گرد مکمل گھیرا ڈال رکھا تھا اور بہت جلد انہیں شکست دے کر وہاں کی آئل ریفائنری کو آزاد کروانے والے تھے، لیکن امریکہ اور مغربی ممالک نے ہوائی حملوں کے ذریعے اس آئل ریفائنری کو تباہ کر ڈالا۔ امریکہ داعش کے بہانے شام کی اہم تنصیبات کو تباہ کر رہا ہے، تاکہ وہ صحیح و سالم حالت میں شام آرمی کے ہاتھ نہ لگیں۔
یاد رہے بدھ کے دن امریکہ کے کمانڈ سنٹر نے اعلان کیا کہ امریکہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے جنگی طیاروں نے شام میں کئی مقامات پر ہوائی حملے انجام دیئے ہیں۔ حملے کا نشانہ بننے والے مقامات میں 12 آئل ریفائنریز بھی شامل ہیں۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ ان آئل ریفائنریز پر داعش کا قبضہ تھا اور وہ اس سے حاصل ہونے والی مصنوعات کو بیچ کر پیسے اکٹھے کر رہے تھے۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close