مقالہ جات

کیا انہوں نے مذہب تبدیل کر لیا ہے؟

پاکستان میں ایک گروہ ہمیشہ سے ربیع الاول اور محرم الحرام میں نکلنے والے مذہبی جلوسوں کی مخالفت کرتا چلا آرہا ہے۔ اس گروہ کی طرف سے ان جلوسوں کو بدعت قرار دیا گیا اور حکومت سے تقاضا کیا جاتا رہا کہ ان پر پابندی عائد کی جائے۔ اس گروہ کی طرف سے ان جلوسوں کے خلاف مذہبی فتووں کے علاوہ یہ دلیل بھی دی جاتی رہی کہ یہ جلوس عام انسانی اور شہری معمولات میں حائل ہوتے ہیں۔ عید میلاد النبیؐ کے جلوسوں کے خلاف اس گروہ کے بزرگوں نے بے شمار کتب اور رسائل شائع کر رکھے ہیں۔ یہی حال امام حسینؑ کی عزاداری کے حوالے سے نکلنے والے جلوسوں کا ہے۔ یہ گروہ کہتا رہا ہے کہ ان جلوسوں کو امام بارگاہوں کے اندر تک محدود رکھا جائے۔

اس گروہ میں سے پھر مزید شدت پسند گروہ نکلے، جنھوں نے اپنے تئیں ان ’’بدعتوں‘‘ کے خاتمے کے لئے تشدد پر مبنی کارروائیاں شروع کر دیں۔ انھوں نے عید میلاد النبیؐ کے عنوان سے منعقدہ تقریبات اور جلوسوں پر حملے کئے، جن کے نتیجے میں ملک کے مختلف شہروں میں سینکڑوں علماء اور عام مسلمان شہید اور زخمی ہوئے۔ انھوں نے سیدالشہدا ؑ کی یاد میں برپا مجلسوں اور جلوسوں پر بھی حملے کئے اور اب تک ان حملوں کے نتیجے میں سینکڑوں عزادار شہید اور زخمی ہوچکے ہیں۔ ان پرتشدد اور ہولناک کارروائیوں کی وجہ سے اب پاکستان بھر میں عید میلاد النبیؐ اور فرزند رسولؐ حضرت امام حسینؑ کی یاد میں برپا مجالس اور جلوسوں کو محفوظ تصور نہیں کیا جاتا اور خوف و وحشت کی ایک کیفیت برپا ہے۔
اس گروہ کے شدت پسند مصنفین نے عید میلاد النبیؐ اور مجالس سیدالشہداءؑ کا اہتمام کرنے والوں کو بدعتی ہی نہیں مشرک و کافر بھی قرار دینا شروع کر دیا۔ ان کے خطباء نے اپنے ماننے والوں میں اشتعال پیدا کیا، جس کے نتیجے میں سرعام تشدد پر آمادہ ایک تکفیری گروہ پیدا ہوگیا۔

