پاکستان

تحریک انصاف بھی ملت تشیع کو انصاف نہ دے سکی، فوج ٹارگٹڈ آپریشن کرے، علامہ سبطین حسینی

علامہ سید محمد سبطین حسینی کا تعلق بینادی طور پر پارا چنار کے مضافاتی گاؤں زیڑان کے ایک مذہبی و علمی گھرانے سے ہے، 1993ء سے 2004ء تک قم المقدس (ایران) کے مشہور مدرسہ امام خمینی (رہ) سے دینی علوم حاصل کئے اور قرآن و احادیث میں ایم فل کی ڈگری حاصل کرکے قم المقدس سے واپس پاکستان آئے، لیکن اب بھی علم اور تبلیغ دین و فلاحی کاموں کے لئے قم المقدس کے بعض فارغ التحصیل پاکستانی طلاب کے بنائے ہوئے القائم (ع) ٹرسٹ میں فعال کردار ادا کرر ہے ہیں۔ علامہ سید محمد سبطین حسینی 2004ء تا 2006ء جامعۃ الرضا (ع) بارہ کہو اسلام آباد اور 2006ء تا 2008ء مدرسہ شہید عارف الحسینی (رہ) پشاور میں تدریس سے بھی وابستہ رہے، تاہم 2010ء سے القائم (ع) ٹرسٹ کے زیر انتظام شہداء کے یتیم بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے ٹیکسلا میں زینبیہ (س) اکیڈمی کی بنیاد رکھنے اور مسئول کی حیثیت سے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ علاوہ ازیں آپ ایم ڈبلیو ایم خیبر پختونخوا کے سیکرٹری جنرل بھی ہیں۔ ’’اسلام ٹائمز‘‘ نے علامہ سید محمد سبطین حسینی سے علاقائی و ملکی صورتحال کے حوالے سے خصوصی گفتگو کی، جو قارئین کے پیش خدمت ہیں۔ ادارہ

