مقالہ جات

اعجازالحق جرنیلوی، مسرور نواز جھنگوی اور مولانا عبدالعزیز

تحریر: سلیم ملک 

 اردو کی آخری کتاب کی زبان میں جنرل ضیاالحق بہت نیک بادشاہ تھے۔ انہوں نے کبھی کوئی نماز قضا نہیں کی اور اپنے اقتدار کو لمبا کرنے کے راستے کی کسی رکاوٹ کو کبھی خاطر میں نہیں لائے۔ ان کے راستے کی تمام رکاوٹیں، آئین، جمہوریت، پیپلز پارٹی، قانون و انصاف، ایم آر ڈی، آزاد میڈیا، ملکی ترقی اور مختلف فرقوں اور مذاہب میں بھائی چارے کی فضا سبھی ماضی کی داستان ہوئے۔ مرحوم تمام رکاوٹوں کو یا تو توڑ ڈالتے تھے جیسے کہ آئین، میڈیا اور بھٹو صاحب کے ساتھ کیا یا پھر اس کا توڑ نکالتے تھے۔ متشدد فرقہ وارانہ تنظمیں اور متشدد لسانی اور گروہی سیاسی جماعتیں بڑی سیاسی جماعت کا توڑ تھیں۔ جنرل ضیاء بہت ہی آزمودہ کار نسخہ، لڑاؤ اور حکومت کرو، استعمال کر رہے تھے اور مذہب کا تڑکا روپک میں تھا۔ پاکستان دن دوگنی اور رات چوگنی رفتار سے پستی میں گرتا چلا گیا۔ یہ سوچ کی پستی کا پھیلاؤ ہے۔ اور ہے اتنا زیادہ کہ حکمران اور عوام سبھی ناک تک اس میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج اعجازالحق اور مسرور نواز ہمارے آئین کے رکھوالے اور قانون ساز ہیں۔ کمال یہ ہے کہ کسی مارشل لا کی ضرورت نہیں، وہ عوام کے ووٹوں سے الیکشن جیت کے آتے ہیں۔

جھنگ سے ضمنی انتخابات میں جناب مسرور نواز جھنگوی صاحب جیتے ہیں۔ لشکر جھنگوی نے یہ شاندار کامیابی اس دفعہ، خلاف معمول، اپنے بل بوتے پر حاصل کی ہے۔ ماضی میں وہ مسلم لیگ نون کے تعاون اور اتحاد سے الیکشن جیتا کرتے تھے۔ لشکر جھنگوی کا اپنے بل بوتے پر جیتنا بہت ہی خوش آئند بات ہے۔ اس سے ملک کےطول و عرض میں پھیلی ہوئی شدت پسند مذہبی تنظیموں کا اعتماد مزید بڑھے گا۔ پہلے بھی ان نیک لوگوں کا اپنی سچائی پر بے پناہ اعتماد ہے۔ ایسا اعتماد جو دوسرے کے عقائد کو برداشت کرنے کی مجبوریوں سے بالاتر ہے۔ جو لوگ بالغ ہیں اور ابھی تک ہمارے عقیدے پر نہیں آئے ہیں وہ کافر ہیں۔ وہ اندھے ہیں یا بد نیت ہیں کیونکہ سچائی تو روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ انہیں خدا کی اس سرزمیں پر رہنے کا حق نہیں ہے۔ ان کا قتل واجب ہے اور سچے مسلمان ان بدنیتوں اور سازشیوں کو نیست و نابود کرنے میں بڑہ چڑہ کر حصہ لیتے ہیں۔ اسی اندھے اعتماد کا نتیجہ ہے کہ آج پاکستان میں شاید ہی کوئی محفوظ ہو۔ ہر طرح کی قتل و غارت عام ہے اور کچھ مذہبی رہنما اور عوام اسے جائز قرار دینے یا دوسروں ممالک کو مورد الزام ٹھہرانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

