پاکستان

ہندوستان کے ساتھ اچھے تعلقات اورتجارت بڑھاناچاہتے ہیں، وزیر اعظم

شیعیت نیوز: وزیر اعظم محمد نواز شریف نے آپریشن رد الفساد کا فیصلہ کہیں اور سے ہونے کے الزامات کو سختی سے مستردکرتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن رد الفساد اور پنجاب میں رینجرز کی تعیناتی کا فیصلہ بنیادی طور پرچند روز قبل وزیراعظم ہاؤس میں ہوا‘ملکی وغیرملکی قوتیں پاکستان کی ترقی سے خوش نہیں‘ٹوٹی کمروالے اپنے جوہردکھانے کی کوشش کررہے ہیں‘دہشت گردی کی بزدلانہ کارروائیوں سے ڈرنے اورگھبرانے والے نہیں‘ دہشت گردی کی حالیہ لہر پر بھی جلد قابو پالیا جائیگا ‘عوام حوصلہ رکھیں ‘ دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتیں گے ‘ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہورہی ہے‘ کابل انتظامیہ کو تحفظات سے آگاہ کردیا‘ترکی کابل انتظامیہ پراپنااثرورسوخ استعمال کرے‘ہم نے الیکشن میں بھارت سے دوستی کے نام پر ووٹ لیا‘اس کے خلاف سازش نہیں کررہے‘ہندوستان کے ساتھ اچھے تعلقات اورتجارت بڑھاناچاہتے ہیں‘ بھارت کے خلاف کوئی بری خواہش تھی نہ ہے‘پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کا فائنل اپنے مقررہ وقت پرلاہور میں کامیابی سے ہوگا۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں ترک پارلیمنٹ کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔قبل ازیں وزیر اعظم نواز شریف اورترک وزیراعظم بن علی یلدرم کی مشترکہ صدارت میں پاک ترک تذویراتی تعاون کونسل کا پانچواں اجلاس ہواجس میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کو مالی وسائل کی فراہمی روکنے سمیت 10معاہدوں اورمفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے جبکہ میاں نوازشریف اورترک صدررجب طیب ایروان کے مابین بھی ملاقات ہوئی‘دریں اثناءپاکستان اور ترکی نے توانائی‘ معیشت‘ زراعت‘ تعلیم‘ سائنس اور اطلاعات سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے ٹھوس اقدامات کے ذریعے دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔ جمعرات کو پاکستان اور ترکی کے اعلیٰ سطح کے اسٹریٹجک تعاون کونسل کے پانچویں اجلاس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک علاقائی اور بین الاقوامی اداروں بالخصوص اقوام متحدہ‘ او آئی سی‘ ای سی او اور ڈی ایٹ کی تنظیم کی سطح پر قریبی تعاون کریں گے‘پاکستان اور ترکی نے نسل پرستی‘ اسلام فوبیا‘ مذہبی بنیاد اور مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے امتیازی رجحانات کے خاتمے کے لئے مل جل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا‘دونوں ممالک نے خارجہ وزارتوں کے درمیان مختلف شعبوں میں مشاورت میں مزید اضافے پر اتفاق کیا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق جموں و کشمیر کے بنیادی مسئلہ سمیت پاکستان اور بھارت کے درمیان تمام تصفیہ طلب مسائل مذاکراتی عمل کے ذریعے حل کرنےکی ضرورت پر زور دیا۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو مزید نمائندہ جمہوری‘ شفاف ‘ موثر اور جوابدہ بنانے کی ضرورت ہے۔ سکیورٹی اور دفاعی تعاون کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون میں اضافہ جاری رہے گا ‘ادھر انقرہ میں میڈیاسے گفتگو میں وزیراعظم کاکہناتھاکہ لاہورمیں پیش آنے والا واقعہ افسوس ناک ہے‘ملک میں ایک بار پھر دہشت گردی کی نئی لہر آئی ہے دراصل یہ وہ دہشت گرد ہیں جن کی کمر ٹوٹ چکی تھی مگر وہ اپنے جوہر دکھانے کی کوشش کررہے ہیں لیکن مجھے امید ہے ہم بہت جلد اس لہر پر قابو پالیں گے، عوام حوصلہ رکھیں ہم دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ جیتیں گے‘دہشت گردپاکستان کی ترقی سے خوش نہیں لیکن ہم دہشت گروں کا ہر سطح پر خاتمہ کرکے دم لیں گے اور ان کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے‘وزیر اعظم نے کہا کہ یکم مارچ کو اسلام آبادمیںاقتصادی تعاون تنظیم(ای سی او)کانفرنس ہونے جارہی ہےجو دہشتگردوں کو برداشت نہیں ٗ وہ سمجھتے ہیں کہ ان چیزوں کو کسی نہ کسی طریقے سے سبوتاژ کیا جائے مگر یہ چیزیں سبوتاژ ہونے والی نہیں ٗہمارا ارادہ مصمم ہے ٗ دہشتگردی کے خلاف ڈٹ کر لڑیں گے اس کو ختم کر کے ہی دم لینگے ‘ ملک میں حالیہ دہشت گردی کا تعلق سرحد پارسے ہے‘ہم نے افغان حکام تک شکایت بھی پہنچائی ہے ہم اس کا ضرور حساب لیں گےاور اس کو روکیں گے ‘ ترکی اورچین نے نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں شمولیت پر بہت ساتھ دیا جبکہ کشمیر پر بھی دونوں ممالک پاکستان کے حق میں کھڑے ہوئے لہذا ترکی افغانستان پر بھی اپنا اثرورسوخ استعمال کرے ‘ پاناما کیس کا فیصلہ محفوظ ہونے پر صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا تو وزیراعظم نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔ قبل ازیںمیاں نواز شریف نے کہا کہ ترکی کے دشمن پاکستان کے دشمن ہیں اور دہشت گردی کےخلاف جنگ میں ترکی کی حمایت کرتے ہیں،پاکستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کا تعلق سرحد پارسے ہے۔ وزیر اعظم نے یہ بات پاکستان اور ترکی کے درمیان تزویراتی تعاون کونسل اجلاس کے بعدوزیراعظم بن علی یلدرم کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس اور ترک صدر طیب ایردوان سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی ‘اجلاس میں بہاولپور میں سولر پاور منصوبے، پاکستان اور ترک مسلح افواج کی تربیت میں تعاون کے معاہدہ پر دستخط کیے گئے۔ اس کے علاوہ جنگلات، لائبریریوں کے قیام، ثقافت و سیاحت، ادویات جائزہ سروسز میں تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا گزشتہ سال ترکی میں ہونے والے افسوسناک واقعے میں بغاوت کو ناکام بنانے والے 248 شہداء کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں‘ ترکی کے دشمن پاکستان کے دشمن ہیں اور دہشت گرد ہمارے حوصلے پست نہیں کرسکتے‘ترکی سے توانائی کے شعبے میں تعاون چاہتے ہیں جبکہ پاکستان قبرص کے معاملے پر ترک موقف کی حمایت کرتا ہے اور مسئلہ کشمیر پر ترک عوام کی حمایت کے شکرگزار ہیں۔ ترک وزیراعظم بن علی یلدرم کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ ہیں، دونوں ممالک تعلقات کی 70 ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ قبل ازیں ترک صدر طیب ایردوان سے گفتگومیںوزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کا تعلق سرحد پارسے ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گرد ٹھکانے موجود ہیں جن کی وجہ سے پاکستان کو مشکلات کا سامنا ہے۔انہوں نے ترک صدر سے افغانستان پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کی درخواست کی اور کہا کہ افغان صدر کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکا جائے۔ترک صدر رجب طیب ایردوان نے وزیر اعظم نواز شریف کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close