پاکستان

فرقہ وارانہ دہشتگردی کے خاتمہ کیلئے ملک گیر فوجی آپریشن ناگزیر ہوچکا ہے، علامہ مقصود ڈومکی

شیعت نیوز (کوئٹہ) مجلس وحدت مسلمین بلوچستان کے سربراہ علامہ مقصود علی ڈومکی نے ہزارہ ٹاؤن دھماکے میں معصوم انسانوں کے قتل عام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں کو فری ہینڈ دینے کی بجائے ریاستی ادارے پوری طاقت سے دہشتگردی کے ناسور سے قوم کو نجات دلائیں۔ اگر دھرنوں سے نمٹنے کے لئے اسلام آباد میں فوج طلب کی جاسکتی ہے تو پھر ملک بھر میں دہشتگردی کے خاتمہ کے لئے فوج سے مدد طلب کرنے میں کیا حرج ہے۔ فرقہ وارانہ دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے ملک گیر فوجی آپریشن ناگزیر ہوچکا ہے۔ عوام ریاستی اداروں سے یہ سوال پوچھتے ہیں کہ ہزاروں معصوم شہری بے جرم و خطا دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل ہوگئے، مگر کسی مجرم کو تختہ دار پر نہیں لٹکایا گیا، بلکہ قاتل آج بھی ملک کے گلی کوچوں میں دندناتے پھر رہے ہیں۔ آخر ریاستی ادارے کب عوام کو تحفظ دیں گے۔؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان دہشت گردوں کے پیچھے مذہبی و سیاسی وابستگیوں کو بھی منظر عام پر لایا جائے اور ملکی میڈیا اور عوام کو بتایا جائے کہ دہشت گردوں کے پیچھے کون ہے۔ حکومت بین المذاہب اور بین المسالک ھمآھنگی کیلئے علماء بورڈ تشکیل دے۔ جو اتحاد و وحدت کے فروغ کیلئے بھرپور عملی کردار ادا کرے۔ اگر دہشت گردوں کو شیلٹر دینے کا سلسلہ جاری رہا تو دہشت گردی کی آگ بجھانا ناممکن ہو جائے گا۔ جن کالعدم فرقہ پرست عناصر نے دہشت گردوں کی رہائی کا مطالبہ کیا انہیں شامل تفتیش کیا جائے۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ قیام امن کے حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری کریں۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close