عراق

داعش کے جنگجو خواتین کا گوشت نوچنے کیلئے دھاتی آلے کا استعمال کرنے لگے

شیعیت نیوز: عراق میں عسکریت پسند تنظیم داعش کے ظلم و ستم کی کہانیاں کوئی نئی بات نہیں ہیں ۔رپورٹ کے مطابق جب سے عراقی شہر موصل پر داعش نے قبضہ کیا ہے وہاں کے حالات سے بد سے بد ترین ہوچکے ہیں ۔22سالہ فاطمہ جو داعش کے جنگجوؤں کے چنگل سے نکلنے میں کامیاب ہو چکی ہیں کی جانب سے حال میں انٹرویو دیتے ہوئے بتا یا گیا ہے ان کیلئے موصل میں ایک دھاتی ’’دی بائیٹر‘‘نامی آلہ کسی ڈراؤنے خواب سے کسی صورت کم نہیں ہے

فرار ہونے والی لڑکی نے بتایا کہ موصل کی رہائشی خواتین کیلئے گھروں سے نکلنے سے قبل اپنے جسم کو مکمل طور پر ڈہانپنا لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ علا وہ ازیں گھر سے باہر جانے کیلئے ان کے ساتھ ایک عدد بالغ محرم مرد کا ہونا بھی ضروری ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ ان کی بہن گھر سے نکلنے سے قبل ہاتھوں پر دستانے پہننا بھول گئیں ۔ پس میری بہن کو گھر سے باہر جانے سے پہلے دستانے نا پہننے پر گزشتہ ماہ بائیٹر سے سزا دی گئی ۔ فرار ہونے والی لڑکی  کا کہنا تھا کہ انکی بہن نے بتایا کہ جب بائیٹر سے انکے جسم کے گوشت کو نوچا گیا تو اس کی تکلیف بچے کی پیدائش کے وقت ہونے والی تکلیف سے کہیں ذیادہ تھی ۔رپورٹ کے مطابق وہ لوگ جو موصل سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو چکے کا کہنا ہے کہ وہاں تقریباً ہر چیز کی کمی واقع ہو چکی ہے ۔ داعش نے ابتدائی طور پر شہر کے حالات کو سنبھالنے کی کوشش کی تاہم وہ مکمل طور پر ناکام ہو گئی۔داعش کے جنگجوؤں نے مقامی ہسپتالوں میں صحت کی سہولیات مہیا کرنے کیلئے بھی کو ششیں کیں لیکن کامیاب نہ ہو سکے ۔ موصل کے سابق رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انھیں وہاں واٹر سپلائی کے پائپ ٹوٹے ہونے کی وجہ سے ہفتے میں ایک مرتبہ پانی نصیب ہوتا تھا ۔داعش کی طرف سے عوام کو اپنے نجی جنریٹر سے توانائی حاصل کرنے کیلئے حکم دیا جاتا تھا ۔عسکریت پسندوں کے گڑھ سے گزشتہ ہفتے بایاب کرائی جانے والی سویڈش نوعمر لڑکی نے شہر کے ناگفتہ با حالات کے بارے میں مایوس کن کہانیاں بتلائیں۔ داعش جو ہمیشہ سے اپنے ظلم ستم ، عوام کو کوڑے مارنے اور پھانسیاں دینے کی بنا پر خاصی بدنام تظیم ہے اب اس کے ظلم و بربریت میں ماضی کے مقابلے میں کہیں ذیادہ اضافہ ہو چکا ہے ۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close