مشرق وسطی

بحرین میں مظاہروں کا سلسلہ جاری

بحرین کی ڈکٹیٹر آل خلیفہ حکومت نے سامی مشیمہ، علی سنکیس اور عباس سمیع نامی تین انقلابی نوجوانوں کو جنھیں حکومت کی مخالفت کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اتوار کو گولی مار کر موت کی سزا دے دی- ان نوجوانوں پر مارچ دوہزار چودہ میں الدیہ کے علاقے میں پولیس اہلکاروں پر حملے کا جھوٹا الزام لگایا گیا تھا- ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق بحرینی عوام نے منگل کی رات بھی مغربی منامہ کے الدراز علاقے میں بحرین کے بزرگ مذہبی پیشوا آیت اللہ عیسی قاسم کے گھر کے باہر مقتول انقلابی نوجوانوں کی حمایت میں زبردست احتجاجی مظاہرے کئے –

بحرینی حکومت کے ہاتھوں ظالمانہ طریقے سے قتل کئے جانے والے نوجوانوں کے گھر والوں سے یکجہتی کے اظہار کے لئے نویدرات کے علاقے میں بھی احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور سزائے موت پانے والے نوجوانوں کے قصاص کا مطالبہ کیا گیا- دوسری جانب بحرین کے سابق ممبر پارلیمنٹ نے کہا ہے کہ آل خلیفہ حکومت سے جب تک عالمی سطح پر باز پرس نہیں کی جائے گی اس وقت تک وہ بے گناہ شہریوں کے خلاف جرائم اور اپنے مظالم کا سلسلہ جاری رکھے گی-

بحرین کے سابق ممبرپارلیمنٹ مطر ابراہیم علی مطر نے بھی حکومت مخالف تین نوجوانوں کی سزائے موت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بحرین میں سرکوبی روز بروز بڑھتی جار ہی ہے اور آل خلیفہ حکومت اس سلسلے میں کسی کے سامنے جواب دہ ہوئے بغیر اپنے مظالم اور سرکوبیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے- علی مطر نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ مغربی ممالک اپنی پالیسیاں اپنے مفادات کے تحت تیار کرتےہیں اور اسی وجہ سے وہ بحرینی حکومت پر کوئی اعتراض نہیں کرتے کہا کہ بحرینی حکومت کے خلیج فارس تعاون کونسل کے اراکین کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں اور یہ ممالک بھی منامہ کے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں-

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close