پاکستان

باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے مرکزی سہولتکار گرفتار

 خفیہ اداروں نے صوبہ خیبر پختون خواہ کے ضلع چار سدہ میں باچا خان یونیورسٹی پر دہشت گردانہ حملے کے مرکزی ملزم اور سہولتکار کو گرفتار کرلیا ہے۔ حساس اداروں نے باچا خان یونیورسٹی کے چار سدہ کیمپس میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعے کے مرکزی سہولت کار کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے، اس حملے میں 25 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں طلبہ، اساتذہ اور اسٹاف کے دیگر افراد شامل تھے۔اہم ذرائع کے مطابق وحید علی عرف ارشد کو گزشتہ ہفتے نوشہرہ سے گرفتار کیا گیا تھا، جسے ‘دہشت گرد اے کی درجہ بندی میں شامل کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق مرکزی سہولت کار نے افغانستان فرار ہونے کے لیے تمام انتظامات مکمل کررکھے تھے اور تورخم کے مقام سے پاک-افغان سرحد عبور کرنے کے لیے ایک ٹیکسی بھی کرائے پر لے رکھی تھی۔ اگر اس کی گرفتاری میں کچھ دیر ہوجاتی تو وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوجاتا۔نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ سہولت کار نے داڑھی شیو کرلی تھی اور سامان پیک کرچکا تھا۔ اس کی ٹیکسی کو راستے میں روکا گیا اور شناخت کی تصدیق کے بعد گرفتار کرلیا گیا۔ ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ مرکزی سہولت کار وحید، جس کی عمر تقریبآ 30 سال ہے، نے اپنے ابتدائی بیان میں بتایا کہ یونیورسٹی پر حملے کی منصوبہ بندی 6 ماہ قبل افغانستان کے ضلع آچن میں کی گئی تھی، جو دہشت گرد کمانڈر خلیفہ عمر منصور عرف عمر نارے کا بیس کیمپ ہے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close