پاکستان

قرآن و سنت کے نظام کے نفاذ کیلئے سیاسی قوت کا ہونا ضروری ہے، علامہ سید ساجد نقوی

شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی کے زیر اہتمام جامعۃ الکوثر اسلام آباد کے المصطفٰی آڈیٹوریم میں علمائے اسلام کانفرنس کا انعقاد ہوا، جس میں تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام نے شرکت کی، جس میں علامہ شیخ محسن علی نجفی، پیر اعجاز احمد ہاشمی صدر جمعیت علماء پاکستان، پروفیسر محمد ابراہیم صدر ملی یکجہتی کونسل کے پی کے، آصف لقمان قاضی مرکزی نائب صدر ملی یکجہتی کونسل، خالد محمود عباسی مرکزی رہنما تنظیم اسلامی، علامہ شیخ صالح کربلائی از کربلائے معلٰی عراق، علامہ عارف حسین واحدی مرکزی سیکرٹری جنرل شیعہ علماء کونسل پاکستان،سید ثاقب اکبر، حافظ رفیق طاہر رہنما جماعت اہلحدیث، فرحت حسین شاہ نائب ناظم تحریک منہاج القرآن، ڈاکٹر عبد الحفیظ فاروقی چیئرمین نظریہ پاکستان موومنٹ سمیت تمام مکاتب فکر کے دیگر علمائے کرام نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر علمائے کرام نے پاکستان میں اسلامی معاشرے کی خدوخال کی حفاظت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم مسلمانوں کو ان سازشوں سے بچائیں جو ہمارے معاشرے میں بگاڑ پیدا کر رہی ہیں۔ اس موقع پر علمائے کرام نے اتحاد و وحدت کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تمام مکاتب فکر کو ایک دوسرے کے قریب آکر اور ایک دوسرے کو پہچان کر ہی فروعی اختلافات کو ختم کرنے میں سود مند ثابت ہوسکتے ہیں۔

علمائے اسلام کانفرنس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ پاکستان میں کوئی فرقہ واریت نہیں اور نہ ہی کوئی شیعہ سنی مسئلہ ہے۔ پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے جید بزرگ علمائے کرام عملی طور پر متحدہ مجلس عمل اور ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم پر متحد ہیں۔ علامہ سید ساجد نقوی نے مزید کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ سیاسی قوت کے بغیر ہم اپنے اہداف و مقاصد کو حاصل نہیں کرسکتے، دینی قوت کو ایٹمی قوت سے بڑھ کر قوت سمجھتا ہوں۔ تمام مذہبی جماعتوں کے اتحاد سے ملک میں ایسا انقلاب آسکتا ہے، جیسے پڑوسی ملک میں ہے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ ہمیں مذہبی لحاظ سے اپنے آپ کو مضبوط کرنا چاہیے، ہمیں ہر چیز کو اپنی جگہ پر اکٹھا کرنا چاہیے۔ بعض افراد کہہ رہے ہیں کہ کچھ گروہ کے بارے میں، تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ ملی یکجہتی کونسل تو بنی ہی فرقہ واریت کی نفی کے لئے، جو لوگ فرقہ واریت کی نفی کرتے ہیں، وہ اس میں شریک ہوسکتے ہیں، فرقہ واریت سے بڑھ کر ہے تکفیری ہونا، وہ کیسے اس میں آسکتے ہیں، وہ خود سوچ لیں کہ ان کو کیا کرنا چاہیے کہ وہ ملی یکجہتی کے اندر شامل ہوسکیں۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close