مشرق وسطی

بحرین،الوفاق کا بے بنیاد الزامات میں پھانسیوں کی بین الاقوامی سطح پر تحقیقات کا مطالبہ

منامہ(مانیٹرنگ ڈیسک ) بحرین کی نمایاں سیاسی جماعت الوفاق سوسائٹی نے تین بے گناہ افراد کو پھانسی پر لٹکانے کے حکومتی عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے بحرینی ظالم حکومت انصاف اور جمہوریت کے مطالبات کا جواب بڑے پیمانے پرقتل وغارت گری سے دینا چاہتی ہے۔
بحرینی چینل کے مطابق الوفاق کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل شیخ حسین الدیہی نے اپنے بیان میں 3 سیاسی قیدیوں کی لرزہ خیزانداز میں خود ساختہ الزامات میں پھانسی کی سزا پرعملدرآمد کو آل خلیفہ کے سنگین انسانی جرم کی مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ کہ ان شہداء کی پھانسی اور دیگر شہداء کا قتل کے جارحانہ اقدامات جو کہ ماورائے انصاف عدالتی قتل ہے اس کی بین الاقوامی تحقیقات کرائی جائیں۔
بحرینی حکومت کے ایسے اقدامات کو اب تک عالمی ادارے روکنے میں ناکام رہے ہیں۔ اللؤلؤة ٹی وی کی اردو سروس کے مطابق شیخ حسین الدیہی کا کہنا تھا کہ بحرینی بڑے پیما نے پر قتل کئے جانے والے شہیدوں کے غم میں سوگوار ہیں، شہد سامی مشیمع، عباس السمیع اورعلی السنکس کی شہادت اوران کو جس غیر قانونی انداز میں پھانسی دی گئی اس سے بحرین میں تمام انسانی اقدارکھو گئی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ خونی بھیانک جرائم کا سلسلہ بحرینی عوام کے وقار، انصاف اورجمہوریت کے مطالبات کے ساتھ نمٹنے میں حکومتی ذہنیت اور حکام کے بدترین آمریت پر مبنی رویے کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے حالیہ پھانسی کے ردعمل میں کہا کہ جن مقدمات میں فیصلے پر حکومت نے سزائے موت نافذ کی ہے وہ عدل و انصاف کے نہ صرف اصولوں کے خلاف ہے بلکہ عدل و انصاف کے سب سے بنیادی عناصر کا فقدان بھی پایا جاتا ہے اوران مقدمات کے تمام طریقہ کار بھی غلط تھے ۔ سیاسی عدالتی، قانونی اور سیکیورٹی صورتحال کی سنگینی، جس کا بحرینی عوام شکار ہیں پر اظہار خیال کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس ساری صورت حال کی صرف اور صرف بحرینی حکومت ہی مکمل طور پر ذمہ دار ہے۔
الوفاق کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ بے بنیاد اور من گھڑت مقدمات میں ہمارے تین عظیم شہدا کی شہادت قابل فخر ہے اوران کی پھانسی کی خبر ان کے اہل خانہ نے انتہائی فخر کے ساتھ وصول کی۔ ان کے حوصلے، جدو جہد اور استقامت ہمارے لئے بہت بڑا اثاثہ ہے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close