ہمیں معلوم ہے کہ جھنگ کے انتخابی نتائج پر جناب رانا ثنااللہ صاحب کے جذبات ملے جلے ہوں گے۔ ایک طرف تو وہ خوش ہوں گے کہ ان لوگوں کے منہ بند ہوئے جو یہ

کہتے تھے کہ مسلم لیگ نون لشکر جھنگوی کی انتخابی کامیابیوں کی ذمہ دار ہے۔ دوسری جانب وہ تھوڑے پریشان بھی ہوں گے کہ اب لشکر جھنگوی کو الیکشن جیتنے کے لئے ان کی مدد اور تعاون کی ضرورت نہیں رہی اور اس طرح سے رانا صاحب کا اثرورسوخ کمی کا شکار ہو جائے گا۔

لشکر جھنگوی کی کامیابی چودھری نثار صاحب اور نیشنل ایکشن پلان کے لئے شاندار کامیابی کی دلیل ہے۔ اس ملک کے ایوان اب یک رنگی کا شکار نہیں ہیں بلکہ تنوع بڑہ رہا ہے۔ جہاد پھیلانے والے مدرسے اور کالعدم شدت پسند مذہبی تنظیمیں تو اب ملک کے سیاسی دھارے کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔ بس این جی اوز کو سیدھا کرنا باقی رہتا ہے۔ انہیں ٹھیک کرنے کا کام اب اور بھی آسان ہو جائے گا کیونکہ یہی مذہبی تنظیمیں اس میں مددگار ثابت ہوں گی۔ یہ جو این جی اوز نے ہر وقت انسانی حقوق، عورتوں، بچوں، بچیوں، خواجہ سراؤں اور اقلیتوں کے حقوق کی رٹ لگا رکھی ہے ان کو خوب سیدھا کر لیا جائے گا۔

مسرور نواز جھنگوی صاحب کی جیت پر حیران اور کسی حد تک پریشان لوگوں سے عرض ہے کہ شدت پسند گروہ تو اس سارے کھیل میں پیادے ہیں۔ اصل مجرم تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے شدت پسندی کےبیج بوئے اور ان سے اگنے والے پودوں کو تناور درخت بنایا۔ دوسرے مجرم وہ ہیں جو ابھی تک ان پالیسیوں کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔

سب کو پتا ہے کہ شدت پسندی کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ تو کس نے کوئی قدم اٹھایا ہے کہ اس غلطی کو ٹھیک کیا جائے۔ غریب، بے بس اور ان پڑھ اکثریت کو کثرت اولاد جیسی مصیبت سے بچانا یا اسی کثرت اولاد سے بھرے ہوئے مدرسوں کو قانون کے دائرے میں لانا تو دور کی بات ہے، سرکاری سکولوں کا نصاب وہی ہے جو جنرل ضیا دور میں جماعت اسلامی اور نبراسکا یونیورسٹی نے افغانستان کے جہاد کو مدنظر رکھ کر بنایا تھا۔ ان حالات میں کسی شدت پسند کالعدم گروہ کا الیکشن جیت جانا کوئی حیرانی کی بات نہیں۔ اعجازالحق اور انوارالحق کا کئی کئی حلقوں سے متعدد بار الیکشن جیت جانا بھی اتنا ہی پریشان کن ہونا چاہیئے تھا۔

حالات تو کچھ ایسے ہیں کہ اگلے الیکشن میں مولانا عبدالعزیز اسلام آباد سے قومی اسمبلی کا الیکشن جیت سکتے ہیں یا کوئی سیاسی پارٹی انہیں سینیٹر بنا سکتی ہے۔ اگر یہ نہ بھی ہو سکے تو کونسل آف اسلامک آئیڈیولوجی کی چئرمین شپ تو بنتی ہے۔ وہ نماز روزے کے پابند مذہبی رہنما ہیں اور اس ملک میں شریعت ہی تو چاہتے ہیں جس کے ہم سب علانیہ یا غیرعلانیہ حامی ہیں۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close