سعودی عرب

آل سعود کی مکہ کی تعمیرنو کے بہانے تاریخی حقائق کو مٹانے کی سازش

اپنے بچپن میں اسامہ البار اپنے گھر سے اسلام کے مقدس ترین مقام خانہ کعبہ کے پاس سے گزر کر مصالحوں اور کپڑوں کے تاجروں کی مارکیٹ کی جانب جاتا تھا جہاں اس کے والد کی اپنی ایک دکان تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب مکہ شہر بہت چھوٹا تھا اور زائرین خانہ کعبہ کے اوپر بیٹھ کر اردگرد کی ویران نظر آنے والی پہاڑیوں کو دیکھ سکتے تھے جہاں ایک زمانے میں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ گھوما کرتے تھے، مگر اب یہ مارکیٹ اور گھر ختم ہو چکے ہیں اور اب مسجد الحرام کے اردگرد لگژری ہوٹلوں کا ہجوم ہے، جبکہ مسجد سے دکھائی دینے والی پہاڑیاں مٹا دی گئی ہیں اور وہاں کرینیں مزید ٹاورز تعمیر کرتی نظر آتی ہیں۔ اب اسامہ البار مکہ کے میئر ہیں اور ان کا کہنا ہے” میرے والد اور مکہ کے تمام رہائشی اس شہر کو پہچان نہیں سکتے”۔ دنیا بھر کے مسلمان رواں ہفتے حج کا فریضہ ادا کریں گے، اور وہ اس وقت اُس شہر میں پہنچے ہیں جو اپنی تاریخ کی سب سے بڑی تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے۔ شتہ برسوں میں مختلف منصوبوں کی زد میں آکر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئے، تاہم 2000ء کی دہائی کے وسط میں سعودی حکمرانوں نے مکہ کو نئی شکل دینے کے لیے بڑے بڑے منصوبوں کی سیریز کا آغاز کیا جو ابھی مکمل تو نہیں ہوئے مگر مکہ کو ایک نئی شکل ضرور مل چکی ہے۔

خانہ کعبہ کے ساتھ ہی دنیا کی تیسری بلند ترین عمارت کھڑی ہے جس کے اوپر ایک بہت بڑا گھڑیال نصب ہے جو رات کی تاریکی میں جگمگا کر پورے شہر کو وقت دکھاتا ہے۔ مکہ میں تبدیلیوں کے ایک بڑے ناقد اور آرکیٹیکٹ سمیع انگاوی کا کہنا ہے”یہ مکہ نہیں بلکہ اس سے الگ کوئی جگہ ہے، یہ ٹاور اور اس کی روشنیاں بالکل لاس ویگاس کا منظر پیش کرتی ہیں”۔ ان کا کہنا تھا، مکہ کے تاریخی حقائق کو بلڈوزر اور ڈائنامیٹس کے ذریعے مٹا دیا گیا ہے، کیا یہی ترقی ہے؟۔ ناقدین کو شکایت ہے کہ ان تعمیراتی سرگرمیوں کے باعث اس مقدس شہر کا روحانی تاثر ختم ہوگیا ہے اور ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ حج کے چودہ سو سال سے زائد پرانے اس پیغام کو چرانے کے مترادف ہے کہ امیر ہو یا غریب اللہ کے سامنے سب برابر ہیں، کیونکہ وہ یہ فریضہ اپنے روح کی صفائی کے لیے پورا کرتے ہیں، جس کے لیے وہ خانہ کعبہ کے گرد سات بار طواف کرتے ہیں۔ مکہ دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کے لیے باعث احترام شہر ہے اور وہ اس کی جانب رخ کرکے پانچ وقت کی نمازیں ادا کرتے ہیں، مسجد الحرام دنیا کی ان چند جگہوں میں سے ایک ہے جہاں ہر طبقے اور نسل کے مسلمان اکھٹے ہوتے ہیں۔
