ایران

ایرانی میزائلوں نے اسرائیل کے چھکے چھڑا دیے

رپورٹ کے مطابق خطے کی اسلامی استقامت خصوصا لبنان کی حزب اللہ اور فلسطین کی تحریک حماس اور جہاد اسلامی کو عالم اسلام کے سب سے بڑے دشمن یعنی صیہونی حکومت کے مقابلے میں مدد فراہم کرنا اسلامی جمہوریہ ایران کی اہم اسٹریٹیجی ہے۔ ایران نے خطے کی اسلامی استقامت کی جو مدد کی ۔ اس کے مثبت اثرات صیہونی حکومت کی جانب سے غزہ پر مسلط کردہ بائیس روزہ اور اکاون روزہ دو جنگوں کے دوران کھل کر سامنے آئے۔ ایران کی جانب سے دیۓ جانے والے فجر پانچ راکٹوں کی بناء پر وہ جنگ جو صیہونی حکومت فلسطینیوں کے علاقوں میں لڑتی تھی، مقبوضہ فلسطینی علاقوں یعنی اسرائیل میں منتقل ہوگئي اور اس کا دائرہ ناجائز صیہونی حکومت کے دارالحکومت تل ابیب تک پھیل گيا۔ ایران کے اعلی فوجی افسروں کے مطابق ایران کی جانب سے تربیت دیۓ جانے کے بعد ان راکٹوں کو غزہ کے اندر ہی تیار کیا جاتا ہے۔ حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے حال ہی میں اپنی ایک تقریر میں کہا ہے کہ کریات اشمونہ کے قریب واقع شمالی علاقوں سے لے کر بندر ایلات کے جنوبی ترین علاقوں تک پورے مقبوضہ فلسطین یعنی اسرائیل کے تمام علاقے اسلامی استقامت کے میزائیلوں اور دوسرے جنگي ہتھیاروں کی زد میں ہیں۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی فضائیہ کے ڈپٹی کمانڈر میجرجنرل سید مجید موسوی نے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران جہادی گروہوں کے راکٹوں اور میزائيلوں کی رینج کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس اس وقت جو راکٹ ہیں ان کے ذریعے وہ جنوب سے شمال تک کے تمام مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو اپنا نشانہ بنا سکتے ہیں۔ سید مجید موسوی نے اس بات کی جانب بھی اشارہ کیا کہ اسلامی استقامت ان راکٹوں کو ” فاتح ” میزائیلوں کی سطح پر اپ گریڈ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور اس کےبارے میں پلاننگ بھی کی جاچکی ہے۔

واضح رہے کہ فاتح میزائل ایران کا بنایا ہوا میزائل ہے جو ڈھائی سو سے تین سو کلومیٹر تک زمین سے زمین پر مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ میزائل ڈیڑہ کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے آگے بڑھتا ہے۔ یہ میزائل ٹھیک نشانے پر جا کر لگتا ہے اور اگر نشانہ پر نہ لگے تب تک اس سے دس میٹر سے کم فاصلے پر لگتا ہے۔ ہدف سے اس قدر کم فاصلے پر لگنے کی وجہ سے زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائيلوں میں فاتح میزائل خاص اہمیت کا حامل ہے۔ اور اس سے ایران میں میزائیل کی صنعت میں ہونے والی پیشرفت کی بھی نشاندہی ہوتی ہے۔ خطے کی اسلامی استقامت چونکہ اس طرح کے میزائلوں سے لیس ہے اس لۓ صیہونی حکومت کے ڈیمونا ایٹمی بجلی گھر سمیت تمام حساس مراکز استقامت کے میزائلوں اور راکٹوں کی زد میں ہیں اس لۓ ان کا زیادہ تعداد میں فائر کیا جانا بچوں کی قاتل اس ناجائز صیہونی حکومت کی نابودی پر منتج ہوگا۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close