مقالہ جات

انقلاب اسلامی کے زیرِ سایہ حزب اللہ کی حیرت انگیز پیش قدمی

حزب اللہ لبنان کا پر شکوہ وجود کہ جس سے انسانیت کش صیہونی ریاست اسرائیل نیز وہ ریاستیں اور قوتیں جو ہمہ وقت صیہونیت کی خدمت پر مامور ہیں بری طرح لرزہ بر اندام ہیں، در حقیقت امام خمینیؒ کی الٰہی بصیرت کی دین ہے۔ جس طرح انقلابِ اسلامی ایران امام خمینیؒ کی الٰہی فکر کا بہترین ماحصل ہے اسی طرح حزب اللہ بھی امام راحل کی بصیرتِ دینی کا معجز نما کارنامہ ہے کہ ظلم کے خلاف مزاحمت اور جارح قوتوں کے سامنے سرنگونی نہ اختیار کرنا امام خمینیؒ کا وہ الٰہی فلسفہ تھا جس نے حزب اللہ کو وجود بخشا۔ امام خمینیؒ ایران میں ایک حقیقی اسلامی انقلاب کو وجود میں لانے کے دوران انسانیت اور الٰہی تعلیمات سے ماخوذ انسانی و اخلاقی قدروں کے خبیث ترین دشمن نیز ظلم، جارحیت، قتل و غارت گری کے بدترین خوگر اسرائیل کی نابودی پر کمر بستہ رہنے اور قبلۂ اول کو اسکے ناپاک چنگل سے آزاد کرانے کے لیے تمام دنیا کے مسلمانوں کو تکرار اور اصرار کے ساتھ تاکید کرتے رہے۔ محمد رضا شاہ پہلوی کی اسرائیل نواز پالیسی سے امام خمینیؒ اتنے شدید برہم تھے کہ اس کا ایران پر مزید بر سرِ اقتدار رہنا انہیں ہرگز گوارا نہیں تھا۔ اس لیے کہ امام خمینیؒ اس ستم گر ریاست کے وجود کو علاقے کے عوام با الخصوص مسلمانوں کی تمام مصیبتوں کا سر چشمہ تصور کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ’’ الموت للاسرائیل‘‘ انقلابِ اسلامی کے نعروں میں بہت اہم نعرہ تھا جسے ایرانی عوام پوری قوت سے بلند کرتے تھے اور آج بھی یہ نعرہ پوری دنیا میں پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ بلند کیا جا رہا ہے۔

1979ء میں انقلابِ اسلامی ایران کی کامیابی کے بعد سے تو فلسطین کا مسئلہ ایک بار پھر پوری شدت سے زندہ ہوگیا اور اسرائیل کا ناجائز وجود ہر جگہ موضوعِ بحث قرار پایا۔ انقلابِ اسلامی ایران کی کامیابی کے فوراً بعد ہی امام خمینیؒ کے حکم پر ایران سے اسرائیلی سفارت کاروں کو نکال دیا گیا اور سفارت خانہ پی ایل او کے سپرد کر دیا گیا جو کہ اس وقت فلسطین کی مشہور مزاحمتی تنظیم تھی۔ بلا شبہ یہ امام خمینیؒ کی الٰہی حکمتِ عملی تھی جس سے کام لیتے ہوئے آپ نے ماہ رمضان المبارک کے آخری جمعہ یعنی جمعۃالوداع کو ’’یوم القدس‘‘ قرار دیا اور پوری دنیا کے مسلمانوں اور حریت پسندوں کو تاکید کی کہ وہ اس دن اپنے گھروں سے نکل کر سڑکوں پر آئیں اور ناجائز صیہونی ریاست اسرائیل کے خلاف احتجاج کرکے اسکی نابودی نیز فلسطین و بیت المقدس کی آزادی کے لیے اپنی جدوجہد کو جاری رکھنے کے عزم کی تجدید کریں۔ امام کی یہ تدبیر انتہائی کارگر ثابت ہوئی اور پوری دنیا میں اسرائیل کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکلنے لگیں۔ مستضعف اور ستم رسیدہ لوگوں نے بطور خاص امامؒ کی اس پکار پر لبیک کہا۔ القدس ریلیوں میں ہر سال عوام کی شرکت بیشتر ہوتی جارہی ہے اور پوری دنیا میں اسرائیل سے نفرت میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے اور ساتھ ہی فلسطینیوں کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کے اظہار میں بھی غیر معمولی افزایش دیکھنے میں آرہی ہے۔