مکہ کا انتظام سنبھالنا سعودی بادشاہت کے احترام کا بنیادی سبب ہے، سابق شاہ فہد اور موجودہ شاہ عبداللہ نے ” خادم الحرمین شریفین ” کے خطاب کا اپنے نام کے ساتھ اضافہ کرکے اپنے رتبے کو بڑھایا ہے اور اب یہ شہر خاص طور پر سعودی تصور کے مطابق تبدیل کیا جارہا ہے تاکہ سعودی عرب کے شاہی خاندان کو زیادہ طاقت مل سکے۔ اس تصور کے دو عناصر ہیں، پہلا تو پیٹرو ڈالرز سرمایہ دارانہ نظام کو بڑھانا کیونکہ مکہ کے منصوبہ سازوں کی بڑی توجہ امیر زائرین پر ہے جن کے لیے خانہ کعبہ کے ارگرد فائیو اسٹار ہوٹلز کی تعمیر زور و شور سے ہو رہی ہے، جبکہ یہ لوگ قریب سے ہی بین الاقوامی چینز جیسے پیرس ہلٹن اسٹورز اور اسٹاربکس وغیرہ سے خریداری کر سکتے ہیں۔ دوسرا پہلو سعودی عرب کی فقہی سوچ کو فروغ دینا ہے۔ معروف مذہبی مقامات کو منہدم کرنا سعودی حکومت کی فقہی سوچ کی بھی ترجمانی کرتا ہے۔ 2008ء میں ہلٹن اسٹورز کی تعمیر کی راہ میں آنے والے حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے گھر کو بھی منہدم کر دیا گیا۔ ملک کے سب سے بڑے مذہبی عالم یعنی مفتی اعظم عبدالعزیز الشیخ نے گذشتہ سال معروف مقام کو گرائے جانے کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ "مسجد الحرام کی توسیع کے لیے مختلف مقامات کو منہدم کرنا ضروری ہے”۔
سعودی حکام کا بھی کہنا ہے کہ شہری تبدیلی ضروری ہے تاکہ حج کرنے کے لیے آنے والے افراد کو سہولیات فراہم کئے جا سکیں جن کی تعداد 2040ء تک تیس لاکھ کے لگ بھگ ہو جانے کی توقع ہے۔ مسجد الحرام کی توسیع کے ساٹھ ارب ڈالرز کے منصوبے کے تحت زائرین کے لیے عبادت کے علاقے کو لگ بھگ دوگنا وسیع کردیا جائے گا۔ مکہ کے مئیر اسامہ البار کا کہنا ہے کہ اس رقم میں سے پچاس فیصد مکہ کے ارگرد واقع 5800 گھروں کو خریدنے پر خرچ ہوئے تاکہ انہیں توسیع کے لیے گرایا جا سکے۔ عثمانی خلافت کے عہد کے مینار اور ستونوں کو گرایا گیا تاکہ جدید رہائشگاہوں کو تعمیر کیا جا سکے۔ ایک اور بڑا منصوبہ جبل عمر ہے، یہ مسجد کے مغربی حصے میں واقع ایک پہاڑی ہے جسے شہر کا امتیازی نشان بھی سمجھا جاتا تھا، تاہم اب اسے لیول کرکے وہاں چالیس کے قریب عمارات تعمیر کی جا رہی ہیں جن میں سے بیشتر فائیو اسٹار ہوٹلز ہیں جو گیارہ ہزار کمروں پر مشتمل ہوں گے، جبل عمر میں اس حوالے سے گذشتہ چند ماہ کے دوران سب سے پہلے ہلٹن سوئیٹس اور انجم ہوٹل زائرین کے لیے کھولے گئے ہیں۔
