پاکستان

پنجاب میں داعش سے منسلک دہشت گردوں کا نیا گٹھ جوڑ ابھر کر سامنے آرہا ہے،تحقیقاتی رپورٹ

شیعیت نیوز: لاہور میں پیر کو وحشیانہ دہشت گرد حملہ بظاہرکالعدم طالبان کے مہمند میں عمر خالد خراسانی کی قیادت میں جماعت الاحرار گروپ نے کیا جس میں 13 قیمتی جانیں دہشت گردی کی نذر ہوئیں، تاہم تفتیشی ادارے اس بات کا بھی کھوج لگا رہے ہیں آیا انہیں لشکر جھنگوی العالمی کی بھی معاونت حاصل رہی یا نہیں۔ لشکر جھنگوی العالمی پنجاب میں اپنا وجود رکھتی ہے ۔ ماضی میں طالبان کے جماعت لاحرار گروپ اور لشکر جھنگوی العالمی نے مل کر دہشت گرد کارروائیاں کیں۔ اس بات کا امکان موجود ہے کہ لاہور میں بھی مذکورہ دہشت گرد حملہ دونوں کی مشترکہ کارروائی ہو،جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پنجاب میں دہشتگردوں کا نیا گٹھ جوڑ ابھر کر سامنے آرہا ہے ۔ کائونٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ ( سی ٹی ڈی ) کے سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ بات بتائی۔ دونوں کالعدم تنظیموں نے ہی چمن بلوچستان میں ایف سی پر حملے اور 21 جنوری 2017 کو کرم ایجنسی کی مشترکہ واردات میں اپنے ملوث ہونے کی دعویٰ کیا۔

لشکر جھنگوی العالمی کا داعش سے بھی گہرا تعلق ہے ، تاہم 2015 میں ایسٹر کے موقع پر گلشن اقبال لاہور میں حملہ جماعت الاحرار کے لاہور سیل نے تنہا کیا تھا۔جماعت الاحرار کے جاری کردہ تازہ ترین بیان اور وڈیو میں ’’ غازی ‘‘ کے عنوان سے دہشت گرد منصوبوں کا انکشاف کیا گیا ہے ۔ غازی کا لقب لال مسجد اسلام آباد کے نائب خطیب عبدالرشید غازی نے اختیار کیا تھا جو 2007 کے لال مسجد کے ملٹری آپریشن میں ہلاک ہوگئے تھے۔ اپنے اس بیان میں گروپ نے ارکان پارلیمنٹ کو نشانہ بنانے کی کھلی دھمکی دی ۔ انہوں نے کہا کہ سول اور فوجی قانون نافذ کرنے والے ادارے، سیکولر سیاسی جماعتیں و شخصیات، عدلیہ، اقلیتیں( خصوصاً قادیانی ) اور میڈیا سے متعلق افراد بھی ان کا ہدف ہونگے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس بیان کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے جماعت الاحرار سے وابستہ عناصر کی تلاش میں سرگرم ہیں۔ وزارت داخلہ اور ٹیکٹا میں انسداد دہشتگردی سے متعلق حکام اس حقیقت پر متفق ہیں کہ عسکریت پسند تنظیمیں اپنے اختلافات کو پس پشت ڈال کر ایک ہوگئی اور انہوں نے ریاست کے خلاف دہشت گردی کی نئی لہر شروع کر دی ہے ۔ رپورٹس کے مطابق کالعدم جماعت الاحرار کے سربراہ نے دیگر گروہوں سے اپیل کی ہے کہ وہ متحدہ فرنٹ بنالیں تو وہ ایک عام لڑاکا کی حیثیت سے لڑنے کیلئے تیار ہیں۔یہ مولوی فضل اللہ گروپ کو شامل کرنے کی جانب واضح اشارہ ہے ۔ واضح رہے کہ سجنا کی قیادت میں محسود عسکریت پسندوں کا گروپ 2 فروری 2017 کو طالبان کے فضل اللہ گروپ میں شامل ہو چکا ہے ۔ نومبر 2016 میں 8 عسکریت پسند گروپوں کا اجلاس فاٹا کے پڑوس میں افغان صوبے غزنی میں ہوا تھا۔ شرکاء کا دعویٰ ہے کہ اجلاس کا بندوبست لشکر جھنگوی العالمی کے سربراہ یوسف منصور خراسانی نے کیا تھا جس کا تعلق کراچی سے ہے ، وہ اس وقت میڈیا کی شہ سر خیو ں کی زینت بنا جب گزشتہ 23 اکتوبر کو کوئٹہ کے ہلاکت خیز حملے میں اس نے داعش کی معاونت کا دعویٰ کیا جس میں 62 پولیس کیڈٹس شہید ہوئے تھے، جن لوگوں نے مذکورہ اجلاس میں شرکت کی ، ان میں کراچی میں طالبان کا سابق سربراہ جاوید سواتی اور مولوی فضل اللہ شامل تھے۔ زیادہ تربلو چستان لور جزوی طور پر کراچی میں سرگرم جند اللہ کی نمائندگی واجد محسود نے کی ۔ ان کے علاوہ سجنا گروپ کے مولوی خا طر ، شہر یار گروپ کے شہریار محسود، جماعت الاحرار کے عبدالولی، خلیفہ منصور گروپ کے مفتی غفران اور قاری حسین گروپ کے ملا دائود بھی اس اجلاس میں موجود تھے۔

ابتدائی طور پر مل کر کام کرنے پر اتفاق ہوا ، تاہم دسمبر میں ایک اور اجلاس ہوگا جس میں مذکورہ تمام گروہوں کے سربراہان شرکت کرکے مشترکہ حکمت عملی پر مزید غور کریں گے ۔ ان میں سے زیادہ تر گروپوں کا تعلق جنوبی وزیرستان سے ہے لیکن آپریشن ضرب عضب کے باعث انہیں وہاں سے فرار ہونا پڑا۔ اس اجلاس کے بعد سی ٹی ڈی سندھ نے ملک میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے

#Source : Jang Newspaper

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close