مقالہ جات

لال مسجد کا کالعدم جماعت الاحرار کے بیان سے اظہار لا تعلقی مگر۔۔

تحریر: طاہر یاسین طاہر

دہشت گرد کون ہیں؟ کیا ہیں؟ ان کی فکری تربیت کہاں ہوتی ہے اور کہاں سے دہشت گرد تنظیموں اور گروہوں کو افرادی قوت میسر آتی ہے، یہ سب آشکار ہے۔ ریاستی ادارے، حتٰی کہ عام شہری کو بھی یہ سب معلوم ہے۔ عراق پر جب امریکہ نے دوسری بار حملہ کیا اور عراق خانہ جنگی کی طرف چلا گیا تو بغداد میں آئے روز خودکش حملے ہوتے تھے۔ اس وقت اسلام آباد میں لال مسجد کی سرگرمیاں عروج پہ تھیں اور جامعہ حفضہ کی طالبات ڈنڈے اٹھا کر میلوڈی سے آبپارہ مارچ کرتی تھیں۔ چلڈرن لائبریری پہ قبضہ کر لیا گیا تھا اور نام نہاد ’’اسلامی شریعت‘‘ کے نفاذ کے لئے لال مسجد کی جدوجہد عروج پہ تھی۔ اسی اثناء میں لال مسجد کے طلباء، جو کہ جامعہ حفضہ کی طالبات کو ’’کور‘‘ دے رہے ہوتے تھے، انھوں نے آپبارہ سے ایک عورت کو اغوا کرکے لال مسجد میں قید کر دیا۔ پولیس والوں کو بھی اسی طرح اٹھا لیا گیا تھا، جو بعد میں مذاکرات کے بعد رہا ہوئے تھے۔

لال مسجد انتظامیہ کی طرف سے وحشت ناک متشدد تحریک اس زور سے چلائی گئی کہ اسلام آباد کے پوش علاقے میں واقع چائنہ کے مساج سینٹر سے بھی عورتوں کو اٹھا لیا گیا۔ اس سب کام کی تشہیر بڑے منظم انداز میں کی جاتی۔ مولانا عبدالعزیز اور ان کے بھائی مرحوم عازی الرشید غازی روزانہ دن میں کئی کئی بار پریس کانفرنس کرتے اور اپنی قوت کا فخریہ اظہار کرتے۔ آبپارہ میں دکانداروں کو ڈرایا جاتا، سی ڈی سینٹرز کے مالکان سے سی ڈیز لے کر انہیں سڑکوں پر جلا دیا گیا اور یہ تاثر دیا گیا کہ یہ سب دکانداروں نے اپنی مرضی اور اللہ کی رضا کی خاطر کیا ہے۔ اسی دوران ریاست نے جب اپنی رٹ قائم کرنے کئے لئے عملی اقدامات کرنے کی طرف توجہ دی تو لال مسجد کی جانب سے باقاعدہ یہ دھمکی دی گئی تھی کہ اگر لال مسجد میں آپریشن کیا گیا تو پورے ملک کو بغداد بنا دیں گے۔ یہاں بغداد کا بطور مثال ذکر کرکے لال مسجد انتظامیہ ریاست کو یہ باور کرانا چاہتی تھی کہ ہمارے فدائین آپریشن کے ردعمل میں ملک بھر میں خودکش حملے کریں گے۔ بے شک اس کے بعد ملک خودکش حملوں کی زد میں ہے۔

ہم سارے اس بات کو بخوبی جانتے ہیں کہ لال مسجد انتظامیہ کالعدم تحریک طالبان، کالعدم شریعت محمدی اور اسی قبیل کی دیگر جماعتوں کی ہم نو و ہم نوالہ ہے۔ کالعدم سپاہ صحابہ و کالعدم اہلسنت والجماعت کی قیادت سے بھی لال مسجد انتظامیہ کے عملی و فکری روابط گہرے ہیں۔ اسی طرح اے پی ایس پشاور میں ہونیوالے سفاکانہ خودکش حملے کی مذمت کرنے سے لال مسجد والے مولانا عبد العزیز انکار کرچکے ہیں۔ یعنی ان کی نگاہ میں اے پی ایس سمیت تمام خودکش حملے جائز ہیں۔ دہشت گردی صرف مسلح خودکش حملوں کو ہی نہیں کہا جاتا۔ خودکش حملہ آور تو ایک طویل ذہنی عمل سے گذر کر اس مرحلے تک پہنچتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو معصوم انسانوں کی بھیڑ میں پھاڑ دے۔ اصل میں دہشت گردوں کی فکری تربیت کرنے والے اداروں اور افراد کو جب تک ریاست کی سخت گرفت میں نہیں لایا جائے گا، معاملہ اب آسانی سے حل ہونے والا نہیں۔ ریاست نے ایک وقت میں جہادی بیانیہ ترتیب دیا تھا۔ یہ بیانیہ اس قدر مبہم تھا کہ نیم پختہ اذھان اور نیم پڑھے لکھے افراد اس بیانیے کا بڑی آسانی سے شکار ہوئے۔