امام خمینیؒ کے ذریعہ اسرائیل کی دہلیز پر حزب اللہ کی تشکیل استکبار شکنی کی جانب عظیم پیشرفت:
یوں تو امام خمینیؒ کا قیام، آپ کی الٰہی قیادت میں چلنے والی سالوں پر محیط تحریکِ انقلابِ اسلامی، اس انقلاب کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں ایرانی عوام کی عظیم اور بے نظیر قربانیاں، انقلابِ اسلامی کی کامیابی کے نتیجے میں ایران میں اسلامی مملکت و نظام کا قیام، ولایتِ فقیہ کو نظامِ اسلامی کا محور قرار دیا جانا اس طرح کہ نظامِ اسلامی دینی جمہوریت اور عوامی حمایت سے عبارت و مشخص ہو بہ الفاظِ دیگر یہ نظام ’’ مشروعیتِ دینی و قبولیتِ مردمی ‘‘ سے آراستہ ہو، ارتشِ قومی کی خالص اسلامی بنیادوں پر از سرِ نو تعمیر، نظامِ اسلامی کے دفاع اور تحفظ کے لیے’’ سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی جیسی ہمہ جہت خلاقیت و صلاحیت کی حامل عدیم النظیر سپاہ کی تشکیل، خارجی و داخلی دشمنوں کی انقلابِ اسلامی و نظامِ اسلامی کے خلاف سازشوں اور ریشہ دوانیوں سے مقابلے کے لیے بسیجی فوج کی تشکیل وغیرہ سبھی حزب اللہٰی راہ و روش سے امامؒ کے استفادے کی آئینہ دار ہیں تاہم آپ کے حکم پر سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی اور ارتشِ اسلامی کا مومن نوجوانوں پر مشتمل حزب اللہ لبنان کو فوجی مہارت اور متنوع جنگی حکمتِ عملی سے آراستہ کرنا جہاں مظلوموں کی دست گیری کے الٰہی فریضے کی انجام دہی کے لیے تھا تو وہیں اسرائیل کو ذلت و پسپائی سے دوچار کرنے اور اسے اس کی حتمی نابودی کی راہ پر ہانکنے کی غرض سے تھا۔ حزب اللہ کا وجود امام اور امام کی رہبری کے سائے میں رونما ہونے والے انقلابِ اسلامی کے معجز نما کارناوں میں سے ایک عظیم کارنامہ ہے۔

