پاکستان

قوم و ملت کی سربلندی کیلئے ہماری جدوجہد بلاخوف و خطر جاری رہے گی، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری

 کوئی بھی حکمران ہمیں ہمارے اصولی موقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں بلاتخصیص مسلک و مذہب دو گروہ ایک دوسرے کے مقابلے میں صف آرا ہیں۔ ایک گروہ مظلومین کا اور دوسرا ظالمین کا۔

ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے نئے منتخب سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری نے اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد تنظیمی عہدیدران و کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ قوم و ملت کی سربلندی اور وطن کے استحکام کے لئے ہماری جدوجہد بلاخوف و خطر جاری رہے گی۔ ہمیں آپ ہمیشہ مظلوموں کے ساتھ کھڑا دیکھیں گے، پاکستان کے پاک وجود کو سعودی نمک خوار سفاک عالمی تکفیری دہشتگرد گروہ داعش سمیت کسی بھی تکفیری دہشت گرد طاقت کے نجس وجود سے آلودہ نہیں ہونے دیا جائے گا۔ وطن عزیز کو اس وقت لاتعداد چینلجز کا سامنا ہے، نفرتیں پھیلا کر قوم کو تقسیم کرنے کی مذموم کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ پاکستان قوم متحد نہ ہوسکے۔ ہمیں اپنے اتحاد و اخوت کے عملی اظہار سے ان ناپاک ارادوں کو خاک میں ملانا ہوگا۔

علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ حکمران عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کی بجائے آئے روز گرتی ہوئی لاشوں کے تماش بین بنے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹرز، پروفیسرز، ہونہار طلبہ اور علم کی روشنیاں بکھیرنے والوں سے زندگیاں چھینی جا رہی ہیں۔ ہمارے لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ کی جا رہی ہے اور دوسری طرف نیشنل ایکشن پلان کے نام پر ہمارے ہی لوگوں کے خلاف مقدمات بھی درج ہو رہے ہیں۔ قانون انصاف کو طاقت کے زور پر پامال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تکفیری دہشت گرد جتنا بڑا مجرم ہے، اتنا ہی بڑا مجرم اس کا سہولت کار بھی ہے۔ تکفیری دہشتگرد اور انکے سہولت کار دونوں ملک کے امن و سکون اور انسانیت کے دشمن ہیں۔

علامہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ وطن عزیز کو امن کا گہوارہ بنانے کے لئے ان تکفیری دہشتگرد عناصر کو سختی سے کچلنا ہوگا۔ عالمی استکباری قوتیں پاکستان کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھ سکتیں۔ ان کے حلقہ اثر سے آزادی ہی حقیقی آزادی سمجھی جائے گی۔ یہ طاقتیں قائد و اقبال کے اسلامی پاکستان کو مسلکی پاکستان کی شکل دینا چاہتے ہیں، تاکہ تصادم کی راہ ہموار ہو۔ اس ملک میں بسنے والے سنی، شیعہ، عیسائی، ہندو اور دیگر تمام مکاتب فکر کو مذہب و مسلک کی بنیاد سے آزاد ہو کر برابری کے حقوق حاصل ہیں۔

علامہ ناصر عباس جعفری کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں موجود سیاستدانوں، فوج، بیورکریسی اور عدلیہ سمیت سب کو اپنی اپنی حدود میں رہتے ہوئے قومی ترقی و خوشحالی کے لئے جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے حقوق دے جائیں۔ مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لئے جہادی گروہوں کو پالنے کی ضرورت نہیں، اگر جنگ کرنی ہے تو تو عوام کو آواز دی جائے۔ ملک کے باوفا بیٹے ایک آواز پر میدان میں موجود ہوں گے۔ علامہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ پاک ایران مضبوط تعلقات کے لئے سٹریٹجک کونسل تشکیل دی جائے، جس میں دونوں ممالک کے لوگ شامل ہوں، تاکہ غلط فہمیوں کو تقویت نہ مل سکے اور متنازعہ معاملات کا احسن انداز میں حل نکالا جاسکے۔ پاکستان اور ایران کے مضبوط تعلقات خطے کے استحکام میں بہترین کردار ادا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی حقوق کے حصول کے لئے آئینی جدوجہد جاری رہے گی۔ جو لوگ ریاست میں مسلح جدوجہد کے قائل ہیں، وہ غدار ہیں۔ مقاصد کے حصول کے لئے آئین و قانون کی پابندی ہمارا طرہ امتیاز رہا ہے۔ پاکستان میں مہذب احتجاج کی روایت ہم نے ڈالی ہے۔ پانامہ لیکس کے منظر عام پر آنے کے بعد یہ حقیقت آشکار ہوچکی ہے کہ حکمران صرف کرپٹ ہی نہیں بلکہ اخلاقی قدروں سے بھی عاری ہیں۔ ہم اس کرپشن کے خلاف پورے عزم اور نئے ولولے سے آگے بڑھیں گے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close