کاپی رائٹ کی وجہ سے آپ یہ مواد کاپی نہیں کر سکتے۔
سعودی عرب

سعودی عرب، کرین حادثہ میں انتظامی غفلت کارفرما، بن لادن کمپنی بلیک لسٹ

خانہ کعبہ میں عازمین حج کے ساتھ پیش آنے والے سانحہ میں سعودی عرب کے شاہی دیوان نے تعمیراتی کمپنی بن لادن کو بلیک لسٹ کردیا ہے۔ گیارہ ستمبر کو پیش آنے والے اس سانحہ میں ایک سو گیارہ افراد شہید جبکہ دو سو سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ تبصرہ نگار اس سانحہ کو سعودی عرب کا نائن الیون قرار دے رہے ہیں۔ عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق کے حرم کعبہ میں گرنے والی کرین دنیا کی دوسری بڑی کرین تھی، جو کہ بن لادن کمپنی کی ملکیت تھی۔ حرم کعبہ میں جاری توسیع پروگرام بھی اسی کمپنی کے ذمہ تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سعودی شاہی دیوان نے سانحے میں دہشت گردی کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے اسے تکنیکی غلطی قرار دیا ہے۔ شاہی دیوان کے مطابق ’’حادثہ کرین کی غلط پوزیشن کے سبب پیش آیا ہے، ابتدائی تفتیش میں کسی قسم کی مجرمانہ سرگرمی ثابت نہیں ہوئی ہے‘‘۔ شاہی دیوان نے بن لادن گروپ کو اس سانحے کا ذمہ دار ٹہراتے ہوئے بلیک لسٹ قرار دے کر مذکورہ کمپنی کے عہدیداران کے ملک چھوڑنے پر پابندی عائد کردی ہے۔ شاہی دیوان کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق بن لادن گروپ کو اس حادثے کے سبب آئندہ کسی قسم کے منصوبے پر کام کرنے کی اجازت نہیں ملے گی۔ شاہی دیوان نے حادثے میں شہید ہونے والے افراد کے لواحقین کے لئے 10 لاکھ ریال امداد کا بھی اعلان کیا ہے۔ یاد رہے کہ جمعہ کو نمازِ مغرب سے کچھ دیر قبل حرم شریف میں دنیا کی دوسری بڑی کرین تیز ہوا اور بارش کے سبب گر گئی تھی، کرین حادثہ میں ایک سو گیارہ عازمین حج شہید جبکہ دو سو سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ حادثے میں 6 پاکستانی شہری شہید جبکہ 26 زخمی ہوئے تھے، جنہیں سعودی عرب کے مختلف اسپتالوں میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close