ایران

فوجی مداخلت عالمی امن کے لئے بڑا خطرہ، صدر مملکت ڈاکٹر روحانی

ایران کے صدر نے دیگر ملکوں پر جارحیت اور ان ملکوں کے داخلی امور میں مداخلت کو عالمی امن و سلامتی کے لئے ایک بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔

صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے پیر کو تہران میں ٹوگو کے وزیر خارجہ رابرٹ ڈیزی سے گفتگو کرتے ہوئے عالمی مسائل و مشکلات کے حل کے لئے بین الاقوامی تنظیموں میں دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ دنیا میں امن و سلامتی کو لاحق خطرہ اور تشدد، انتہا پسندی اور دہشت گردی، اس وقت عالمی برادری کے لئے دو بڑے چیلنج ہیں۔ ایران کے صدر نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ دہشت گردی، علاقے میں اپنے مقاصد کے حصول کے لئے ہرگز اچھا ذریعہ ثابت نہیں ہو سکتی، کہا کہ بعض ملکوں کی جانب سے دہشت گردوں کی مالی مدد، ان کے لئے ہتھیاروں کی فراہمی اور دہشت گردوں کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی روک تھام کئے جانے کی ضرورت ہے اور عالمی اداروں اور تنظیموں کو چاہئے کہ دہشت گردی کے خلاف متحدہ طور پر سنجیدگی کے ساتھ کوئی فیصلہ کریں۔ ڈاکٹر حسن روحانی نے افریقی ملکوں کے مقام کو ایران کی نظر میں اہمیت کا حامل قرار دیا اور کہا کہ ایران اور ٹوگو، اپنی توانائیوں سے استفادہ کرتے ہوئے اقتصادی، تجارتی اور سیاسی شعبوں میں تعاون کو فروغ دے سکتے ہیں۔ اس ملاقات میں ٹوگو کے وزیر خارجہ نے بھی دہشت گردی کے خلاف مہم میں ایران کے ساتھ تعاون کے لئے اپنے ملک کی آمادگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ براعظم افریقہ، سامراجی طاقتوں سے نہیں بلکہ افریقی عوام سے متعلق ہے اور افریقی اقوام، افریقی ملکوں کے دوست ملکوں خاص طور سے ایران کے ساتھ تعلقات کے فروغ کی خواہاں ہیں۔ انھوں نے ایران اور ٹوگو کے درمیان اقتصادی و تجارتی شعبوں میں تعاون کی توسیع کی ضرورت پر زور دیا۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close