مقالہ جات

ڈاکٹر قیصر عباس سیال شہید، اک روشن ستارہ

شہید ڈاکٹر قیصر عباس سیال کا تعلق پاکستان کی مردم خیز زمین جھنگ کے ایک معروف خاندان سے تھا، وہ بچپن سے ہی دینی مزاج رکھنے والے تھے، ان کا شوق اور شغف دینی کتب کا مطالعہ تھا اور وہ دینی محافل کو بے حد پسند کرتے تھے۔ زمانہ طالبعلمی میں ان کا تعلق امامیہ نوجوانوں کی ملک گیر، منظم تنظیم امامیہ اسٹوڈنٹس سے ہوگیا، وہ پنجاب میڈیکل کالج فیصل آباد میں میڈیکل کے طالبعلم تھے اور اس زمانہ میں ان کا تعلق ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید سے ہوگیا تھا، انہوں نے شہید ڈاکٹر کی صحبت اور قربت سے بھرپور استفادہ کیا، وہ تنظیمی آداب و تقاضوں کو بے حد اہمیت دینے والے تھے، شہید ڈاکٹر قیصر عباس سیال مختلف تنظیمی ذمہ داریوں پر فائز رہے، انہوں نے مرکزی نائب صدر کی ذمہ داری بھی نبھائی، وہ ایک نفیس انسان تھے، شائد ہی ان کی طرح کوئی نفیس انسان اس کاروان میں کسی نے دیکھا ہو۔

ڈاکٹر بننے کے بعد وہ مختلف شہروں میں رہے اور آخر میں لاہور کو جائے پناہ بنایا، جہاں وہ خدمت خلق میں دن رات ایک کئے ہوئے تھے۔ لاہور میں قیام کے دوران انہوں نے سی ایس ایس کا امتحان بھی دیا، جس میں انہیں کامیابی نہ مل سکی۔ وہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے پنجاب چیپٹر کے نائب صدر بنائے گئے۔ لاہور میں تعیناتی اور پی ایم اے میں جانے کے بعد ان کے تعلقات لاہور بھر کے ہسپتالوں میں پیدا ہوچکے تھے، کسی برادر یا خواہر کو کسی بھی سپتال میں ضرورت پیش آتی تو ان سے رجوع کر لیا جاتا اور وہ مکمل مدد کرتے، کوئی ٹیسٹ کروانا ہوتا، کسی ڈاکٹر سے چیک اپ کروانا ہوتا یا کسی ہسپتال میں بیڈ لینا ہوتا، وہ سوال کرنے والے کو خندہ پیشانی سے رہنمائی فرماتے اور وقت کی قید کی بندش کے بغیر یہ خدمت جاری رکھتے، وہ وقت شہادت لاہور کے معروف ہسپتال شیخ زائد میں بطور رجسٹرار خدمات سرانجام دے رہے تھے اور وحدت کالونی میں اپنی رہائش گاہ پر بھی فاطمہ کلینک کے نام سے خدمات سرانجام دی رہے تھے۔
یہ بات بھی ایک اتفاق ہے کہ جس ڈاکٹر محمد علی نقوی سے ان کی انسیت و قربت تھی، وہ بھی شیخ زائد ہسپتال میں بطور رجسٹرار خدمات سرانجام دے رہے تھے اور ڈاکٹر قیصر عباس سیال بھی بطور رجسٹرار ہی خدمات سرانجام دیتے ہوئے شہادت سے ہمکنار ہوئے تھے۔ ایک سرمایہ ملت کو کلینک میں گھس کر شہید کیا گیا تو ایک مسیحائے ملت کو کلینک جاتے ہوئے راستے میں گولیوں کی برسات سے شہید کیا گیا۔ شہید ڈاکٹر قیصر عباس سیال نے اپنی دختر کے نام پر اپنے کلینک کا نام فاطمہ کلینک رکھا تھا، جبکہ ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید نے اس سے قبل اپنی دختر زہراء کے نام پر الزہراء کلینک رکھا۔ لاہور میں مقیم ڈاکٹر قیصر عباس سیال ملی و قومی نیز تنظیمی پروگراموں میں بھرپور شرکت کرتے تھے اور کوئی بھی مسئلہ پیش آنے کی صورت میں برادران کے ساتھ بھرپور معاونت کرتے تھے۔ ان کی شہادت کے روز بھی ایسا ہی ہوا تھا، لاہور ڈویژن کے برادران نے گوجرانوالہ، ڈیرہ اسماعیل خان، ملتان اور دیگر کئی شہروں میں قتل و غارت اور شیعہ شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف احتجاج کیا، یہ احتجاج لاہور میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کی رہائش گاہ ماڈل ٹاؤن کے سامنے ہوا، جس میں پولیس نے شدید لاٹھی چارج کیا اور کئی برادران کو گرفتار کیا گیا، اس واقعہ کی اطلاع ڈاکٹر قیصر عباس سیال کو دی گئی تو وہ اپنے ذرائع سے امامیہ برادران کو چھڑوانے میں کوشاں ہوگئے، یہ مغرب کے نزدیک کی بات ہے کہ المصطفٰی ہاؤس سے ان کیساتھ رابطہ کیا گیا۔

