دنیا

سعودیہ میں آمریت ہے،خواتین کے حقوق نہیں اور بلاگر کو کوڑے مارے جاتے ہیں،سویڈیش وزیرخارجہ

سٹاک ہولم حکومت کی طرف سے ریاض پر تنقید اور پھر سعودی عرب کے سویڈن سے اپنا سفیر واپس بلا لینے کے فیصلے کے ایک ہفتے بعد اب متحدہ عرب امارات نے بھی اس شمالی یورپی ملک سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے۔

سٹاک ہولم سے بدھ اٹھارہ مارچ کی شام ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق سویڈن اور سعودی عرب کے مابین پیدا ہونے والا سفارتی تنازعہ اب مزید پھیل گیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ خلیج کی اس عرب ریاست نے سویڈن سے اپنا سفیر واپس بلانے کا فیصلہ ’سویڈش وزارت خارجہ کے ناراض کر دینے والے ریمارکس‘ کی وجہ سے کیا ہے۔

بیان کے مطابق، ’’اس موضوع پر ہماری شکایت سے ابوظہبی میں سویڈن کے سفیر کو باقاعدہ طور پر مطلع کر دیا گیا ہے۔‘‘ متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے مزید کہا ہے، ’’یو اے ای کی حکومت ہمسایہ عرب ریاست سعودی عرب کے بارے میں سویڈش وزیر خارجہ کی طرف سے دیے گئے انتہائی سخت بیانات کی مذمت کرتی ہے۔‘‘
اے ایف پی نے لکھا ہے کہ ابوظہبی سے جاری کردہ بیان میں سویڈش خاتون وزیر خارجہ کے بیانات سے متعلق کہا گیا ہے، ’’سویڈن کی وزیر خارجہ کے بیانات ریاستی خود مختاری کے ان بنیادی اصولوں کی نفی کرتے ہیں، جو کسی بھی دو ممالک کے مابین تعلقات کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہی سویڈش بیانات دوسرے ممالک اور برادریوں کے مخصوص مذہبی اور ثقافتی حالات اور تقاضوں کے لیے احترام کے مظہر بھی نہیں ہیں۔‘‘

متحدہ عرب امارات کی طرف سے سٹاک ہولم سے اپنا سفیر واپس بلانے کے آج کے احتجاجی فیصلے سے ایک ہفتہ قبل سعودی عرب نے بھی سویڈن سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا تھا۔ ریاض حکومت کے مطابق اس کے اس قدام کی وجہ یہ بنی تھی کہ سویڈش خاتون وزیر خارجہ مارگوٹ والسٹروم نے سٹاک ہولم کی پارلیمان سے اپنے ایک حالیہ خطاب میں سعودی عرب کے جمہوریت اور انسانی حقوق کے حوالے سے ریکارڈ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

فروری کے اوائل میں مارگوٹ والسٹروم نے ملکی پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے سعودی عرب کو ایک ایسی ’آمریت‘ قرار دیا تھا، جہاں خواتین کے حقوق کی خلاف ورزیاں کی جاتی ہیں اور بلاگرز کو کوڑے مارے جاتے ہیں۔ بعد میں والسٹروم نے یہ الزام بھی لگایا تھا کہ سعودی عرب ہی کی وجہ سے انہیں عرب لیگ کے ایک حالیہ وزارتی اجلاس میں انسانی حقوق کے موضوع پر خطاب کرنے سے بھی روک دیا گیا تھا۔

اس تنقید کے پس منظر میں سویڈن نے سعودی عرب کے ساتھ اپنا ہر قسم کا فوجی تعاون بھی ختم کر دیا تھا۔ اسی دوران ریاض حکومت نے بھی سٹاک ہولم سے اپنا سفیر واپس بلا لیا تھا۔
ابوظہبی حکومت کے سویڈن سے اپنا سفیر واپس بلانے کے فیصلے پر اپنے رد عمل میں سٹاک ہولم میں وزارت خارجہ کے ترجمان ایرِک بومین نے بدھ کی شام ایک سویڈش روزنامے کو بتایا، ’’ظاہر ہے کہ ہمیں اس
فیصلے پر افسوس ہے۔ ہمارے متحدہ عرب امارات کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ ان روابط کو بچایا جائے اور انہیں ترقی دی جائے۔‘‘

دوسری جانب یمن کے معمالے پر عرب ریاستوں نے ایک اجلاس میں یمن میں عوامی جدوجہد کو دہشتگردی قرار دیتے ہوئے وہاں مداخلت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close