مقالہ جات

جب انصاف ناپید ہوجائے تو آبادیاں ویران ہوجاتی ہیں (ایک تمثیل)۔

ایک طوطا اور مینا کا گزر ایک ویرانے سے ہوا، وہ دم لینے کے لئے ایک گھنے درخت پر بیٹھ گئے

طوطے نے مینا سے کہا اس علاقے کی ویرانی دیکھ کر لگتا ہے کہ الوؤں نے یہاں بسیرا کیا ہو گا

ساتھ والی شاخ پر ایک الو بیٹھا تھا اس نے یہ سن کر اڑان ماری اور ان کے برابر میں آ کر بیٹھ گیا

علیک سلیک کے بعد الو نے طوطا اور مینا کو مخاطب کیا اور کہا کہ آپ میرے علاقے میں آئے ہیں، میں ممنون ہوں گا اگر آپ آج رات کا کھانا میرے غریب کھانے پر تناول فرمائیں

اس جوڑے نے الو کی دعوت قبول کر لی- رات کا کھانا کھانے اور پھر آرام کرنے کے بعد جب وہ صبح واپس نکلنے لگے تو الو نے مینا کا ہاتھ پکڑ لیا اور طوطے کو مخاطب کر کے کہاکہ اسے کہاں لے کر جا رہے ہو، یہ میری بیوی ہے

یہ سن کر طوطا پریشان ہو گیا اور بولا کہ یہ تمہاری بیوی کیسے ہو سکتی ہے، یہ مینا ہے اور تم الو ہو، تم زیادتی کر رہے ہو

اس پر الو ایک وزیر با تدبیر کی طرح ٹھنڈے لہجے میں بولاکہ ہمیں جھگڑنے کی ضرورت نہیں، عدالتیں کھل گئی ہوں گی- ہم وہاں چلتے ہیں، وہ جو فیصلہ کریں گی، ہمیں منظور ہوگا

طوطے کو مجبوراً اس کے ساتھ جانا پڑا- جج نے دونوں طرف کے دلائل بہت تفصیل سے سنے اور آخر میں فیصلہ دیا کہ مینا طوطے کی نہیں الو کی بیوی ہے

یہ سن کر طوطا روتا ہوا ایک طرف کو چل دیا- ابھی وہ تھوڑی ہی دور گیا تھا کہ الو نے اسے آواز دی

تنہا کہاں جا رہے ہو، اپنی بیوی تو لیتے جاؤ

طوطے نے روتے ہوئے کہا کہ یہ میری بیوی کہاں ہے، عدالت کے فیصلے کے مطابق اب یہ تمہاری بیوی ہے

اس پر الو نے شفقت سے طوطے کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا

یہ میری نہیں، تمہاری ہی بیوی ہے، میں تو صرف یہ بتانا چاہتا تھا کہ بستیاں الوؤں کی وجہ سے ویران نہیں ہوتیں بلکہ اس وقت ویران ہوتی ہیں جب وہاں سے انصاف ناپید ہو جاتا ہے

یہی حال کم و بیش پاکستان کا ہے جہاں انصاف ناپید ہوچکا ہے، قاتل آزادی سے دندناتے پھرتے ہیں اور بے گناہ روز مارے جاتے ہیں مگر انصاف کی فراہمی کے دعویدار انصاف فراہم نہیں کر پاتے۔

 

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

یہ بھی ملاحظہ کریں

Close
Back to top button
Close