مقالہ جات

سانحہ پاراچنار، کیا یہ پہلا دھماکہ تھا؟

ہفتہ 21 جنوری کو پاراچنار میں ہونے والا حالیہ دھماکہ یہاں کی تاریخ کا آٹھواں دھماکہ تھا۔ اس سے قبل بھی سات دھماکے ہوچکے ہیں، جن میں سینکڑوں افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ یہ آٹھ دھماکے 2007ء کے بعد سے ہیں۔ حالانکہ اس سے قبل 80 کی دھائی میں بھی پاراچنار دھماکوں اور دہشتگردی سے محفوظ نہیں رہا ہے۔ تاہم اس وقت کے دھماکوں میں اتنا جانی نقصان نہیں ہوا کرتا تھا۔ مجھے جتنا یاد پڑتا ہے،1984ء میں ٹیلی فون ایکسچینج کے سامنے پیواڑ اڈہ میں ایک غریب محنتی لڑکے کی ہتھ گاڑی میں دھماکہ ہوا تھا، جس کے نتیجے میں یہ بے خبر غریب بچہ اور اسکے ساتھ چار دیگر افراد شہید ہوگئے تھے۔

ماضی بعید سے قطع نظر ماضی قریب پر سطحی روشنی ڈالتے ہیں کہ کب کونسا دھماکہ ہوا، کتنا نقصان ہوا اور اس حوالے سے سرکار نے کیا کیا
1۔ 4 اگست 2007ء کو عیدگاہ مارکیٹ پارا چنار میں موجود پشاور فلائنگ کوچ سٹینڈ سے چند میٹر کے فاصلے پر خودکش حملہ آور نے اپنی کرولا گاڑی سمیت خود کو دھماکے سے اڑاکر 12 افراد کو شہید جبکہ درجنوں دیگر کو زخمی کرکے خون میں نہلا دیا۔ دھماکہ میں خودکش کا سر بالکل سالم رہا، جسکی شناخت غیور خان چمکنی کے نام سے ہوئی۔ جس کا تعلق پاڑہ چمکنی کے علاقے تابئے تنگی سے تھا اور وہ پاراچنار میں مقیم تھا۔ خودکش کا ایک رشتہ دار فضل حمید مبینہ طور پر راولپنڈی میں ایک مسجد میں ہونے والے دھماکے میں ملوث تھا اور حکومت کو مطلوب تھا۔ تاہم اسکے خاندان سے اس حوالے سے کوئی تفتیش نہیں ہوئی کہ تمہارے پیارے نے یہ بھیانک کارنامہ کیوں انجام دیا۔

2۔ اسکے چند ہی مہینے بعد 16 فروری 2008ء کو مذکورہ مقام سے صرف 10 میٹر کے فاصلے پر پشاور سٹینڈ کے ساتھ ڈاکٹر سید ریاض حسین کے الیکشن آفس کے سامنے ایک اور دھماکہ ہوا، جس میں بارود اور آتش گیر مادے سے بھری ایک کرولا گاڑی کو دھماکے سے اڑا دیا گیا۔ جس میں 70 کے قریب افراد شہید جبکہ سو سے زیادہ زخمی ہوئے۔ جن میں اکثریت سید ریاض حسین کے سیاسی حلیفوں کی تھی۔
3۔ پھر چند سال کے وقفے سے 17 فروری 2012ء کو کرمی بازار میں ایک اور دھماکہ ہوا، جس میں تقریباً 14 افراد شہید جبکہ درجنوں دیگر زخمی ہوئے۔ لیکن اس دفعہ ایک ناخوشگوار واقعہ یہ ہوا کہ دھماکے کے فوراً بعد لوگوں نے احتجاج شروع کر دیا، جبکہ ایف سی نے ٹینکوں اور فوجی گاڑیوں کی مدد سے مظاہرین کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان پر فائرنگ کی۔ جسکے نتیجے میں 24 مزید افراد شہید جبکہ 17 افراد شدید زخمی ہوگئے۔ یعنی اس دفعہ دہشتگردوں سے زیادہ ہمارے اپنے نگہبانوں نے ہمارا نقصان کر دیا۔ دلچسپ بات یہ کہ اس دھماکے کی ذمہ داری علاقے کے ایک دہشتگرد طالبان راہنما مولوی فضل سعید حقانی نے قبول کی۔ جس کا تعلق بگن کے قریب علاقہ مندرہ سے ہے، لیکن حیرانی کی بات یہ کہ اس کے خلاف کوئی خاص کارروانی نہیں کی گئی۔ ہاں مین روڈ پر موجود اسکے پٹرول پمپ میں موجود دو کمروں کو مسمار کر دیا گیا، جبکہ مندرہ میں موجود اسکے عالیشان مکان اور خود اسکو بخش دیا گیا۔

