عراق

اربعین کے موقع پر ایک عورت کی فریاد امام حسینؑ نے کیسے سنی؟ پڑھیے

اربعین کی بھیڑ تھی، عربی عبا اوڑھے ایک خاتون کو دیکھا حرم امام حسین ع کے سامنے عربی میں کچھ کہہ رہی ہے ۔ میں عربی سمجھتا تھا۔۔۔

وہ یہ بین کر رہی تھی: مولا ! آبرو کا سوال ہے۔۔۔۔۔ بڑی مشکلوں سے شوہر نے زیارت کی اجازت دی تھی۔۔۔۔۔ میرے بچے لاپتا ہیں۔۔۔۔ بچے نہیں ملے تو میرا شوہر میری جان لے لیگا۔

عجیب درد تھا اس کے بین میں ۔ اس کے بین نے دوسروں کو بھی رولا دیا ۔ کچھ ہی دیر میں مزید تلخ اور پر درد آواز میں کہتی ہے:آپ صاحب اولاد ہیں مولا۔۔۔۔ معصوم سکینہ کا واسطہ، میرئ بچے لوٹا دیں۔۔۔۔ بہت دیر سے لا پتا ہیں۔

بڑا عجیب سا لگا ! بھلا امام کی بارگاہ میں کوئی ایسی جسارت کرتا ہے !! اتنے ہی میں دو چھوتے بچوں نے پیچھے سے اس خاتون کی عبا پکڑ کر کہا:یما یما (اے اما اے اما)۔۔۔۔ یہ سن کر وہ خاتون حیرت کے ساتھ ایک بار پھر حرم کا رخ کیا ۔

میں نے سونچا: بچے مل گئے ہیں، اب تو شکر و سپاس ادا کرے گی۔ بچوں کو دیکھتے ہی انہیں چھوڑ کر پھر سے حرم کا کیا :اور بے ساختہ زار و قطار رونے لگی!! ہمیں تجعب ہوا بھلا اب گریہ کیسا!پاس جاکر میں نے کہا: بی بی اب خدا کا شکر کریں، بچے مل گئے ہیں!

روتی سسکتی آواز میں کہتی ہے:میں نے مولا صرف اپنے گونگے بچے مانگے تھے۔ لیکن مولا نے بچے ہی نہیں بلکہ ان کی آواز بھی لوٹا دی۔ مولا !! ہم گناہ گار ہوں مولا !! آپ سے شرمندہ ہیں لیکن زیارت کے مشتاق ہیں، اپنے حرم بلا لیں۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close