پاکستان

کراچی اور کوئٹہ میں دہشتگردوں کیخلاف بھرپور فوجی آپریشن کیا جائے، سید عباس علی موسوی

مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ کے سیکرٹری جنرل سید عباس علی موسوی نے کہا ہے کہ نااہل حکومت اور ناقص سکیورٹی کی وجہ سے کل اسپنی روڈ اور علی آباد ہزارہ ٹاون میں رونما ہونے والے دلخراش سانحات سے ایک بار پھر سرزمین کوئٹہ بے گناہوں کے خون سے رنگین ہوگئی۔ سانحہ علی آباد میں شہیدوں کی تعداد 6 ہے، جن میں سے تین خواتین اور ایک شہید کا نو سال کا کم سن بچہ ہے اور زخمیوں کی تعداد 25 ہے۔ جن میں سے پانچ کی حالت تشویشناک ہے۔ معزز صحافی حضرات عرصہ دراز سے ملک بھر میں بالخصوص کوئٹہ شہر میں شیعہ مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے بے گناہ محب وطن شہریوں کو ایک منظم منصوبے کے تحت خصوصی طور پر دہشتگردی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جس کا مقصد وطن عزیز کو خانہ جنگی کے ذریعے غیر مستحکم بنانا اور کوئٹہ شہر کو نفرتوں کی آماجگاہ بنانا ہے۔ گذشتہ روز اسپنی روڈ اور علی آباد ہزارہ ٹاون میں رونماء ہونے والے سانحات اسی سازش کی ایک کڑی ہیں۔ ان سانحات میں شہید اور زخمی ہونے والے بے گناہ مرد و خواتین، بوڑھے و بچے، بزرگ و جوان اور ان کے لواحقین کی مظلومیت بے حس حکمرانوں، مذہب اور قومیت کے نام پر فرقہ پرستی، نسل پرستی اور نفرت پھیلانے والوں کے منہ پر ایک زبردست طمانچہ ہے۔

عجیب بات ہے کہ جب بھی شیعہ ہزارہ نشین علاقوں میں دھماکہ کیا جاتا ہے تو اس سے پہلے کوئٹہ شہر کے دیگر علاقوں میں دہشتگردانہ کارروائی کی جاتی ہے۔ تاکہ یہ تاثر دیا جاسکے کہ تمام سکیورٹی اداروں کی توجہ تو پہلے والے واقعے کی طرف تھی۔ لہذا وہ بے قصور ہے۔ لیکن یہ عذر کسی طرح سے قابل قبول نہیں ہے۔ ہزارہ ٹاون کی سکیورٹی انتہائی ناقص ہے۔ مجلس وحدت مسلمین نے حکومت اور ذمہ دار افسران کو بار بار اس کی طرف توجہ دلاتے ہوئے سکیورٹی بڑھانے کا مطالبہ کیا، لیکن اس کے باوجود کوئی مناسب اقدام نہیں کیا گیا۔ اگر حکومت اور ادارے بروقت سکیورٹی انتظامات درست کرلیتے تو آج یہ افسوس ناک سانحہ رونما نہ ہوتا۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ آج کے ترقی یافتہ اور جدید دور میں ہر ملک علم، ٹیکنالوجی و دیگر کارہائے نمایاں کے ذریعے اپنی پہچان کروا رہا ہے، لیکن ماضی کی غلطیوں کی وجہ سے آج وطن عزیز کی پہچان دہشتگردی بن چکی ہے۔
ہمارے موجودہ صاحبان اختیار و اقتدار آخر کب گذشتہ غلطیوں سے سبق سیکھیں گے۔ آخر کب دہشتگردی کے خاتمے کے لئے سنجیدہ اقدامات کرینگے۔ آخر کب دہشتگردوں سے ہمدردیاں ختم کرکے انہیں کیفر کردار تک پہنچائینگے۔ انسانیت کی ابتدائی جھلک سے محروم، بے حس حکمران اور سکیورٹی ادارے کب تک مجرمانہ غفلت برتتے رہینگے اور عوام لہولہان ہوتے جائینگے۔ ہم حکومت کو متنبہ کرتے ہیں کہ اس سے پہلے کہ پانی سر سے گزر جائے اور عوام حکمرانوں کو ملک و قوم کا غدار سمجھ کر ان کے خلاف انقلابی اقدامات کرے، حکومت فی الفور ملک بھر سے دہشتگردی کے خاتمے بالخصوص کوئٹہ شہر میں شیعہ ہزارہ قوم کا قتل عام رکوانے کے لئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر مناسب لائحہ عمل طے کرے اور ضرب عضب آپریشن کو کوئٹہ سمیت ملک کے کونے کونے تک پھیلا دے۔ اگر حکومت اپنا اقتدار بچانے کی خاطر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا سکتی ہے تو ملک اور قوم کے تحفظ کے لئے کیوں نہیں بلا سکتی۔
مجلس وحدت مسلمین پاکستان (کوئٹہ ڈویژن) حکومت سے پُرزور مطالبہ کرتی ہے کہ کراچی اور کوئٹہ میں فوجی آپریشن کراکے دہشتگردوں کے نیٹ ورک توڑ کر ان کا مکمل صفایا کیا جائے اور ملک و قوم کو داعش جیسے مذہب کا لبادہ اوڑھے ہوئے صہیونی آلہ کار دہشتگردوں کے شر سے محفوظ بنائیں۔ ہزارہ ٹاون کی سکیورٹی ناقص اور غیر قابل اطمینان ہے۔ صوبائی حکومت ہزارہ ٹاون کے تمام اطراف میں مزید سکیورٹی فورسز تعینات کرے۔ تیسرا یہ کہ حالیہ اور گذشتہ تمام سانحات میں شہیدوں کے لواحقین، زخمیوں اور املاک کا نقصان اٹھانے والے مالکان سے فی الفور مالی تعاون اور ان کی مدد کی جائے۔ صوبائی حکومت حالیہ سانحات میں تمام زخمیوں کا مکمل علاج کروائے۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close