دوسری طرف یہی متشدد گروہ سیاسی جلوس اور اپنے ’’شہیدوں‘‘ کی عزاداری کے جلوس نکالتا رہا۔ اپنے بزرگوں کے یوم وفات پر مجالس منعقد کرتا رہا۔ حکومت اور مخالفین کے خلاف پورے ملک میں یہ گروہ آئے دن جلوس نکالتا اور دھرنے دیتا ہے۔ اب کچھ عرصے سے یہ گروہ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی یوم وفات پر بڑے بڑے جلوسوں کا اہتمام کرنے لگا ہے۔ ان کے ان جلوسوں اور کاموں کو دیکھ کر ہمیں خیال پیدا ہوا کہ کیا انھوں نے اپنا مذہب تبدیل کر لیا ہے؟ کیا اب ان کے نزدیک عید میلاد النبیؐ کے جلوس بھی ’’بدعت‘‘ نہیں رہے؟ کیا اب وہ نواسۂ رسولؐ کی یاد میں نکلنے والے جلوسوں کو بھی جائز سمجھنے لگے ہیں؟ ایسا ہے تو بہت اچھا ہے۔ ہمیں ان کے عزاداری کے جلوسوں پر اعتراض نہیں، لیکن اب انھیں تکفیری نعروں، تکفیری و بدعتی فتووں اور دوسروں پر کیچڑ اچھالنے سے بھی پرہیز کرنا چاہیے بلکہ ہوسکے تو اب تمام گروہوں کو ایک دوسرے کے جلوسوں میں احترام کے ساتھ شرکت کرنا چاہیئے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ عزاداری کے نئی قسم کے جلوسوں کے خلاف دوسری طرف کے علماء نے آج تک کوئی اعتراض نہیں کیا۔ ان نئی رسموں کو کسی نے بدعت قرار نہیں دیا۔ انھیں بند کرنے کا کسی نے مطالبہ نہیں کیا۔ ذرائع ابلاغ نے بھی انھیں خوب کوریج دی ہے۔ اس سے بظاہر بہتر ہوتی ہوئی صورت حال اور متشدد گروہوں کی تبدیلئ روش کے بعد ان سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ کھل کر اپنے ماضی کے فتووں سے برأت کا اظہار کریں اور عید میلاد النبیؐ کی تقریبات اور جلوسوں کے تقدس و احترام کو قبول کرتے ہوئے ان کا اہتمام کرنے والوں کی طرف دوستی اور محبت کا ہاتھ بڑھائیں۔ اسی طرح نبی کریمؐ کے نواسہ شہید اعظم حضرت امام حسینؑ کی یاد میں برپا مجالس اور جلوسوں کا اہتمام کرنے والوں کی طرف بھی خیر سگالی اور دوستی کا ہاتھ بڑھائیں۔

یہاں تک کہ برصغیر ہندو پاک کے ماضی کی یادیں تازہ ہوجائیں، جب شیعہ و سنی مل کر اپنی اپنی روایات اور فہم دین کے مطابق ان مجالس اور جلوسوں کا اہتمام کرتے تھے۔ شیعہ اگر جلوس کا اہتمام کرتے تو سنی پانی کی سبیلیں لگاتے، مختلف علاقوں میں اہل سنت ان جلوسوں کا محبت سے استقبال کرتے۔ سیدالشہداؑء کی مظلومیت کو یاد کرکے مل کر آنسو بہاتے کیونکہ وہ سب جانتے تھے کہ جب ابھی واقعہ کربلا ظہور پذیر نہ ہوا تھا، تو اسے یاد کرکے آنحضرتؐ نے آنسو بہائے تھے۔ گویا امام حسینؑ کی مظلومیت اور شہادت پر آنسو بہانا ان کے نزدیک رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت تھا اور اعتدال کے اس راستے پر قائم شیعہ اور سنی کے نزدیک ایسا کرنا اب بھی سنت ہے۔ اس لئے کہ سنتیں تو تبدیل نہیں ہوا کرتیں۔

اگر ایسا ہوجائے تو پورے ملک میں مذہبی شدت پسندی کی پھیلائی ہوئی خوف و وحشت کی لہر ختم ہو جائے۔ ملک میں امن و امان قائم ہونے میں اس سے بہت مدد ملے گی اور ملک ایک مرتبہ پھر باہمی اتحاد کے ساتھ ترقی کی طرف گامزن ہوجائے گا۔ دشمنوں نے شدت پر مبنی کارروائیوں کا سہارا لے کر اسلام کو بدنام کرنے کا جو طریقہ اپنا رکھا ہے، اس میں بھی انھیں ناکامی ہوگی۔ دیگر مسلمان ملکوں میں بھی اچھا پیغام جائے گا۔ مثبت تبدیلی کو ہمیں بہرحال خوش آمدید کہنا چاہیئے۔
تحریر: ڈاکٹر عبداللہ حجازی

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close