ایران

داعش کی تشکیل کا مقصد ایران کو شکست دینا تھا، شیخ عیسی قاسم کیخلاف حکومتی اقدام انتہائی احمقانہ ہے، سید علی خامنہ ای

فارس نیوز ایجنسی کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے شہداء مدافع حرم کے اہلخانہ سے ملاقات کے دوران خطاب کرتے ہوئے شہداء کے ایمان، جدوجہد، معرفت اور شجاعت کو سراہا اور شہداء کے اہلخانہ کے عظیم صبر اور استقامت کی قدردانی کی۔ اپنے خطاب کے آغاز میں ولی امر مسلمین امام خامنہ ای نے مولای متقیان امام علی علیہ السلام کو انسانی تاریخ کا عظیم ترین شہید قرار دیا اور کہا کہ امام علی علیہ السلام شہید محراب تھے اور وہ حق، پختہ ارادے اور استقامت کی راہ میں شہید ہوئے۔ آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے مزارات اہلبیت اطہار علیھم السلام کی حفاظت اور شہداء مدافع حرم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: "یہ امر تاریخ کے حیران کن اور عجیب واقعات میں سے ہے کہ ایران اور دیگر اسلامی ممالک سے ایسے جوان اٹھ کھڑے ہوں، جو ایمان اور جہاد کے جذبے کے تحت اپنے بیوی بچوں اور پرمسرت زندگی کو خیرباد کہہ کر ایک اجنبی ملک میں خدا کے راستے میں جہاد کیلئے ہجرت کر جائیں اور اس راستے میں اپنی جانیں قربان کر دیں۔” ولی امر مسلمین امام خامنہ ای نے شہداء کے اہلخانہ کی جانب سے صبر اور بردباری کے مظاہرے کو بھی اس حیران کن امر کا دوسرا پہلو قرار دیا اور کہا کہ اسلامی جمہوری نظام کی طاقت مومنین، مجاہدین اور شہداء کے اسی ایمان، عزم راسخ اور استقامت پر استوار ہے۔

آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اسلام دشمن عناصر ہرگز اسلامی جمہوری نظام کی طاقت کا راز نہیں سمجھ سکتے کہا: "شہداء اور ان کے اہلخانہ اسلامی جمہوری نظام کے مستحکم ستون ہیں اور انہیں کی برکت سے اسلامی جمہوری نظام اب تک درپیش چیلنجز اور خطرات پر غلبہ پاتا آیا ہے۔” ولی امر مسلمین امام خامنہ ای نے داعش جیسے تکفیری دہشت گرد گروہوں کی تشکیل کو عالمی استعماری طاقتوں کی جانب سے اسلامی جمہوری نظام سے مقابلے کا ایک ہتھکنڈہ قرار دیتے ہوئے کہا: "تکفیری دہشت گرد گروہوں کی تشکیل اور عراق اور شام میں ان کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کا مقصد ایران پر حملہ آور ہونا تھا لیکن اسلامی جمہوریہ کی طاقت نے انہیں عراق اور شام میں ہی نابود کر ڈالا۔” آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ تکفیری دہشت گرد عناصر کیلئے شیعہ اور سنی میں کوئی فرق نہیں اور وہ ہر ایسے مسلمان شخص کو نشانہ بناتے ہیں جو اسلامی انقلاب کا حامی اور امریکہ کا دشمن ہو کہا: "بحرین میں بھی شیعہ سنی کا مسئلہ نہیں بلکہ اس ملک کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہاں ایک مستکبر اور خود پسند اقلیت طاقت کے بل بوتے پر اکثریت پر حکمفرما ہے۔”

آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے بحرینی حکومت کی جانب سے ممتاز شیعہ عالم دین اور رہنما آیت اللہ شیخ عیسٰی قاسم کی شہریت منسوخ کئے جانے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اسے ایک انتہائی احمقانہ اقدام قرار دیا اور کہا: "شیخ عیسٰی قاسم ایسے شخص ہیں، جنہوں نے ہمیشہ پرامن احتجاج پر زور دیا ہے اور انہوں نے بحرینی عوام کو شدت پسندانہ اقدامات اور مسلح کارروائیوں سے روکا ہے۔ بحرینی حکام اس حقیقت سے غافل ہیں کہ اگر وہ شیخ عیسٰی قاسم کو میدان سے ہٹائیں گے تو اس کے نتیجے میں بحرین کے پرجوش اور جذباتی انقلابی جوانوں کو روکنے والا کوئی نہیں ہوگا اور یہ جوان حکومت کے خلاف ہر قسم کے اقدامات انجام دے سکیں گے۔” ولی امر مسلمین امام خامنہ ای نے کہا کہ استعماری طاقتیں اور ان کے کٹھ پتلی حکمران مسلمان عوام اور ان کے ایمانی جذبے کو درک کرنے سے قاصر ہیں۔ انہوں نے کہا: "صحیح راستہ اسلام کے مطابق عمل کرنا اور خداوند متعال پر توکل ہے اور صرف ایسی قوم خود کو درپیش چیلنجز پر غلبہ پا سکتی ہے، جو ایمان کے جذبے سے سرشار، مجاہد اور عزم راسخ کی حامل ہو۔”

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close