پاکستان

شہیدڈاکٹرنقویؒ ،انبیاءکی عدالت خواہی اور ظلم ستیزی کی تحریک کے روحِ رواں تھے، علامہ ناصرعباس جعفری

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ ناصرعباس جعفری نے سفیر انقلاب شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی ؒکی اکیسویں برسی کے موقع پر وحدت سوشل میڈیا ٹیم کو جاری ویڈیوپیغام میں کہا ہے کہ پاکستان میں عدالت خواہی کے عظیم علمبردار شہید قائد حسینی ؒ اور ڈاکٹر شہید محمد علی نقوی تھے،جتنے بھی انبیاءآئے ان کی تحریک عدل خواہی کی تحریک تھی کہ لوگوں کو بیدار کریں باشعور کریں تاکہ انسان عدل کے نفاذکے لئے اُٹھیں،انبیا ءکی تحریک کو  دو لفظوں میں اگر خلاصہ کیا جائے تو یہ کہیں گئے کہ انبیا کی جدوجہد عدالت خواہی ، عدل کے نفاذ کے لئے تھی اور ظلم مٹانے کے لئے تھی ،یہ سلسلہ آگے بڑھتا گیا،انبیا کے ساتھ اولیا ءاللہ اس رستے پر چلتے رہے آئمہ اہل بیت ؑ نے اسی رستے کو اپنایااور اس جدوجہد میں کربلا ایک اہم موڑ ہے کربلا ایک اہم مرحلہ ہے عدالت خواہی کی تحریک کا ظلم ستیزی کا ظلم سے ٹکرانے کی تحریک کا !

ان کا کہنا تھا کہ شہید ڈاکٹر نقویؒ اور قائد شہید ؒاس سرزمین پرعظیم رہنما تھے،شہیدڈاکٹر نقویؒ،انبیاءکی عدالت خواہی اور ظلم ستیزی کی تحریک کے روحِ رواں تھے،انبیاء، آئمہ اور اولیاءکی تحریک عدل خواہی کو آگے بڑھانے کیلئے یہ دونوں شخصیات نمونہ عمل ہیں اور دونوں نے اس راستے میں قربانی دی شہید ہوئے،ڈاکٹر شہید میڈیکل کالج میں پڑھتے رہے تھے تو اس کے ساتھ وہ اپنی اجتماعی ذمہ داریوں سے بھی غافل نہیں تھے ،جب انقلاب اسلامی نہیں آیا تھا ۔جب دنیا اس طرح کے افکار سے زیادہ آشنا نہ تھی انہوں نے پاکستان کی سرزمین پر اس تحریک کو شروع کیا لوگوں کو منظم کیا ان کی تربیت کرنا شروع کی۔،ڈاکٹر نقوی ،عدالت خواہی اور ظلم ستیزی کی تحریک کا شجرہ طیبہ تھے ، جس کے پھل آج تک ہم دیکھ رہے ہیں،آج پاکستان میں اور دنیا بھر میں جہاں چلے جائیں آپ کو ڈاکٹر شہید محمد علی نقوی رح کے تربیت شدہ لوگ ملیں گے ، ہمیں شہید ڈاکٹر کے مشن کی تکمیل کے لئے خود کو آمادہ وتیار کرنا ہوگا۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close