4۔ رمضان یعنی اگست 2013ء کو زیڑان روڈ اور شنگک روڈ پر یکے بعد دیگرے دو خودکش دھماکے کئے گئے، جس میں 47 افراد شہید جبکہ سو کے قریب زخمی ہوگئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خودکش حملہ آوروں میں سے ایک کو کرمی بازار میں اہلسنت مسجد سے زیڑان اڈہ کی جانب جبکہ دوسرے کو شنگک روڈ پر مذکورہ مسجد سے پنجابی بازار کی جانب جاتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ گویا دونوں خودکش حملہ آور مسجد سے برآمد ہوکر منزل مقصود کی طرف گئے اور یہ بھی خیال رہے کہ مذکورہ مسجد 2008ء سے آج تک ایف سی کے قبضے میں ہے، یعنی یہاں عوام کی اجارہ داری کی بجائے حکومت کی اجارہ داری ہے۔
5۔ اسکے کچھ ہی عرصہ بعد کشمیر چوک میں پارا چنار کی تاریخ کا چھٹا دھماکہ کیا گیا۔ اس دفعہ دہشتگردوں نے کسی عام یا ذاتی گاڑی کی بجائے مبینہ طور پر سرکاری گاڑی کا استعمال کیا۔ ہوا یوں کہ کشمیر چوک میں ایک پرہجوم جگہ، جہاں انگور فروخت ہو رہے تھے اور لوگوں کی نہایت بھیڑ رہا کرتی تھی، وہاں پر ایک سرکاری ٹاونیس گاڑی میں دھماکہ خیز مواد نصب کرکے دھماکہ کیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دھماکے سے تھوڑی دیر قبل ہی سرکاری اہلکار گاڑی کو چھوڑ کر گشت پر نکلے تھے اور یہ کہ دھماکے میں سرکاری اہلکاروں سے کسی کو بھی چھوٹ تک نہیں لگی۔ گاڑی چار ٹکڑوں میں تقسیم ہوکر مکمل طور پر تباہ ہوگئی، جبکہ ساتھ کھڑی انگور کی گاڑی کو بھی شدید نقصان پہنچا، 20 سے زائد افراد شہید جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے۔

6۔ 13 دسمبر 2015ء کو اہلسنت عیدگاہ کے ساتھ ہی متنازعہ قطعہ زمین میں لگی منڈی میں کباڑ خریدنے کے لئے بھاری تعداد میں غریب شہری جمع تھے کہ اس دوران کباڑ میں پہلے سے نصب بارودی مواد کو غالباً ریموٹ کنٹرول سے اڑا دیا گیا، جس کے نتیجے میں غریب اور اپنی قسمت سے بے خبر کباڑی اور اسکے چھوٹے بیٹے سمیت 30 سے زائد دیگر غریب شہری جام شہادت نوش کرگئے۔ خیال رہے کہ وقوعہ سے صرف دو دن قبل طالبان کے ایک بڑے حامی حاجی بخت جمال کے بیٹے محمد جمال نے کباڑیوں کو اس مقام پر اپنا سامان بیچنے سے منع کرتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ اگر انہوں نے یہاں اپنا کاروبار جاری رکھا تو انہیں سخت نتائج بھگتنا پڑیں گے اور وقوعہ کے بعد مبینہ طور پر اداروں کو یہ معلومات بھی ملی تھیں کہ اس میں ایک مقامی تحصیلدار بھی ملوث ہے، لیکن واقعے کے حوالے سے کوئی خاص تحقیقات عمل میں نہ آسکیں۔
7۔ مذکورہ واقعے کے صرف 13 ماہ بعد کل 21 جنوری 2017ء کو اسکے بالکل سامنے عیدگاہ مارکیٹ کے اندر واقع نئی سبزی منڈی میں مبینہ طور پر سبزی کے کریٹ میں پہلے سے نصب بارودی مواد کو ریموٹ کنٹرول کے ذریعے اڑا کر دھماکہ کیا گیا، جس میں آج تک 25 افراد شہید جبکہ 73 دیگر افراد زخمی ہوچکے ہیں۔ زخمیوں میں سے 15 افراد کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے پشاور پہنچایا گیا ہے۔ جہاں انکو کڑی سکیورٹی میں عمدہ علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔

میڈیا اور سرکار کی جانب سے توجہ
اس دفعہ جو دھماکہ ہوا ہے، میڈیا اور سرکاری ردعمل کے لحاظ سے یہ دیگر واقعات کی نسبت کافی مختلف اور ممتاز ہے۔ وہ یوں کہ اس دفعہ اہم شخصیات کی جانب سے مسلسل مذمتی بیانات آرہے ہیں۔ سرکار کی جانب سے نسبتاً کچھ زیادہ ہمدردی ظاہر کی جا رہی ہے۔ خاص طور پر یہ کہ شہداء کی اجتماعی نماز جنازہ میں پولیٹیکل حکام کے علاوہ ایف سی کمانڈنٹ، آئی جی ایف سی اور دیگر اہم افراد نے جو شرکت کی، یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔ بعض لوگ اسکی خاص وجہ یہ بتا رہے ہیں کہ اس دفعہ اہلیان کرم میں بہت جوش و جذبہ اور اشتعال پایا جا رہا تھا اور اکثر عوام نیز بعض اہم افراد کی رائے تھی کہ مرکزی امام بارگاہ سے احتجاجی مظاہرہ کیا جائے۔ تاہم مذکورہ اطلاعات کے مطابق آئی جی ایف سی، کمانڈنٹ اور پولیٹیکل حکام موقع پر پہنچ کر عوام اور خواص کی رائے تبدیل کرکے اپنے حق میں کرنے میں کامیاب ہوگئے اور عوام کے اشتعال کو ختم کرکے مظاہرے سے روک دیا گیا۔