آج ایک دوسرے بیانیے کی ضرورت ہے۔ جو سماج کو یہ بتا سکے کہ نجی جہاد اور خودکش حملے وحشت کے سوا کچھ بھی نہیں۔ وہ تمام تنظیمیں، افراد اور جماعتیں، جو لوگوں کے مذہبی جذبات کو اپنے منفی کام میں لائی ہیں، وہ سب اس دہشت گردی اور خودکش حملوں کی اولین ذمہ دار ہیں۔ ریاست نے بھی ابتدا میں ان سے صرف نظر کیا۔ یہ امر واقعی ہے کہ افغانستان یا شمالی و جنوبی وزیرستان سے آنے والا کوئی دہشت گرد اس وقت تک کسی دوسرے شہر میں خودکش حملہ نہیں کرسکتا، جب تک اسے اس شہر کے اندر سہولت کار میسر نہ ہو۔ لاہور میں ہونے والے خودکش حملے کے بعد کالعدم جماعت الاحرار نے اس کی ذمہ داری قبول کی تھی اور اپنے ویڈیو پیغام میں اسے آپریشن غازی کا نام دیا تھا۔ آپریشن غازی، لال مسجد کے نائب پرنسپل عبد الرشید غازی کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ یہ وہی عبد الرشید غازی ہیں، جنھوں نے ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھائے تھے اور لال مسجد آپریشن میں سکیورٹی فورسز سے مقابلہ کرتے ہوئے مار دیئے گئے تھے۔ یاد رہے لال مسجد نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے الگ ہونے والے گروپ جماعت الاحرار کی جانب سے عبدالرشید غازی کے نام پر شروع کئے گئے دہشت گرد حملوں کے بیان سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق عبدالرشید غازی کے صاحبزادے ہارون رشید غازی نے اس حوالے سے ایک ویڈیو بیان جاری کیا، جس میں جماعت الاحرار کو مخاطب کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اس مسئلے کے سیاسی حل کی طرف جانا چاہیے۔ ویڈیو میں مزید کہا گیا کہ 2007ء میں ہونے والے لال مسجد آپریشن کے بعد سے بین الاقوامی طاقتوں کی وجہ سے ملک کو بدامنی کی لہر کا سامنا ہے، جبکہ دیگر مسلمان ممالک میں بھی عدم استحکام کی صورتحال درپیش ہے۔ انھوں نے پاکستان میں بدامنی کے لئے امریکہ اور دیگر مقامی سیاستدانوں کو مورد الزام ٹھہرایا۔ دوسری جانب لال مسجد شہداء فاونڈیشن بھی جماعت الاحرار کو ان حملوں کے لئے عبدالرشید غازی کا نام استعمال کرنے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنا چکی ہے۔ ہارون رشید غازی کا یہ ویڈیو بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب کالعدم تنظیم کی جانب سے جاری کئے گئے حالیہ بیان میں کہا گیا کہ وہ شہداء فاونڈیشن اور مولانا عبدالعزیز پر پڑنے والے دباؤ کو سمجھتے ہیں، گروپ نے عبدالرشید غازی کی ایک ویڈیو بھی جاری کی، جس میں وہ ریاستی اداروں کے خلاف مزاحمت کا کہتے نظر آئے۔

ہمیں تجزیہ کرتے ہوئے اس بات کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ دہشت گردوں، دہشت گرد تنظیموں اور لال مسجد کے درمیان میں کیا فکری رویہ مشترک ہے۔ ہمیں یہ بھی یاد رہے کہ جامعہ حفضہ ہی کی طالبات نے عالمی دہشت گرد تنظیم داعش کو پاکستان میں کارروائیاں کرنے کی دعوت دی تھی اور اپنے ویڈیو پیغام میں داعش کو یقین دلایا تھا کہ پاکستان میں داعش کو افرادی قوت مہیا کی جائے گی۔ ممکن ہے لال مسجد کل کسی ریاستی دباؤ کے باعث اپنے اس پیغام سے بھی مکر جائے۔ مگر مولانا عبد العزیز کا بیان بھی ریکارڈ کا حصہ ہے، جو انہوں نے ایک قومی روزنامے کی خاتون رپورٹر کو انٹرویو کے دوران دیا تھا، جس میں انہوں نے واضح انداز میں داعش کی عالمی خلافت کی کوششوں کی حمایت اور تعریف کی تھی۔ یقین ہے کہ دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کے دوران وفاقی دارالحکومت کی اس پناہ گاہ کی طرف بھی توجہ کی جائے گی، جو دہشت گردوں کی فکری آبیاری میں پیش پیش ہے۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close