مسجد کی جنوبی سمت میں 1972 فٹ لمبا کلاک ٹاور ہے جو کہ سات ٹاور کمپلیکس کا مجموعہ ہے اور اسے عثمانی عہد کے قلعے کو گرا کر تعمیر کیا گیا ہے، اس کے علاوہ جبل شراشف کا منصوبہ بھی زیرتعمیر ہے جس کے لیے برمی اور افریقی تارکین وطن کے کچے گھروں کو گرا کر سعودی شہریوں کے لیے ایک نئی رہائشی آبادی اور ہوٹل وغیرہ تعمیر کیے جارہے ہیں۔ اسی طرح چار لائنز کا میٹرو سسٹم بھی شہر کی نئی منصوبہ بندی کا حصہ ہے جس پر ہائی اسپیڈ ریل لائن کے ذریعے مکہ کو جدہ اور مدینہ منورہ سے منسلک کردیا جائے گا۔ مسجد الحرام کا توسیعی منصوبے سعودیہ کے بن لادن گروپ کی قیادت میں چل رہا ہے جس نے کلاک ٹاور کو بھی تعمیر کیا ہے، بن لادن خاندان السعود کے کافی قریب ہے اور ملک بھر میں اہم تعمیراتی منصوبوں کو چلارہے ہیں۔ رواں برس مئی میں جدہ میں مواف بن لادن نے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ لوگ مسلسل پوچھ رہے ہیں کہ کیا ان تمام تعمیرات کی ضرورت تھی، اس کا جواب ایک لمحے میں اس تصویر کے ذریعے دیا جا سکتا ہے، جس کے بعد لاکھوں زائرین کی تصویر دکھائی گئی جو گلیوں میں نماز ادا کررہے تھے کیونکہ مسجد کے اندر جگہ نہیں تھی تاہم وہاں موجود بیشتر افراد اس سے قائل نظر نہیں آئے۔
ایک سابق سعودی سفارتکار سعید الغنی نے کہا کہ ان کے خیال میں لالچ اس کی بنیادی وجہ ہے، دنیا بھر کے مسلمان مکہ سے قریبی تعلق رکھتے ہیں اور یہ کسی ایک بزنس مین یا کمپنی کا شہر نہیں۔ لندن کے اسلامی ثقافتی ریسرچ فاﺅنڈیشن کے سربراہ عرفان العلاوی جو ایک سعودی نژاد شہری ہیں، کا کہنا ہے کہ مکہ کے منصوبہ سازوں کو خانہ کعبہ کے بہت زیادہ قریب تعمیرات نہیں کرنا چاہیئیں، اور ہوٹلوں کو اس سے میلوں دور تعمیر کیا جانا چاہیئے تھا جبکہ ٹرانسپورٹ نظام کو بہتر بنایا جانا چاہیئے تھا۔ ان کے بقول پہلے ہی ہم روحانی تاثر سے محروم ہو چکے ہیں، زائرین خانہ کعبہ کو دیکھ کر اللہ کے گھر سے متاثر ہونے کی بجائے کلاک ٹاور کو دیکھ کر دنگ رہ جاتے ہیں”۔ سعودی حکومت کی ملکیتی کمپنی بوابت کے ایم ڈی ایسام کلثوم جو کہ شہر میں کئی منصوبوں میں شامل رہے ہیں، اعتراف کرتے ہیں کہ یہ بات کہنا بے ربط ہوگا کہ اس مقصد میں مالیاتی عزائم موجود نہیں، تاہم اس کا بنیادی مقصد زائرین کے لیے جگہ کو بڑھانا ہی ہے۔ انہوں نے ایک ترک فاﺅنڈیشن کی جانب سے دیا گیا ایک تحفہ دکھایا جو انہیں حال ہی میں ملا تھا، جو مکہ کی انیسویں صدی کے آخری برسوں کی ایک تصویر تھی، یہ تکلیف دہ ہے۔ ان کے بقول جو لوگ ماضی میں اس طرح کی چیزوں کو دیکھ چکے ہیں انہیں اس طرح کی تصاویر ماضی میں لے جاسکتی ہے۔ انہوں نے کعبہ کی تصویر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا مگر اس مقام کے لیے پرانے بازاروں اور عمارات کو جانا ہی تھا۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close