پاکستان

لال مسجد سے منسلک غازی فورس راولپنڈی اسلام آباد میں اپنے انسانی بموں کے ذریعہ دہشت گردی کی بڑی کارروائیوں کی تیاری کررہی ہے

ان اطلاعات کے درمیان کہ لال مسجد سے منسلک غازی فورس راولپنڈی اسلام آباد میں اپنے انسانی بموں کے ذریعہ دہشت گردی کی بڑی کارروائیوں کی تیاری کررہی ہے، تفتیش کرنے والوں نے 20؍ جنوری کو واہ میں پولیس چوکی پر حملہ کرنے والے خودکش بمبار کو لال مسجد کے مدرسے جامعہ فریدیہ کے سابق طالبعلم کوثر علی کی حیثیت سے شناخت کیا ہے۔ تفتیش کنندگان کے مطابق بمبار خودکش مشن پر تھا اور راولپنڈی کی بس میں سوار تھا، جی ٹی روڈ پر واہ میں پولیس چوکی پر بس کو روک کر تلاشی کے دوران اے ایس آئی بابر نے 25؍ سالہ نوجوان کو بس سے اتار کر اس کی جسمانی تلاشی لینے کی کوشش کی تو اس نے شور مچایا مجھ سے دور رہو اور ایک دستی بم پولیس اہلکار کی طرف پھینکا جو ہدف کی بجائے چند میٹر دور گرا جس سے ایک خاندان کے تین افراد جمرود خان، محمود خان اور نسیم بی بی زخمی ہوگئے۔ انسانی بم قریبی کھیتوں کی طرف بھاگا تو پولیس اہلکاروں نے وارننگ کیلئے فائرنگ کی، بمبار فائرنگ نظرانداز کرکے واہ کے جھٹلا گائوں کی طرف بھاگا، ایک پولیس اہلکار اس کو پکڑنے کے قریب تھا کہ اس نے خود کو کھیتوںمیں دھماکے سے اڑالیا، دھماکے سے اس کا نصف چہرہ بھی اڑ گیا۔ راولپنڈی سٹی پولیس افسر ہمایوں بشیر پہلے ہی تصدیق کرچکے ہیں کہ بمبار کا تعلق لال مسجد سے تھا اور بعض اہم تنصیبات و شخصیات کو نشانہ بنانے کیلئے راولپنڈی جارہا تھا۔ تفتیش کاروں نے انسانی بمبار کی شناخت کیلئے سات افراد کو گرفتار کیا جن میں اس کے دو بھائی بھی شامل تھے جنہیں ان کے آبائی گائوں جبی کسران فتح جنگ سے پکڑا گیا۔ کوثر کے لواحقین میں بیوہ، تین بھائی اور ایک بہن شامل ہیں جو فیصل آباد میں رہتے ہیں اس کی والدہ کا کہنا ہے کہ کوثر تین ماہ قبل گھر سے گیاتھا اس کے بعد سے اس کا اپنی اہلیہ سمیت کسی گھر والے سے رابطہ نہیں ہوا تھا، کوثر کا ایک بھائی قتل کیس میں اٹک جیل میں قید ہے۔ وزارت داخلہ کو یکم جنوری 2015ء کو ایک اہم انٹیلی جنس ایجنسی نے خبردار کیا تھا کہ مولانا عبدالعزیز اسلام آباد میں امن و امان کیلئے سنگین خطرہ ہیں، مولانا عبدالعزیز کے عنوان سےمراسلے میں کہا گیاتھا کہ لال مسجد مافیا کے کئی ریاستی مخالف دہشت گرد گروپوں سے رابطے میں ہیںاور غازی فورس کوازسرنو منظم کررہی ہے۔ لال مسجد شہداء فائونڈیشن کے صدر طارق اسد ایڈووکیٹ نے جو مولانا عبدالعزیز کے وکیل بھی ہیں، اس تاثر کو سختی سے مسترد کردیا کہ مولانا عبدالعزیز نے غازی فورس کیلئے کچھ کیا ہےیا کسی اور ایسے گروپ سے تعلق ہے جو ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہو۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close