دنیا

جہادالنکاح کا شوق، جہادی دلہن بننے کیلئے برطانوی لڑکیاں بے تاب

رطانوی لڑکیاں خود کو معاشرے سے اس قدر الگ الگ کیوں سمجھتی ہیں کہ داعش میں شمولیت اختیار کرنے کے ارادے سے شام چلی جائیں؟ بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ میں ایک نوجوان برطانوی مسلمان خاتون عائشہ کا کہنا ہے کہ یوٹیوب پر جہادیوں کی پراپیگنڈا ویڈیوز میں سیکس اپیل نے ان کو بنیاد پرستی کی جانب راغب کرنے میں اہم کر دار ادا کیا۔ وسطی انگلینڈ سے تعلق رکھنے والی عائشہ جن عمر لگ بھگ بیس سال ہے، وہ کالج اور یونیورسٹی میں بنیاد پرستی کی جانب مائل ہوگئی تھیں اور اس سب کا آغاز آن لائن ہوا۔ انھوں نے بتایا کہ ’میں فیس بک پر تھی جب ایک دن اس نے مجھ سے رابطہ کیا اور کہا ’تم بہت پرکشش ہو‘۔ میری عمر اس وقت 16،17 سال تھی۔ اس نے کہا ’اب خوبصورتی کو چھپانے کا وقت ہے کیونکہ تم بہت قیمتی ہو‘۔ یہ ہراساں کرنے جیسا تھا۔ آپ خدا پر اور جنت اور دوزخ پر یقین رکھتے ہیں اور کوئی آپ کو بتائے کہ اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو جہنم میں چلے جائیں گے۔ یہ شاید مجھے نشانہ بنانے کا بہترین طریقہ تھا اور ایسا ہی ہوا۔‘

عائشہ نے داعش کے جہادیوں پر نظر نہیں رکھی ہوئی تھی بلکہ اس سے پہلے عراق میں القاعدہ اور صومالیہ میں الشباب کے جنگجوؤں پر تھی۔ اس بارے میں وہ کہتی ہیں کہ بطور ایک نوعمر لڑکی وہ ایک خوش شکل مرد حاصل کرنا چاہتی تھی اور یوٹیوب ویڈیوز میں وہ تمام بہت زیادہ پرکشش دکھائی دیتے تھے۔ وہ کہتی ہیں ’یہ اس لحاظ سے بھی گلیمریس تھا کہ مجھے کوئی ایسا مل سکتا ہے جو اسی مذہب کا پیروکار ہے جس پر مجھے یقین ہے، ضروری نہیں کہ اس کی نسل وہی ہو جو میری ہے، اور یہ پہلو جوشیلہ تھا۔ یہ ایسا ہی تھا جیسے کوئی انجان۔ آپ یوٹیوب پرحال ہی میں مرنے والے کسی نوجوان کا صفحہ دیکھتے ہیں اور کہتے اس کو میں نے کچھ ہی عرصہ پہلے ایک ویڈیو میں دیکھا، اور اب یہ مر چکا ہے۔ یہ بہت عجیب سا تھا۔ پیغام دیا گیا کہ اسے حاصل کر لو اس سے پہلے کہ یہ مر جائے۔‘ ’اور جب وہ شہید کے طور پر مرتا ہے، آپ جنت میں اس سے ملتے ہیں۔‘

عائشہ کو انور العولاقی کے خطبات آن لائن دیکھنے کے لیے کہا گیا۔ جس شخص نے ان سے سوشل میڈیا پر رابطہ کیا اور بنیاد پرست سلفی خیالات کی جانب مائل کیا، اس نے جلد ہی انہیں القاعدہ کے پراپیگنڈا خطبات دیکھنے کو کہا اور اس کے ساتھ ہی مزید بات چیت سننے کے لیے مقامی مسجد میں جانے کے لیے کہا۔ انور العولاقی مغرب میں مسلمانوں میں بنیاد پرستی پھیلانے میں خاص مہارت رکھتے تھے۔ انور العولاقی کے بارے میں عائشہ کہتی ہیں کہ ’وہ بذریعہ ای میل اس امریکی اہلکار کے ساتھ رابطے میں تھے جس نے فورٹ ہڈ میں 13 ساتھیوں کا قتل کیا تھا، اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ وہ چارلی ایبڈو کے حملہ آوروں میں سے ایک سے 2011 میں مل چکے تھے، امریکی ڈرون حملے میں اپنی موت سے پہلے۔‘ انور العولاقی کی ہلاکت کے بارے میں ان کا کہنا تھا ’جب اس کی ہلاکت ہوئی تو میں بہت زیادہ دھچکا لگا۔ میں بہت زیادہ غمزدہ تھی کیونکہ میں نے سوچا کہ میں نے ایک بہت اچھا رہنما کھو دیا ہے۔‘ عائشہ نے بتایا کہ انہیں جہاد اور شہادت کی جانب مائل کیا گیا۔

’شہادت کے بارے میں بتایا کہ یہ ایک مثبت کام ہے۔ آپ شہید ہیں، اپنے مذہب کے جنگجو ہیں۔ مجھے پورا یقین ہے کہ اس حوصلہ افزائی کا اس شہر کے بہت سارے نوجوان مردوں پر اثر ہوا اور وہ اس کا حصہ بنے۔‘ ’کچھ خطبات میں ہمیں تلقین کی گئی ہم خود کو برطانوی مت کہیں۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ ایک کافر قوم ہے، اس قوم نے بہت سارے مسلمانوں کا قتل کیا ہے اور یہ قوم ہماری دشمن ہے۔‘ ’آپ ریاست پر یقین مت کریں، پولیس پر یقین مت کریں، اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں مت بھیجیں، انہیں اسلامی سکولوں میں بھیجیں اور گھر میں تعلیم دیں۔ سلفی اور وہابیوں کا یقین ہے کہ اس طرح برطانیہ شرعی ریاست بن جائے گی۔‘ عائشہ سے جب جہاد کی تعلیم دینے والوں کے غیر مسلم خواتین کے بارے میں خیالات کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے بتایاکہ وہ ان کے بارے میں ہتک آمیز خیالات رکھتے ہیں کہ یہ عملی طور پر بالکل مردوں جیسی ہیں۔ ’مجھے بتایا گیا کہ میں بالکل فرمانبردار بن کر رہوں، مجھے گھر میں رہنا چاہیے۔ اگرچہ میں دیکھ سکتی تھی کہ جس فرقے کی میں پیروی کر رہی ہوں وہ مجھے مذہب کے اندر رہتے ہوئے مرد اور خاتون کے درمیان مساوات قائم رکھنے کا درس دے رہا ہے لیکن میں نے یہ بھی دیکھا کہ یہ خواتین کے ساتھ بالکل انصاف نہیں کر رہا۔ یہ بنیادی چیز تھی، اور اس کے ساتھ یہ کہ آپ جائیں اور کسی بھی غیر مسلم کا قتل کر دیں ، انہی دو عوامل کی بنا پر میں اس سے دور ہوگئی۔‘ محمد ایموازی جہادی جان کی بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ان کی سابقہ ساتھی انھیں رول ماڈل تصور کرتی ہیں، ایک شخص جو شہید ہوا، ان کے نام پر، ان کے لیے اور اپنے لوگوں کے لیے۔ ایک ایسا شخص جس پر وہ فخر کر سکتی ہیں۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close