دراصل ڈاکٹر قیصر عباس سیال کا تعلق جناب حیدر علی مرزا سے بہت گہرا تھا، حیدر علی مرزا ڈاکٹر صاحب کی کوئی بات ٹالتے نہیں تھے اور ان کے پاس وزیراعظم کے مشیر کا عہدہ تھا۔ ڈاکٹر قیصر عباس سیال نے دوستوں سے کہا کہ گھبرائیں نہیں، بس یہ سلسلہ چل رہا تھا کہ اسی دوران یہ خبر آئی کہ ڈاکٹر قیصر عباس سیال کو شہید کر دیا گیا ہے۔ وحدت کالونی میں واقع ان کے کلینک پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا، جس کے نتیجہ میں ڈاکٹر قیصر عباس سیال، ان کے ایک سکیورٹی گارڈ اور کمپاؤڈر بھی دہشت گردوں کی گولیوں کا نشانہ بنے اور شہادت کا جام پیا۔ یہ یکم اکتوبر 1999ء کی بات ہے، ان دنوں میں مرکزی کنونشن کی تیاریاں عروج پر تھیں، یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی، اک کہرام برپا تھا، ہر سو اندھیرا چھا گیا تھا، کچھ سجھائی نہ دیتا تھا، کسی نے اس منظر کے بارے سوچا بھی نہ تھا، ڈاکٹر قیصر عباس سیال شہید کی میت کو شیخ زائد ہسپتال میں لے جایا گیا، جہاں دوست روتی آنکھوں سے ایک دوسرے کے گلے لگ رہے تھے، ڈاکٹر قیصر عباس سیال دوسرے بڑے تنظیمی ڈاکٹر اور فعال قومی کارکن تھے جنہیں لاہور میں سرخ موت سے ہمکنار کیا گیا تھا، ان کی شہادت سے ایک ایسا خلا پیدا ہوا جس کی کمی آج بھی محسوس کی جاتی ہے، شہید ڈاکٹر قیصر عباس سیال کی نماز جنازہ اگلے دن صبح وحدت کالونی میں ان کی رہائش گاہ کے نزدیک ہی ادا کی گئی، بعد ازاں ان کی میت ان کے آبائی شہر جھنگ روانہ کر دی گئی، جہاں ان کی نماز جنازہ میں ہزاروں شیعہ و سنی مسلمان شریک ہوئے۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پے روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدآور پیدا
ایسے مواقع پر یہ خیال بہت ستاتا ہے کہ ملت کے یہ قیمتی سرمائے ایک ایک کرکے ہم سے بچھڑے جاتے ہیں، ہم ان کے لطف سے محروم ہوجاتے ہیں اور کچھ کر بھی نہیں سکتے، مگر قوموں کی زندگی کا مطالعہ کریں تو اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ اجتماعی و قومی مقاصد کے حصول کی جدوجہد میں یہ مراحل جھیلے بنا تحریک آگے نہیں بڑھتی، گویا اس تحریک کو آگے بڑھانے کیلئے قیمتی ترین متاع لٹائے بنا اور اپنے لہو کے چراغ روشن کئے بنا راستے کی تاریکی ختم نہیں ہوسکتی، ڈاکٹر قیصر عباس سیال اور دیگر شہداء اسی راہ کے راہی ہیں، ہم انہیں سلام پیش کرتے ہیں۔
بقول شاعر؛
کس قدر تو محافل میں ہنستا رہا
کتنے صدمات سہتی رہی زندگی
تحریر: ارشاد حسین ناصر

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close