شیعت نیوز: دہشتگردی کی تازہ لہر میں ایک مرتبہ پھر پاراچنار اور گلگت کے لوگوں کو نشانہ بنایا گیا، پس پردہ محرکات کیا ہیں۔؟
علامہ سبطین حسینی: جہاں تک پاکستان میں دہشت گردی کا تعلق ہے، تو عرصہ دراز سے اس مملکت خداداد میں خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے اور ہزاروں بے گناہ انسان لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ اس کے سدباب کے لئے وہ کوششیں نہ کی گئیں جو کرنی چاہیں تھیں۔ جن لوگوں نے سرعام عدالتوں میں اعتراف کیا کہ ہم نے سینکڑوں بے گناہ انسانوں کو مارا ہے، وہ اب بھی اسی ملک میں دندناتے پھرتے نظر آتے ہیں، درجنوں کلاشنکوف برداروں کے حلقہ کے درمیان ہوتے ہیں اور ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ملکی قوانین بھی ایسے ہیں کہ آج تک کسی دہشت گرد کو سزا نہیں دی گئی، جس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ دہشت گردی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے اور پاکستان میں باقی مسلمانوں کی طرح سب سے زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ شیعیان علی ابن ابیطالب (ع) ہیں۔ جن کا پاکستان بننے سے اب تک بے گناہ خون بہایا جا رہا ہے۔ حال ہی میں عید کے نازک اور خوشی کے ایام میں پاکستان کے کروڑوں مسلمانوں کے دلوں کو داغدار کیا گیا اور گاڑی میں بم رکھ کر مریضوں اور بچوں کے ساتھ پشاور آنے والے اہل تشیع کو شہید کیا گیا، یہ سوچی سمجھی سازش ہے کہ خیبر پختونخوا کا خطہ جو پہلے سے دہشت گردی کا شکار ہے، اسے نشانہ بنانا اور شمال کا خطہ جو آئینی حقوق سے بھی محروم ہے، اس کے لوگوں کو نشانہ بنانا، گلگت بلتستان کے لوگ پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے ہیں، اس دہشت گردی کا خاتمہ تب ممکن ہے، جب دہشت گردوں کو عبرتناک اور کڑی سزائیں دی جائیں۔
شیعت نیوز: پاکستان تحریک انصاف کی حکومت جو تبدیلی کا نعرہ لگا کر سامنے آئی تھی، کیا وہ بھی کے پی کے عوام کو دہشتگردی سے نجات دلانے میں یکسر ناکام نظر نہیں آتی۔؟
علامہ سبطین حسینی: اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ تبدیلی کا نعرہ پاکستانی عوام کے دل کی آواز ہے، لوگ اس نظام سے تنگ ہیں، لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ تحریک انصاف بھی ملت تشیع کو انصاف نہ دے سکی، سانحہ راولپنڈی جو تشیع کے خلاف ایک سازش تھا جسے بے نقاب کیا گیا، اس کے بعد 13 محرم کو کوہاٹ شہر میں بے گناہ اہل تشیع پر حملہ کیا گیا اور امام بارگاہ کو جلانے کی کوشش کی گئی، جن لوگوں نے امام بارگاہ کو بچانے کی کوشش کی وہ آج تک پابند سلاسل ہیں۔ ساتھ ہی سینکڑوں دکانوں کو لوٹا گیا، لیکن آج تک تحریک انصاف کے وزیراعلٰی نے ان کے زخموں پر کوئی مرہم رکھنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ ان کے کروڑوں کے نقصان کا کوئی ازالہ نہیں کیا گیا، کیمپوں میں دھماکے ہوتے ہیں تو کروڑوں روپے دیئے جاتے ہیں۔ پشاور کی صورتحال دیکھیں، آئے روز شیعیان علی ابن ابیطالب (ع) کو قتل کیا جاتا ہے، قاتل دندناتے نظر آتے ہیں۔ مدارس اور مساجد کی پامالی کی گئی، مدرسہ شہید حسینی میں بم دھماکہ کیا گیا، لیکن آج تک اتنا عرصہ گزرنے کے بعد بھی قاتلوں کو نہ گرفتار کیا گیا اور نہ ہی منظر عام پر لایا گیا، تحریک انصاف سے ہمیں انصاف کی کوئی توقع نہیں، یہ حکومت کوئٹہ جیسے حالات پیدا کر رہی ہے اور ہمیں تحفظ دینے میں مکمل طور پر ناکام ہے، ہماری چیف آف آرمی اسٹاف سے اپیل ہے کہ ہمیں تحفظ دیا جائے، پشاور ہمارا مقتل بن چکا ہے، جہاں روزانہ ہماری لاشیں گرتی ہیں۔ پشاور کے شہری بھی اسی ملک کے شہری ہیں، جن کا تحفظ آپ پر واجب ہے۔ اس شہر کے تحفظ کے لئے دہشت گردوں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کیا جائے۔
شیعت نیوز: : پاراچنار جو گذشتہ کافی عرصہ سے تکفیری دہشتگردوں کے حملوں کی زد میں ہے، اس علاقہ کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کریں۔؟
علامہ سبطین حسینی: پاراچنار محب وطن لوگوں کا علاقہ، جن کے راستوں کو ساڑھے چار سال کے لئے بند کیا گیا، کیا کسی ملک میں ایسی مثال ملتی ہے کہ ایک شہر سے دوسرے شہر تک جانے کے لئے دوسرے ملک سے راستہ اختیار کیا جائے، اور دوسرا ملک بھی ایسا کہ جہاں سے حملے کئے جائیں، باجود اس کے کہ اس ملک کے مہاجرین کو 25 سال پاکستان نے پناہ دی۔ تمام تر زیادتیوں کے باوجود پاراچنار کے شہری محب وطن عوام ہیں، حکومت اس خطہ میں امن کے قیام کے لئے اقدامات کرے، ہر علاقہ میں آرمی تعینات ہے، اس کے باوجود پاراچنار میں خودکش دھماکے کیسے ہوتے ہیں۔ پاراچنار کو ہم کبھی بھی وزیرستان بننے نہیں دیں گے۔
شیعت نیوز: تنظیم سازی اور دیگر تنظیمی سرگرمیوں سے آگاہ کریں۔؟
علامہ سبطین حسینی: شوریٰ کے اجلاس میں دو اہم نکات کی طرف اشارہ کیا گیا، جن میں سے تنظیم سازی ایک تھا، چونکہ جب تک کوئی تنظیم وارڈ اور محلہ کی سطح تک نہ پھیل جائے تب تک وہ ملکی سطح پر منظم نہیں ہوسکتی، اجلاس میں ہر سیکرٹری جنرل کو ہدایت کی تھی محرم الحرام سے قبل ضلعی کابینہ مکمل کریں اور تنظیم سازی بھی کی جائے، ضلع ہری پور اور ہنگو میں مسائل ہیں، اس کے علاوہ صوبہ بھر میں تنظیم سازی مکمل ہے۔ ہنگو پروگرام کے حوالہ سے پیش رفت ہوئی ہے اور وہاں کے شیعہ سنی عوام نے امن معاہدہ کو جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے، عزاداری سیدالشہداء (ع) کو مزید تقویت دینے اور مسلمانوں میں وحدت و اتفاق کے لئے ہنگو میں 19 اکتوبر کو عظیم الشان اجتماع ہوگا اور عزاداری سیدالشہداء کی راہ میں شہید ہونے والوں کی یاد میں ایک کانفرنس ہوگی، جس کا عنوان عزاداری سیدالشہداء کا تحفظ اور تقاضے رکھا گیا ہے، یہ اجتما ع ملی تنظیموں اور ماتمی سنگتوں کا عظیم الشان اجتماع ہوگا۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close