دنیا

یورپی لڑکیوں میں داعش میں شامل ہونے کا محرّک جہادالنکاح

لندن سے شائع ہونے والے اخبار گارڈین نے اپنے ایک رپورٹ میں شام میں دہشتگرد تکفیری گروہوں میں شامل ہونے کے لئے، سامنے آنے والے محرکات کا جائزہ لیا ہے۔ العالم کی رپورٹ کے مطابق ہاریٹ شرووڈ نے گارڈین کے لئے لکھی گئی اپنی رپورٹ میں، شام میں جہاد نکاح کے بارے میں لکھا ہے کہ ازدواج یا شادی وہ محرک ہے جس نے سیکڑوں یورپی لڑکیوں کو شام میں دہشتگردوں کی صفوں میں شامل ہونے کے لئے آمادہ کیا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق بہت سی چودہ سے پندرہ سالہ لڑکیاں، شام کے لئے روانہ ہورہی ہیں تا کہ دہشتگرد تکفیری عناصر کے ساتھ شادی کریں اور صاحب اولاد ہوں اور جنگجوں کی تعداد میں اضافہ کریں، یہ ایسی صورت میں ہے کہ ان میں سے بعض لڑکیاں، ہتھیاروں کو ہاتھ میں لیکر جنگ میں شرکت کو ترجیح دیتی ہیں۔
شرووڈ نے لکھا ہے کہ اس لڑکیوں کو اپنی طرف راغب کرنے کا اہم ترین ہتھیار سماجی ویب سائٹیں ہیں۔
یہاں پر یہ نکتہ قابل اہمیت ہے کہ دس فیصد لڑکیاں دہشتگرد گروہوں میں شامل ہونے کے لئے یورپ کو ترک کررہی ہیں، اور اس درمیان سب سے زیادہ فرانسیسی لڑکیاں اور خواتین ہیں، جو دہشتگرد تکفیری گروہوں میں شامل ہورہی ہیں۔ شرووڈ نے کہا ہے کہ حال ہی میں 60 فرانسیسی لڑکیاں دہشتگرد گروہوں میں شامل ہونے کے بعد شام روانہ ہوئی ہیں۔
فرانس کی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی کے سربراہ لوئیس کابر لولی کا خیال ہے کہ دہشتگرد تکفیری گروہوں میں شامل ہونے کے لئے، اکثر خواتین یورپ سے شام روانہ ہوئی ہے اور انہوں نے اپنے گھروں کو چھوڑ دیا ہے اور ابھی بھی بہت سے لڑکیاں بقول ان کے اپنے جہادی بھائیوں کی مدد کے لئے ان کی صفوں میں شامل ہونے کے لئے راہوں کو تلاش کررہی ہیں۔
شرووڈ کا کہنا ہے کہ فرانس کے وزیر داخلہ برنارڈ کازنوؤ نے بھی اعلان کیا ہے کہ فرانس سے ایک پانچ رکنی دہشتگرد گروہ کو گرفتار کرلیا گيا ہے کہ جو تکفیری عناصر کے ساتھ جہاد النکاح کے لئے فرانسیسی لڑکیوں کو جمع کرنے کے مشن پر معمور تھا۔
اخبار گارڈین کے رپورٹر نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے امور میں برطانوی ماہرین کا خیال ہے ابھی تک 50 سے زیادہ برطانوی لڑکیاں دہشتگرد گروہ داعش میں شامل ہوچکی ہیں اور ان میں سے دس فیصد شام میں مسلحانہ کارروائیوں میں حصہ لے رہی ہیں، شام کا شہر الرقہ کہ جو داعش کا ایک اہم مرکز شمار ہوتا ہے میں موجود ہیں۔
زہرہ اور سلماء حلانہ سولہ سالہ جڑواں بہنیں ہیں کہ جنہوں نے سومالیہ سے آکر برطانیہ میں پناہ لی تھی، جولائی کے مہینے میں آدھی رات کو مانچسٹر میں اپنے گھر سے فرار ہوکر، والدین کو بتائے بغیر، شام میں اپنے بھائیوں کے پاس چلی گئی ہیں، یہ دونوں بہنیں ترکی کے راستے شام میں داخل ہوئی ہیں۔
ایک سماجی ویب سائٹ نے لکھا ہے کہ ان دونوں لڑکیوں نے شام میں دہشتگرد گروہ داعش کے جنگجوں کے ساتھ شادی کرلی ہے، ار زہرہ نے ایک سماجی ویب سائٹ میں اپنا فوٹو ایسی حالت میں شائع کیا ہے کہ اس کے سر پر برقع ہے اور اس کے ہاتھ میں اسلحہ اور اس کی پشت پر داعش کا پرچم نظر آرہا ہے۔
ایک بین لاقوامی تحقیقاتی مرکز نے لکھا ہے کہ شام میں دہشتگرد گروہوں میں شامل ہونے والی اکثر لڑکیوں کی عمریں 16 سے 22 سال کے درمیان ہیں اور ان میں سے اکثر لڑکیاں اعلی تعلیم
یورپی لڑکیوں میں داعش میں شامل ہونے کا محرّک جہادالنکاح
لندن سے شائع ہونے والے اخبار گارڈین نے اپنے ایک رپورٹ میں شام میں دہشتگرد تکفیری گروہوں میں شامل ہونے کے لئے، سامنے آنے والے محرکات کا جائزہ لیا ہے۔ العالم کی رپورٹ کے مطابق ہاریٹ شرووڈ نے گارڈین کے لئے لکھی گئی اپنی رپورٹ میں، شام میں جہاد نکاح کے بارے میں لکھا ہے کہ ازدواج یا شادی وہ محرک ہے جس نے سیکڑوں یورپی لڑکیوں کو شام میں دہشتگردوں کی صفوں میں شامل ہونے کے لئے آمادہ کیا ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق بہت سی چودہ سے پندرہ سالہ لڑکیاں، شام کے لئے روانہ ہورہی ہیں تا کہ دہشتگرد تکفیری عناصر کے ساتھ شادی کریں اور صاحب اولاد ہوں اور جنگجوں کی تعداد میں اضافہ کریں، یہ ایسی صورت میں ہے کہ ان میں سے بعض لڑکیاں، ہتھیاروں کو ہاتھ میں لیکر جنگ میں شرکت کو ترجیح دیتی ہیں۔