حزب اللہ لبنان کا ایک اجمالی تعارف:
حزب اللہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ’’ اللہ کی پارٹی‘‘ کے ہیں۔ یہ مشرقٍ وسطیٰ کی سیاست پر اثر انداز ہونے والی ایک عظیم قوت ہے۔ اس کا آغاز ایک مزاحمتی اسلامی تحریک کے طور پر ہوا مگر اس وقت یہ عالمِ عرب کی ایک موثر ترین فوجی، سیاسی اور سماجی تنظیم ہے۔ حزب اللہ یوں تو لبنان کی ایک تنظیم ہے مگر اس کے اسرائیل دشمن موقف کی بناء پر اسے ایران، شام اور عراق کی حکومتیں ساتھ ہی یہاں کے عوام بہت ہی احترام و محبت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ہر سطح پر اس کی مدد کے لیے آمادہ رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان عرب و مسلم ممالک کے عوام بھی کہ جن کے حکمران اسرائیل کے در پردہ یا اعلانیہ حمایتی ہیں اور صیہونی ریاست کے پشت پناہ مغربی ممالک کے غلام ہیں، حزب اللہ لبنان کو قدرت و توانائی کی حامل مزاحمتی تنظیم خیال کرتے ہیں جو اسرائیل پر تباہی و نابودی مسلظ کر سکتی ہے چنانچہ وہ اس مزاحمتی تحریک کے لیے اپنے دل میں بہت زیادہ احترام و محبت کا جذبہ رکھتے ہیں۔ لبنان میں اسرائیلی جارحیت کے مقابلے کے لیے حزب اللہ کی تشکیل 1982ء میں عمل میں آئی۔ اس تنظیم نے روزِ اول سے ہی لبنان میں موجود اسرائیلی فوج سے مقابلے کے لیے گوریلا جنگ کی حکمتِ عملی اپنائی۔ ابتداء میں یہ تحریک جنوبی لبنان تک محدود تھی لیکن 1985ء میں یہ لبنان کی ایک اہم سیاسی پارٹی کے طو ر پر متعارف ہوئی۔ لبنان کے نوجوانوں میں صیہونی ریاست کے خلاف فلسطین اور لبنان میں پناہ گزیں فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے سبب آتشِ انتقام پہلے ہی بھڑک چکی تھی کہ اسرائیل نے 1982ء اپنی فوجی جارحیت کے ذریعہ جنوبی لبنان پر قبضہ کر لیا۔

اسرائیل کے اس جارحانہ اقدام کے جواب میں جنوبی لبنان کے نوجوانوں نے بھر پور مزاحمت دکھائی۔ شروع میں ان نوجوانوں کی مزاحمت کی سطح بہت بلند نہیں تھی لیکن اپنی مزاحمت کے تسلسل کے نتیجے میں انہوں نے مہارت بھی حاصل کی اور اس کے ذریعہ کامیابیاں بھی۔ 23 اکتوبر 1983ء کو ایک فوجی عمارت میں کہ جہاں امریکی اور فرانسیسی فوج کے ارکان مقیم تھے، بارود سے بھرے ٹرک کو تیز رفتاری سے داخل کرکے دھماکہ کیا گیا جس میں 299 امریکی و فرانسیسی فوجی مارے گئے۔ یہ ایک شہادت پسندانہ کاروائی تھی۔ بہر حال اسرائیل کے اس دعوے کے برعکس کہ انقلابِ اسلامی ایران کی کامیابی کے فوراً بعد ہی ایران نے لبنان میں حزب اللہ کو تشکیل دیا بہت سارے شواہد سے اسکی نفی ہوتی ہے۔بلکہ ان شواہد سے اس حقیقت کی تصدیق ہوتی ہے کہ حزب اللہ کی تشکیل ۱۹۸۲ء میں لبنان میں اسرائیل کی ننگی جارحیت کے بعد ہوئی۔ اسرائیل کے سابق وزیرِ اعظم ایہود بارک کابیان ہے:’’ جب ہم لبنان میں داخل ہوئے تو وہاں کوئی حزب اللہ نہیں تھی۔۔۔یہ ہماری وہاں موجودگی تھی کہ جس نے حزب اللہ کو جنم دیا‘‘۔

