دنیا

خلیجی ممالک ایران و داعش سے مقابلے کے لئے تیار ہوجائیں، امریکی وزیر جنگ

امریکی وزیر جنگ ایشٹن کارٹر نے خلیج فارس کے ساحلی ممالک سے کہا ہے کہ وہ اپنی برّی افواج کی تقویت اور خصوصی فورسز کی تشکیل کے ساتھ ایران اور داعش کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو جائیں۔

انٹرنیٹ پر شائع ہونے والے جریدے اٹلینٹک نے امریکی وزیر جنگ ایشٹن کارٹر کے حوالے سے اس سلسلے میں مزید لکھا ہے کہ خلیج (فارس) کے عربوں کو جنگ میں کود پڑنا چاہئے۔ امریکہ کے فوجی برسہا برس سے خطے میں موجود ہیں۔ درحقیقت سنہ انیس سو اکہتر میں خلیج فارس سے برطانوی فوجیوں کے انخلا کے بعد امریکہ نے خلیج فارس میں اپنی فوجی موجودگی کی تقویت کے لئے خصوصی کوشش کی۔ یہاں تک کہ اس نے بحرین میں اپنا پانچواں فوجی بیڑہ تعینات کر دیا۔ البتہ اب بعض ایسی رپورٹیں بھی سامنے آ رہی ہیں جن کی بنیاد پر امریکہ کا پانچواں بیڑہ بحرین سے جا رہا ہے اور برطانیہ امریکہ کی جگہ لے رہا ہے۔ بحرین نے حال ہی میں برطانیہ کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔ اور برطانوی وزیر دفاع مائیکل فالون نے کہا ہے کہ برطانیہ طویل مدت تک مشرق وسطی میں موجود رہے گا۔ ان امور سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ خطے کی صورتحال خصوصا صدام حکومت کی سرنگونی پر منتج ہونے والے عراق پر امریکی حملے کے بعد خطے کی صورتحال بہت تیزی سے تبدیل ہوتی رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ خطے میں اغیار کے فوجی اثر و رسوخ میں بھی اضافہ ہوتا رہا ہے۔ اور اب بھی یہ سلسلہ نام نہاد داعش مخالف امریکی عرب اتحاد کی صورت میں جاری ہے۔

 

امریکی وزیر جنگ ایشٹن کارٹر نے خلیج فارس کے ساحلی ممالک سے کہا ہے کہ وہ اپنی برّی افواج کی تقویت اور خصوصی فورسز کی تشکیل کے ساتھ ایران اور داعش کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو جائیں۔

انٹرنیٹ پر شائع ہونے والے جریدے اٹلینٹک نے امریکی وزیر جنگ ایشٹن کارٹر کے حوالے سے اس سلسلے میں مزید لکھا ہے کہ خلیج (فارس) کے عربوں کو جنگ میں کود پڑنا چاہئے۔ امریکہ کے فوجی برسہا برس سے خطے میں موجود ہیں۔ درحقیقت سنہ انیس سو اکہتر میں خلیج فارس سے برطانوی فوجیوں کے انخلا کے بعد امریکہ نے خلیج فارس میں اپنی فوجی موجودگی کی تقویت کے لئے خصوصی کوشش کی۔ یہاں تک کہ اس نے بحرین میں اپنا پانچواں فوجی بیڑہ تعینات کر دیا۔ البتہ اب بعض ایسی رپورٹیں بھی سامنے آ رہی ہیں جن کی بنیاد پر امریکہ کا پانچواں بیڑہ بحرین سے جا رہا ہے اور برطانیہ امریکہ کی جگہ لے رہا ہے۔ بحرین نے حال ہی میں برطانیہ کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔ اور برطانوی وزیر دفاع مائیکل فالون نے کہا ہے کہ برطانیہ طویل مدت تک مشرق وسطی میں موجود رہے گا۔ ان امور سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ خطے کی صورتحال خصوصا صدام حکومت کی سرنگونی پر منتج ہونے والے عراق پر امریکی حملے کے بعد خطے کی صورتحال بہت تیزی سے تبدیل ہوتی رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ خطے میں اغیار کے فوجی اثر و رسوخ میں بھی اضافہ ہوتا رہا ہے۔ اور اب بھی یہ سلسلہ نام نہاد داعش مخالف امریکی عرب اتحاد کی صورت میں جاری ہے۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close