مقالہ جات

آپریشن ردالفساد

یہ بات شاید کسی کو بھی بتانے کی ضرورت نہیں کہ کسی بھی فساد کا خاتمہ کرنے کے لئے اس کے حقیقی علل و اسباب کا خاتمہ کس قدر ضروری ہے۔ جب تک فساد کے حقیقی علل و اسباب کا تدارک نہ کیا جائے، اس وقت تک فساد کے خاتمے کی کوئی بھی کوشش دیرپا نہیں ہوسکتی۔ یقیناً ہمارے ملک میں ردالفساد کے نام سے شروع کیا جانے والا حالیہ آپریشن اس بنیادی ضرورت کا ادراک رکھتے ہوئے شروع کیا گیا ہوگا۔ قبل ازیں دہشت گردی کے خلاف کئے گئے آپریشن ضرب عضب نے یقیناً دشمن کی کمر توڑی اور اسے بہت سے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم گذشتہ چند دنوں سے دہشت کے بیوپاری اور ملک دشمن عناصر نئے نام اور نئے اہداف کے ساتھ میدان میں وارد ہوئے ہیں۔ دہشت گردی کی پے در پے وارداتوں میں سو سے زیادہ شہریوں کی شہادت کے بعد فوج نے ایک اعلٰی سطح کے اجلاس میں دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے خلاف "ردالفساد” کے نام سے ایک نیا سکیورٹی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا کہ آپریشن "ردالفساد” کا مقصد ملک میں بچے کچھے دہشت گردوں کا بلاتفریق خاتمہ کرنا ہے۔ اس بیان میں کہا گیا کہ آپریشن ردالفساد کا مقصد نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کرنا ہے اور یہ کہ اس آپریشن سے سرحد کی سکیورٹی بھی یقینی بنے گی۔

فوجی حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے شروع ہونے والے اس آپریشن میں پاکستانی فضائیہ، بحریہ، سول فورسز اور دیگر سکیورٹی ادارے بھی حصہ لیں گے۔ اسی بیان میں پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں نیم فوجی دستے یعنی رینجرز کی شمولیت کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ پاکستان کی وفاقی کابینہ نے فوجی آپریشن کے اعلان سے کچھ ہی دیر قبل پنجاب میں رینجرز کو انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں پولیس کی معاونت کے اختیارات دینے کی منظوری دی تھی۔ آئی ایس پی آر کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کوششوں کا مقصد ملک کو اسلحے سے پاک کرنا اور آتشیں مادے پر کنٹرول حاصل کرنا بھی ہے۔ ایک اطلاع کے مطابق شدت پسندوں کے خلاف ملک بھر میں جاری کارروائیوں میں اب تک 1100 سے زائد مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملک بھر اب تک 100 سے زیادہ دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

گذشتہ ہفتے جب دہشت گردوں نے پاکستان کے مختلف شہروں میں چند ایک کامیاب کارروائیاں کیں تو ملک کے طول و عرض میں، میڈیا چینلز پر ضرب عضب کی کامیابی کے عنوان سے چہ مہ گوئیاں ہونے لگیں۔ کامیابی کیا تھی؟ کیسے دہشت گرد اتنی آسانی سے ملک کے مختلف شہروں میں ایک مرتبہ پھر منظم ہوئے اور انہوں نے یکے بعد دیگرے انتہائی مہلک اور گھناونی کارروائیاں انجام دیں، ان کارروائیوں کے پیچھے اصل قوت کون سی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ ہر شخص اپنی سمجھ بوجھ اور تجربہ کی روشنی میں ان واقعات پر تجزیہ کرتا نظر آیا۔ دہشت گردی کے ان واقعات کے بعد کامیابی و ناکامی کی باتیں سامنے آنا کوئی اچھنبے کی بات نہیں، تاہم ایک بات کو بہرحال ملحوظ رکھنا چاہیے کہ ملک کے سیکیورٹی اداروں کی دہشت گردی کے خاتمے کے لئے کی جانے والی مسلل کاوشوں اور قربانیوں کو بھی یکسر نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ دہشت گردوں کی نئی صف بندی اور کارروائیوں سے ایک منطقی بات جو روز روشن کی مانند ایک مرتبہ پھر واضح ہوئی یہ تھی کہ ملک میں فوجی آپریشن کے ساتھ ساتھ فکری و نظری آپریشن کس قدر اہم اور ضروری ہے۔ جب تک دہشتگردوں کی فکری اور نظریاتی نرسریاں موجود ہیں اور انہیں معاشرے میں نرم گوشہ رکھنے والے لوگ دستیاب ہیں، اس وقت تک کوئی بھی فوجی آپریشن خواہ کسی پیمانے پر ہی کیوں نہ ہو، کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتا۔

میں نے اپنے گذشتہ کالم بعنوان ’’اے علمائے اسلام! ہم آپ سے توقع رکھتے ہیں‘‘ میں ملک کی مذہبی اور دینی قیادت سے التماس کی تھی کہ وہ میدان عمل میں اتریں اور اپنے عالم اسلام میں موجود ہم منصب افراد کی مانند دہشت گردی کے خلاف ایک متفقہ موقف اور اعلامیہ جاری کریں، تاکہ فکری میدان میں بھی دہشت گردوں کا گھیراؤ کیا جاسکے اور آپ کی یہ آواز ملک کے سکیورٹی اداروں کی کاوشوں کے لئے بھی نظریاتی و فکری پشتیبانی کا کام کرے، تاہم تاحال ایسی کوئی کاوش سامنے نہیں آئی۔ بہرحال ہمارے ذمہ دستک دینا ہے اور یہ ذمہ داری ملک دوست اہل قلم انجام دیتے رہیں گے۔ اس کالم کے ذریعے میں ضرب عضب، ردالفساد کے ذمہ دار اداروں جو ملک کے طول و عرض میں سالمیت پاکستان کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں، سے گزارش کروں گا کہ کہ وہ فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ فکری و نظری محاذ پر بھی جنگ کا آغاز کریں اور معاشرے میں موجود اس فساد کی نظریاتی و فکری جڑوں کی بیخ کنی کے لئے اپنا کردار ادا کریں، تاکہ فساد کے خلاف اس کار خیر کو حقیقی معنوں میں اپنے منطقی انجام تک پہنچایا جاسکے۔ خداوند کریم وطن عزیز کو حقیقی امن و سکون اور ترقی نصیب فرمائے۔ آمین

تحریر: سید اسد عباس

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close