حزب اللہ کی قیادت:
حزب اللہ لبنان کے قائد کے لیے سکریٹری جنرل کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے جو کہ سید حسن نصراللہ ہیں۔ آپ 1992ء میں اس وقت اس منصب پر فائز ہوئے جب آپ کے پیش رو جناب سید عباس موسوی کو اسرائیل نے اپنے ایک جارحانہ حملے میں شہید کردیا۔ حزب اللہ نے یقیناً اپنے سربراہ کے لیے سکریٹری جنرل کی اصطلاح اس لیے اختیار کی ہے کہ اسکے حقیقی قائد و سرپرست تو ولی امر المسلمین آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای ہیں۔ حق یہ ہے کہ امام خمینیؒ کی الٰہی قیادت میں اسلامِ حقیقی یا اسلامِ نابِ محمدیؐ کی بنیاد پر رونما ہونے والا انقلابِ اسلامی ایران تاریخ کا ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ یہ انقلاب افراد، معاشروں اور قوموں کے نظامِ زندگی کو ایسے اقدار پر استوار کیے جانے کے پروگرام کے ساتھ میدان میں آیا جو آسمانی یا الٰہی تعلیمات و ہدایات سے ماخوذ ہو اور جس میں قیامِ عدالت اور ظلم و استکبار ستیزی کو کلیدی حیثیت حاصل ہو۔ یہ انقلاب آیا بھی کیسے وقت میں؟ جبکہ طبقاتی تفریق و امتیاز، کمزوروں کے استحصال اور خواشاتِ نفسانی پر مبنی ایک مادہ پرستانہ و سرمایہ دارانہ عالمی نظام پوری دنیا کو اپنے مضبوط پنجۂ گرفت میں لیے ہوئے تھا۔ پھر مستزاد یہ کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی حیرت انگیز طاقت سے یہ نظام پوری طرح لیس تھا۔ اس خبیث عالمی نظام کا مرکز امریکہ تھا جس کے پاس پیچیدہ ترین تزویراتی منصوبہ بندی کی ایسی صلاحیت تھی کہ اسے اپنے ہم پلہ دشمن سویت یونین کو افغانستان کے دلدل میں پھنسا کر ٹکڑے ٹکڑے کرنے میں دیر نہیں لگی۔ پورے عرب دنیا کی رجعت پسند شاہی حکومتیں اس کی غلام تھیں۔ دنیا کے بیشتر ممالک کے حکمرانوں کو اس کے سامنے دم مارنے کا یارا نہ تھا۔ ایسے وقت میں امام خمینی ؒ کی قیادت میں یہ انقلاب کامیاب ہوا اور اس انقلاب کی قیادت نے کمال شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکہ کو شیطانِ بزرگ اور اسرائیل کو جرثومۂ شیطانی کہ کر للکارا۔ یہ انقلاب اگر ارادۂ الٰہی کا مظہر نہ ہوتا اور اس کے قائد کو الٰہی تائید حاصل نہ ہوتی تو انقلاب دشمن طاقتوں کی تمام تر سازشوں، ریشہ دوانیوں اور طولانی جارحیتوں کے درمیان اسکا اپنے آپ کو باقی رکھنا اور پھر اپنے اہداف کی تکمیل کی جانب تیزی سے پیش قدمی کرنا اور اپنے دشمنوں کو یکے بعد دیگرے اس کے کھولے ہوئے محاذوں پر شکست و پسپائی سے دوچار کر نا کبھی ممکن نہ ہوتا۔