حادثے کے چند افسوسناک پہلو
کل کے حادثے میں بعض پہلو نہایت ہی افسوسناک ہیں۔ جنہیں سن کر انسان کے لئے رنجیدہ ہونا ایک فطر امر ہے۔ کل کے حادثے میں ایک کم سن بچہ جو شدید زخمی حالت میں پشاور ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ وہ سات بہنوں کا اکلوتا بھائی ہے اور سردیوں کی چھٹیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے لئے کتابوں کی رقم نیز اپنے خاندان کے لئے روزی کی تلاش میں روزانہ صبح سویرے سبزی منڈی جایا کرتا تھا۔ اسکے علاوہ سکول کا ایک اور 12 سالہ کمسن بچہ مصور حسین ولد احمد علی ساکن بغدے حال للمئے بھی اس حادثے میں شہید ہوگیا۔ جو اپنے دو گونگے بھائیوں کا تیسرا صحتمند بھائی اور گاؤں کے ایک لوکل سکول کا طالبعلم تھا۔ اسکے گاؤں والے حاجی زاھد حسین کا کہنا ہے کہ یہ بچہ بھی چھٹیوں کا فائدہ اٹھا کر اپنے سکول اور گھریلو اخراجات پورے کرنے میں مصروف رہا کرتا تھا۔ کہتے ہیں کہ انکے والدین اس بچے کے ساتھ مستقبل کی امیدیں لگائے خدا کا شکر ادا کرتے تھے کہ خدا نے انہیں کم از کم ایک تو صحیح سلامت بیٹا عطا کیا ہے، جو مستقبل میں اپنے والدین کا ہاتھ بٹا سکے گا۔ لیکن انکو کیا پتہ تھا کہ انکا وہی بیٹا آج پیسوں کی جگہ سفید لباس زیب تن کرکے گھر تو پہنچے گا لیکن چند ہی منٹ بعد انکو ہمیشہ کے لئے الوداع کہہ کر چلا جائے گا۔ حاجی زاہد کا کہنا تھا کہ جنازے پر ماں کی حالت نہایت قابل رحم تھی۔ ماں کو دیکھ کر شرکاء میں کوئی شخص زاروقطار روئے بغیر نہ رہ سکا۔

حکومت کیجانب سے مالی امداد
گذشتہ کی طرح اس مرتبہ بھی صوبائی حکومت نے شہداء کے لئے تین تین لاکھ جبکہ زخمیوں کے لئے ایک ایک لاکھ روپے معاوضہ دینے کا اعلان کیا۔ مگر دیکھا جائے تو یہاں بھی سوتیلی ماں جیسا سلوک نظر آرہا ہے۔ چارسدہ، پشاور، مردان اور دیگر مقامات پر دھماکوں میں جاں بحق ہونے والے شہداء کو پانچ سے لیکر آٹھ لاکھ، جبکہ زخمیوں کو تین تین لاکھ روپے دیئے جاتے ہیں۔ گویا پاراچنار کے شہداء کی قیمت دوسرے علاقوں کے زخمیوں کے برابر لگائی گئی ہے۔
خدشات اور تحفظات
دہشتگردی سے اگرچہ ملک کا کوئی گوشہ محفوظ نہیں رہا، تاہم پاراچنار کو خاص طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔ دیگر علاقوں میں دھماکوں کی نوعیت اور ہدف اس سے بہت ہی مختلف ہوتے ہیں۔ دیگر علاقوں میں کارروائیاں اکثر غیر ملکی حساس ادارے کرتے ہیں۔ اسکے علاوہ اکثر سرکاری افراد یا عمائدین اور مشران کو نشانہ بنایا جاتا ہے، جبکہ پاراچنار میں عموماً عوامی مقامات کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہاں ملکی تنظیمیں جیسے لشکر جھنگوی، سپاہ صحابہ وغیرہ ہی یہ کارروائیاں کرتی ہیں۔ اس دفعہ بھی ذمہ داری لشکر جھنگوی نے قبول کی ہے اور یہ کہ پاراچنار کے علاوہ یہاں اور بھی کافی پرہجوم بازار موجود ہیں، جیسے صدہ، بگن وغیرہ لیکن وہاں کبھی کوئی دھماکہ نہیں ہوا ہے۔ چنانچہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ دہشتگردوں کا یہاں اصل ہدف اہل تشیع ہوتے ہیں۔ علاقے کے اہم تحفظات یہ ہیں کہ اب تک جو دھماکے ہوئے ہیں، ان سب کی تحقیقات نہایت آسانی سے ممکن تھیں، لیکن حکومت نے ان میں دلچسپی نہیں لی۔ اگر حکومت صحیح طریقے سے دلچسپی لے، تو دہشتگردوں تک نہ پہنچنے کی کوئی وجہ نہیں رہتی۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close