پاکستان

ہراموش اور پشاوربم دھماکوں کے تدارک کیلئےقومی سلامتی پالیسی برائے انسداد دہشت گردی اور فرقہ واریت وضع کی جائے، علامہ راجہ ناصرعباس

گلگت سے حراموش اور پشاورسے پاراچنارجانے والی بس پر ہونیوالے بم حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں،ایک مرتبہ پھر منظم انداز میں محب وطن اہل تشیع شہریوں کونشانہ بنایا گیاہے، وفاقی حکومت کی جانب سے کالعدم جماعتوں کو فری ہیڈ دی دیا گیا ہے ،گلگت اور پاراچنار روٹ پر دہشتگردی کا یہ پہلا واقعہ نہیں ا گر اسلام آباد کو دہشت گردوں سے محفوظ رکھنے کے لئے آرٹیکل 245کا نفاذ کیا جا سکتا ہے تو ملک کے دیگر حساس شہروں میں بھی دہشتگردی کے خاتمے کیلئے آرٹیکل 245 کے نفاذ کے ساتھ آپریشن کیا جائے ،دہشتگردوں کے خلاف ملک گیر آپریشن کیا جائے اور ساتھ ہی قومی سلامتی پالیسی برائے انسداد دہشت گردی اور فرقہ واریت وضع کی جائے۔ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین کے سر براہ علامہ ناصر عباس جعفری نے گلگت سے حراموش ا ور پشاوراسکیم چوک سے پاراچنارجانے والی بس پر دہشتگردوں کی جانب سے بم دھماکے کا نشانہ بنانے کے خلاف اپنے مذمتی بیان میں کیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی ممکنہ واقعہ سے وزارت داخلہ نے تین روز پہلے ہی گلگت انتظامیہ آگاہ کر دیا تھا، اُس کے باو جود صوبائی حکومت کی جانب سے کوئی انتظامات نہیں کئے گئے، دشمن ملک میں خانہ جنگی کے درپے ہیں، گلگت میں دہشت گردوں کیخلاف آپریشن میں تاخیر ایک سوچی سمجھی سازش ہے ،مجلس وحدت مسلمین کے کارکنان ملک و اسلام دشمنوں کی تمام سازشوں کو ناکام بنائیں اور پر امن رہیں،ملک سے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مؤثر قانون سازی کی ضرورت ہے،اس المناک واقعہ کی ذمہ دار گلگت بلتستان کی انتظامیہ اور نااہل وزیر اعلیٰ ہے، گلگت بلتستان سمیت پورے ملک میں شیعہ و سنی متحد ہیں ، گذ شتہ ایک ہفتے سے دہشت گردی کی ممکنہ اطلاعات کے باوجودصوبائی حکومت نے کوئی حکمت عملی مرتب نہیں کی۔
علامہ ناصر عباس جعفری نے وفاقی حکومت اور چیف جسٹس آف پاکستان اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے مطالبہ کیا کہ ملک دشمن اور اسلام دشمن دہشت گردانہ کاروائیوں میں ملوث دہشتگردوں کے خلاف ملک گیر آپریشن کیا جائے اور ان دہشتگردوں کے پیچھے اُن سیاسی و مذہبی وابستگیاں کو بھی ملکی میڈیا اور عوام کے سامنے لایا جائیں، اس کے ساتھ ساتھ مذہبی انتہاپسندی و دہشت گردی میں ملوث دہشت گردوں کو سزا دینے کیلئے فی الفور خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں اور جرم ثابت ہونے کے بعد ایسے عناصر کو فی الفور سزائیں دیکر نشان عبرت بنایا جائے ، حکومت بین المذاہب اور بین المسالک ہم آہنگی کے لئے حکومتی سطح پر ایک علماء بورڈ تشکیل دے جو عملی طور پر بین المسالک ہم آہنگی قائم کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے۔آپریشن ضرب عضب کے بعد دہشتگردوں کے ٹھکانے پورے ملک میں قائم ہو چکے ہیں، طالبان دہشتگردوں کی بغل بچہ کالعدم جماعتوں کو وفاقی حکومت میں شامل وزراء کی مکمل حمایت حاصل ہے، نواز حکومت کی جانب سے ان کالعدم دہشتگرد جماعتوں کو شیلٹر دینے کی ریت اگر اس ملک میں قائم ہوئی تو بھر مملکت خدادا د پاکستان میں امن و امان کا قیام صرف خواب بن کر رہ جائے گا۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close