مقالہ جات

مسئلہ کشمیر پر ہماری پالیسی اور آیت اللہ خامنہ ای کی رائے

تحریر: سید محمد احسن

انقلاب اسلامی کے رہبرِ آیت اللہ خامنہ ای  نے تنازع کشمیر پر ایسا جرأت مندانہ اور حق پرستی کا مظہر بیان دیا ہے کہ پاکستان میں صدر اور وزیراعظم سمیت حکومت کے کسی ذمہ دار کو توفیق نہیں ہوئی۔ انہوں نے گذشتہ سال حجاج کرام کے نام ایک پیغام میں کہا تھا کہ اُمت مسلمہ کو درپیش سلگتے ہوئے مسائل میں فلسطین،عراق،افغانستان اور کشمیر سرفہرست ہیں۔آیت اللہ خامنہ ای کے مطابق ان چاروں مقامات پر اُمت مسلمہ کے لوگ بیرونی قبضے اور صہیونی طاقتوں کے خلاف آزادی اور مزاحمت کی جدوجہد بپا کئے ہوئے ہیں،ان کی مدد کرنا تمام مسلمان اقوام کا فریضہ ہے۔ انقلاب اسلامی کے رہنما اس فریضے کی جانب تمام مسلمانوں کی توجہ مبذول کرا کے وقت کی بہت بڑی ذمہ داری سے سبکدوش ہوئے ہیں ۔انہوں نے کشمیر پر بھارت کے جارحانہ قبضے کو ارضِ فلسطین پر صہیونی قوتوں کے قبضے کے مساوی قرار دے کر اور عراق و افغانستان پر امریکی فوجی جارحیت کو وادیٔ کشمیر میں بھارتی سپاہ کی مجرمانہ کارروائیوں کے ہم پلہ ٹھہرا کر اعلیٰ عالمی شعور کا مظاہرہ اور بہترین رہنمائی کا حق ادا کیا ہے۔

سوال یہ بناتا ہے کہ کیا اس کے بعد کشمیر کاز کے لئے کام کرنے والے ادارے اور حکومت نے مزید رہنمائی کے لئے آیت اللہ خامنہ ای سے رابط کیا ؟ نہیں کیا چلیں اگر یہاں پر بھی فرقہ وارانہ مسئلہ کھڑا ہوگیا تھا وہ اپنی حیثیت میں اپنے طور پر حکومت پاکستان اور کشمیر کے نا م پر بنائی گئی کمیٹیاں جو لاکھوں کے فنڈز کھارہی ہیں ان سب کی ذمہ داری بنتی تھی کہ وہ مسئلہ کشمیر کوعالم اسلام کا مسئلہ قرار دلاوانے کے لئے اپنی پالیسی کو واضح کرتیں اور باقاعدہ اس مہم کے لئے عالم اسلام کے درمیان رائے عامہ مضبوط کی جاتی ، لیکن ایسا نہیں ہوا کیوں؟ اس لئے کہ ایسا ہوجاتا تو لوکل سطح پر جو کشمیر کے نام پر کاروبار چمکارہے ہیں ان پر زوال نا آجاتا لہذا ناصر ف حکومت بلکہ کسی نے بھی اس بیان کی جانب توجہ نہیں دی۔

انقلاب اسلامی کے سربراہ آیت اللہ خامنہ ای نے بحثیت مسلمانوں کے رہبر ہونے کے ناتے اپنے تئیں کوشیش کی کہ مسئلہ کشمیر کو عالم اسلام کے چند اہم مسائل میں لاکھڑا کیا جائے، لیکن جب تک پاکستان اس معمالے پر سنجیدیگی کا مظاہر ہ نہیں کرے گا یہ مسئلہ محض انڈیا اور پاکستان کے درمیان کا علاقائی مسئلہ ہی بن کررہ جائے گا۔

ہم دیکھتے ہیں کہ فلسطین کا مسئلہ آج عالم اسلام کا مشترکہ مسئلہ بنا ہوا ہےاسکی بنیادی وجہ وہاں کی عوام ،جیسی تیسی حکومت ہے اور مزاحتمی تنظیمیں ہیں اِن سب نے مسئلہ فلسطین پر عالم اسلام کے درمیان رابطوں اور رائے عامہ کے ذریعہ مسئلہ فلسطین کو زندہ رکھا ہوا ہے، اس وقت مسئلہ فلسطین پر سب سے زیادہ سپورٹ بھی انقلاب اسلامی کے رہنما ء آیت اللہ خامنہ ای کررہے ہیں، جبکہ اسکے برعکس ہم دیکھتے ہیں کشمیر کی آزادی کے لئے جدوجہد کرنے والی تحریکیں اُس طرح مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں کامیاب نہیں جس طرح فلسطینی تحریکیں کامیاب رہی ہیں، دوسری جانب وہ تنظیمیں جو پاکستان کی سرپرستی میں کام کررہی ہیں وہ مخصوص فرقہ وارانہ شکل اور پاکستانی سیاست پر اثرانداز ہونے کی وجہ سے اپنا مقام ناصرف دنیا بلکہ عالم اسلام میں بھی کھو چکی ہیں۔

لہذا جب تک ہم جہاد افغاں کی صورت میں مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی کوشیش میں لگے رہیں گے یاد رکھیے کہ یہ مسئلہ حل ہونے والا نہیں بلکہ اس حل کے لئے واحد وہ راستہ کامیاب ہے جسکی جانب آیت اللہ خامنہ ای  نے اشارہ کیا ہےیعنی مسئلہ کشمیر کی جانب عالم اسلام کی توجہ مبذول کی جائے اور وہاں کی عوام کی حق خودارادیت کو ہر سطح پر قبول کیا جائے۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

یہ بھی ملاحظہ کریں

Close
Back to top button
Close