شرووڈ نے لکھا ہے کہ اس لڑکیوں کو اپنی طرف راغب کرنے کا اہم ترین ہتھیار سماجی ویب سائٹیں ہیں۔
یہاں پر یہ نکتہ قابل اہمیت ہے کہ دس فیصد لڑکیاں دہشتگرد گروہوں میں شامل ہونے کے لئے یورپ کو ترک کررہی ہیں، اور اس درمیان سب سے زیادہ فرانسیسی لڑکیاں اور خواتین ہیں، جو دہشتگرد تکفیری گروہوں میں شامل ہورہی ہیں۔ شرووڈ نے کہا ہے کہ حال ہی میں 60 فرانسیسی لڑکیاں دہشتگرد گروہوں میں شامل ہونے کے بعد شام روانہ ہوئی ہیں۔
فرانس کی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی کے سربراہ لوئیس کابر لولی کا خیال ہے کہ دہشتگرد تکفیری گروہوں میں شامل ہونے کے لئے، اکثر خواتین یورپ سے شام روانہ ہوئی ہے اور انہوں نے اپنے گھروں کو چھوڑ دیا ہے اور ابھی بھی بہت سے لڑکیاں بقول ان کے اپنے جہادی بھائیوں کی مدد کے لئے ان کی صفوں میں شامل ہونے کے لئے راہوں کو تلاش کررہی ہیں۔
شرووڈ کا کہنا ہے کہ فرانس کے وزیر داخلہ برنارڈ کازنوؤ نے بھی اعلان کیا ہے کہ فرانس سے ایک پانچ رکنی دہشتگرد گروہ کو گرفتار کرلیا گيا ہے کہ جو تکفیری عناصر کے ساتھ جہاد النکاح کے لئے فرانسیسی لڑکیوں کو جمع کرنے کے مشن پر معمور تھا۔
اخبار گارڈین کے رپورٹر نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے امور میں برطانوی ماہرین کا خیال ہے ابھی تک 50 سے زیادہ برطانوی لڑکیاں دہشتگرد گروہ داعش میں شامل ہوچکی ہیں اور ان میں سے دس فیصد شام میں مسلحانہ کارروائیوں میں حصہ لے رہی ہیں، شام کا شہر الرقہ کہ جو داعش کا ایک اہم مرکز شمار ہوتا ہے میں موجود ہیں۔
زہرہ اور سلماء حلانہ سولہ سالہ جڑواں بہنیں ہیں کہ جنہوں نے سومالیہ سے آکر برطانیہ میں پناہ لی تھی، جولائی کے مہینے میں آدھی رات کو مانچسٹر میں اپنے گھر سے فرار ہوکر، والدین کو بتائے بغیر، شام میں اپنے بھائیوں کے پاس چلی گئی ہیں، یہ دونوں بہنیں ترکی کے راستے شام میں داخل ہوئی ہیں۔
ایک سماجی ویب سائٹ نے لکھا ہے کہ ان دونوں لڑکیوں نے شام میں دہشتگرد گروہ داعش کے جنگجوں کے ساتھ شادی کرلی ہے، ار زہرہ نے ایک سماجی ویب سائٹ میں اپنا فوٹو ایسی حالت میں شائع کیا ہے کہ اس کے سر پر برقع ہے اور اس کے ہاتھ میں اسلحہ اور اس کی پشت پر داعش کا پرچم نظر آرہا ہے۔
ایک بین لاقوامی تحقیقاتی مرکز نے لکھا ہے کہ شام میں دہشتگرد گروہوں میں شامل ہونے والی اکثر لڑکیوں کی عمریں 16 سے 22 سال کے درمیان ہیں اور ان میں سے اکثر لڑکیاں اعلی تعلیم یافتہ ہیں اور اس کا تعلق مالدار گھرانوں سے بتایا جاتا ہے اور وہ یورپی ملکوں میں بھر پور امکانات کے ساتھ زندگی بسر کررہی تھیں۔ یہ ایسے میں ہے کہ یورپ کے کئی ملکوں کے حکام نے اپنے اپنے ملکوں میں دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیوں پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس دائرے میں کئی یورپی ممالک نے اپنی سیکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ بھی کررکھا ہے۔
یافتہ ہیں اور اس کا تعلق مالدار گھرانوں سے بتایا جاتا ہے اور وہ یورپی ملکوں میں بھر پور امکانات کے ساتھ زندگی بسر کررہی تھیں۔ یہ ایسے میں ہے کہ یورپ کے کئی ملکوں کے حکام نے اپنے اپنے ملکوں میں دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیوں پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس دائرے میں کئی یورپی ممالک نے اپنی سیکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ بھی کررکھا ہے۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close