یہ ارادۂ الٰہی ہی تھا کہ انقلابِ اسلامی کی قیادت امام خمینیؒ کے بعد رہبرِ معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو منتقل ہوئی ۔آپ نے امام خمینیؒ کی جانشینی کا حق ادا کر تے ہوئے انقلابِ اسلامی کو تمام جہتوں میں وسعت و فروغ عطا کیا نیز انقلابِ اسلامی کے مرکز ایران نے آپ کی رہبری میں فوجی، اقتصادی اور علم و سائینس کے میدانوں میں ترقی و پیش رفت کی بلند ترین چو ٹیوں کو سر کیا۔ آپ کی رہبری کے زیرِ سایہ ہی حزب اللہ لبنان نے مئی ۲۰۰۰ء میں اسرائیل کی ۱۸ سالہ جارحیت اور جولائی ۲۰۰۶ء میں اسکی ۳۳ روزہ مسلط کر دہ جنگ کا کمال دلیری کے ساتھ مقابلا کرتے ہوئے صیہونی حکومت کو ذلت آمیز شکست و پسپائی سے دوچار کیا۔ یہ رہبرِ معظم کی ہی الٰہی تدبیر تھی کہ فلسطینی مزاحمت نے حزب اللہ سے سبق لیتے ہوئے انتفاذہ اول، دوم اور اب سوم کے سلسلے کا آغاز کیا۔ علاوہ ازیں غزہ پٹی پر اسرائیل کی ۲۰۰۸ء میں ۲۱ روزہ جارحیت اور ۲۰۱۴ ء میں ۵۱ روزہ جارحیت کا مقابلہ کرتے ہوئے صیہونیوں کو پسپائی پر مجبور کیا۔ رہبر معظم سے مستقل رہنمائی حاصل کرتے ہوئے حزب اللہ نے اپنے آپ کو اس قدر مضبوط و توانا کر لیا ہے کہ وہ دشمن کی چالوں کو روبہ عمل آنے سے بہت پہلے ہی بھانپ لیتی ہے اور ان کو ناکام بنانے کے لیے موثر حکمتِ عملی بھی تیار کر لیتی ہے۔ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی میں قدس فورس کی تشکیل سے حزب اللہ ٍ لبنان کو غیر معمولی تقویت ملی ہے جبکہ یمن میں حزب اللہ ہی کی مانند انصار اللہ نامی عوامی تنظیم کا وجود رہبرِ معظم کی الٰہی حکمتِ عملی کی دین ہے۔

رہبرِ معظم کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے حزب اللہ نے اپنے آپ کو دشمن کے Diversified محاذوں پر مشغول رکھنے کا اہل بنا لیا ہے چنانچہ امریکہ، صیہونی حکومت اور ان کے مغربی اور عربی اتحادیوں نے تکفیریوں کی ایک کثیر فوج تشکیل دے کر انقلابِ اسلامی ایران، شام، عراق پر مبنی مزاحمتی بلاک کے قلع قمع کرنے کی جو چال چلی تھی اس کو القدس فورس، حزب اللہ اور شام و عراق کی افواج و رضاکار فورس نے مل کر بری طرح ناکام بنادیا ہے جس کے نتیجے میں امریکہ و دیگر مغربی ممالک نے پسپائی اختیار کی اور ایران کے ساتھ GCPOA نامی جوہری معاہدہ کرنے پر مجبور ہوئے۔ حزب اللہ اور القدس فورس کی حیرت انگیز صلاحیتوں نے روس کو بھی بہت زیادہ متاثر کیا ہے جس کی بناء پر وہ شام میں تکفیریوں کے خاتمے کے لیے ان کے ساتھ اشتراک کو ضروری خیال کرتا ہے۔ حزب اللہ نے صیہونی ریاست کو اپنے مستقبل سے مایوس کر دیا ہے اسی طرح سعودی عرب اور اس کے اتحادی دیگر عرب ممالک کی پروردہ وہابیت و تکفیریت آخری سانس لے رہی ہے اور وہ دن دور نہیں جب آلِ سعود نابود ہوکر تاریخ کا حصہ بن جائیگی۔ صحیح بات یہ ہے کہ انقلاب اسلامی ایران، اس کی انقلابی قیادت اور ان کی معاون اور حلیف تنظیم حزب اللہ کی عدم موجودگی ہی کی وجہ سے مسلمان صدیوں سے اپنے جابر و ظالم حکمرانوں اور مغرب کے سامراجی لٹیروں کے ہاتھوں ذلیل و رسوا ہو رہے ہیں اور آج بھی اگر انقلابِ اسلامی ایران جیسی قیادت اور حزب اللہ جیسی تنظیم نہ ہوتی تو سامراجی طاقتیں نہ صرف مسلمانوں کو بلکہ پوری انسانیت کو وہابی و تکفیری دہشت گردوں کے حوالے کر دیتے۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close