پاکستان

شیعہ مطالبات کی منظور ی کے لئے ملک بھر میں ایم ڈبلیو ایم شعبہ خواتین کے تحت احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں

شیعیت نیوز: دو ماہ سے جاری بھوک ہڑتال پر حکومتی خاموشی کے خلاف عوامی تحریک کا آغاز ۱۷ جولائی کو ملک بھر میں خواتین کی نکالی جانے احتجاجی تحریک سے ہوگیا ہے تاکہ شیعہ مطالبات کی منظوری کے لئے حکومت کوجھنجوڑا جاسکے، ملک بھر کی طرح اسلام آباد میںمجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ ناصر عباس جعفری نے ڈی چوک اسلام آباد میں خواتین کی احتجاجی ریلی سے خطاب میں کہا ہے کہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی کنیزوں نے آج یہ ثابت کیا ہے کہ دور عصر کی یزیدیت، فرعونیت اور طاغوتی طاقتوں کے لئے وہ میدان کو کبھی خالی نہیں چھوڑیں گی۔ ریاستی اداروں میں موجود تکفیری فکر کے حامل عناصر ملک میں تکفیریت کو رواج دینے میں مصروف ہیں۔ اہل سنت اور اہل تشیع پاکستان کے دفاع کی فرنٹ لائن ہیں، جنہیں کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ریاستی اداروں اور قوم کے درمیان نفرت کو پروان چڑھایا جا رہا ہے، تاکہ ملک پر سے لوگوں کا اعتماد ختم ہو۔ پاکستان کو اقتصادی طور پر کھوکھلا کیا جا رہا ہے۔ پورا انفرا سٹرکچر تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ پاکستان کے حکمران ہمارے دشمنوں کے ساتھ مل کر ہمیں ظلم و بربریت کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

علامہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ پنجاب میں بے گناہ عزاداروں پر نیشنل ایکشن پلان کے تحت مقدمات بنائے جا رہے ہیں۔ گلگت بلتستان میں ہمارے لوگوں کی زمینوں پر زبردستی قبضے کئے جا رہے ہیں۔ پنجاب کی سی ٹی ڈی ملت تشیع کیلئے لشکر جھنگوی بن چکی ہے۔ عزاداری سیدالشہداء ہماری عبادت ہے۔ ہم اس کی راہ میں قطعی طور پر کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ 22 جولائی کو پاکستان کی تمام اہم شاہراہیں بلاک کر دی جائیں گی۔ ظالم حکمران یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ بےسکون کرنے والوں کو چین سے نہیں بیٹھنے دیا جائے گا۔ ظالموں کے تعاقب سے ہم دستبردار ہونے والے نہیں ہیں۔ ہمارا بھوک ہڑتالی کیمپ جاری رہے گا۔ یہاں شہداء کے خاندان آکر احتجاج کریں گے۔ 7 اگست کو شہید علامہ عارف حسین الحسینی کی برسی کا اہم پروگرام ڈی چوک پر ہوگا، جس میں ملک بھر سے لوگ شریک ہوں گے۔ اس کے بعد لاہور کی طرف پیدل مارچ کرنے کا لائحہ عمل بھی زیرغور ہے۔

کراچی، حیدر آباد، اسلام آباد، لاہور، پشاور، کوئٹہ، ملتان، ڈیرہ اسماعیل خان، فیصل آباد، سکھر، جیکب آباد، ٹنڈو محمد خان اور شکارپور سمیت مختلف شہروں میں منعقدہ مظاہروں میں سینکڑوں کی تعداد میں خواتین اور بچوں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے بینرز اور پوسٹرز اٹھا رکھے تھے جن پر شیعہ ٹارگٹ کلنگ اور ملک میں جاری دہشت گردی اور نواز حکومت کے خلاف نعرے درج تھے۔ کراچی کی ریلی مسجد شاہ خراسان سے امام بارگاہ علی رضا ایم اے جناح روڈ تک نکالی گئی جس میں مرکزی سیکرٹری خانم زہرا نقوی، آئی ایس او کی مرکزی صدر گل زہرا، علامہ احمد اقبال رضوی، علی حسین نقوی، علامہ مرزا یوسف حسین، علامہ باقر زیدی، علامہ اظہر نقوی، سمیت دیگر رہنماؤں نے احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس کی بھوک ہڑتال کو دو ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود حکومت کی طرف سے عدم توجہی پر کڑی تنقید کی۔ اس موقع پر ایم ڈبلیو ایم کے رہنما میثم عابدی، مبشر حسن، رضا امام نقوی، علامہ صادق جعفری سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

خانم زہرا نقوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کی آڑ میں ہمارے بے گناہ لوگوں کو انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے،ہمارے باصلاحیت، پڑھے لکھے اور ہنرمند افراد کو چن چن کر شہید کیا جا رہا ہے،کالعدم مذہبی جماعتوں کو حکومت کی مکمل آشیر باد حاصل ہے جس کے باعث وہ ملک میں دندناتی پھر رہی ہیں، عدلیہ سمیت ملک کے دیگر مقتدر اداروں کی طرف سے ان واقعات پر مسلسل خاموشی ہمارے لیے تشویش کا باعث ہے۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close