پاکستان

اسلام آباد : حرمِ نواسی رسول(ص) کے دفاع کا الزام، انصار الحسینؑ کالعدم قرار

شیعیت نیوز: ایک طرف پاکستان میں شدت پسند کالعدم تکفیری سلفی وہابی /دیوبندی جماعتوں کی جانب سے شیعہ مسلمانوں پر دہشتگردانہ حملوں کو سلسلہ جاری ہے تو وہیں پاکستان کی وزارت داخلہ نے پارا چنار میں طالبان دہشتگردی کا مقابلہ کرنے والی تنظیم کو کالعدم قرار دیدیا ہے، انصار الحسین نامی اس تنظیم کو کالعدم قرار دینا داعش سے منسلک طالبان دہشتگردوں کو ایک بار پھر پارچنار میں لشکر کشی کا گرین سگنل دینا ہے۔

شیعیت نیوز کے مطابق انصار الحسین علیہ سلام پر الزام ہے کہ وہ شام میں نواسی رسول(ص) حضرت زینب بنت علی علیہ سلام کے روضہ مبارک کے دفاع کے لئے نوجوانوں کو بھرتی کرکے شام بھیج رہی ہے، وزارت داخلہ کے مطابق حریم رسول اللہ (ص) کو دفاع کرنا جرم ہے۔

پاکستان پیس اسٹڈی کے ڈائریکٹر محمد عامر رانا نے روزنامہ انگریزی اخبار ایکسپریس ٹریبوں سےبات کرتے ہوئے کہاکہ انصار الحسین ؑ نتظیم لشکر مہدی کی شاخ ہے یہ تنظیم پاراچنار پر طالبان لشکرکشی کے نتیجے میں وجود میں ، اسکی سرگرمیاں طالبان مخالف ہیں۔

اگر یہ صیح ہے تو اسکا مطلب یہ ہوا ہے کہ یہ گروپ طالبان دہشتگرد جماعت کے خلاف وجود میں آیا کیونکہ طالبان دہشتگردپارچنار کے اس خطہ میں ریاستی اداروں کی غیر سنجیدیگی اور عدم سیکورٹی کے باعث شیعہ مسلمانوں کی لشکر کشی کرکے نسل کشی کررہے تھے لہذا کہا جاسکتا ہے کہ یہ گروہ طالبان دہشتگرد ی سے مقابلہ کرنے کے لئے دفاع میں وجود آیا ہے توکیا اسطرح کیا اس تنظیم کو کالعدم قرار دے کر دہشتگردی کا شکار ہونے والوں کو دہشتگردوں کی صف میں کھڑا کرنا وزارت داخلہ کی جانب سے انصا ف قرار دیا جاسکتاہے؟ کیا کالعدم دہشتگرد جماعت طالبان کا مخالف ہونا وزارت داخلہ کی نظر میں جرم ہے؟

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ کے دوران دو دیوبندی دہشتگرد جماعتوں جماعت الاحرار اور لشکر جھنگوی العالمی کو دہشتگرد قرار دیا گیا ہے، اس سلسلے کو بلینس کرنے کے لئے وازرت داخلہ نے انصار الحسین ؑ کو بھی کالعدم قرار دیا،جبکہ انصار الحسین ؑ کبھی بھی دیوبندی دہشتگرد جماعتوں، جماعت الاحرار ، لشکر جھنگوی اور طالبان کی طرح سیکورٹی اداروں، سرکاری اہلکاروں اور عمارتوں سمیت اسکولوں کالیجوںپر حملوں میں ملوث نہیں رہی؟

 

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close